حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی نماز ِ جنازہ کون پڑھائے گا؟
Question
بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حضرت مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز ِ جنازہ حضرت عیسی علیہ السلام پڑھائیں گے، کیا یہ صحیح ہے یا نہیں ؟ اور کیا کسی حدیث شریف میں اس کی صراحت یا اس کی طرف اشارہ موجود ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
کتبِ احادیث کی ورق گردانی کے باوجود کسی حدیث میں یہ بات دستیاب نہیں ہوئی کہ حضرت مہدی رضی الله عنه کی نماز ِ جنازہ حضرت عیسی علی نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام پڑھائیں گے، ہاں ابو داود شریف کی روایت میں فقط اتنی بات مذکور ہے کہ مسلمان ان کی نماز ِ جنازہ پڑھیں گے۔ البتہ بعض علما سے مروی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ان کی نمازِ جنازہ پڑھائیں گے۔ ابو داود شریف کی روایت ملاحظہ کیجیے:
عن أم سلمة رضي الله عنه زوج النبي ﷺ عن النبي ﷺ قال: يكون اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من أهل المدينة هارباً إلى مكة فيأتيه ناس من أهل مكة
فيلبث سبع سنين ثم يتوفى ويصلي عليه المسلمون. قال أبو داود: قال بعضهم عن هشام "تسع سنين" وقال بعضهم: "سبع سنين". (رقم الحديث، ٤۲۸٦).
لیکن شیخ شعیب الارنؤوط نے اپنی تعلیقات میں لکھا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
شیخ مرعی بن یوسف مقدسی حنبلی اپنی کتاب
"فرائد فوائد الفكر"
میں لکھتے ہیں:
قال: ذكر العلماء أن المهدي يستمر مع عيسى عليه السلام إلى بيت المقدس، فيموت بها، ويصلي عليه هو ومن معه من المسلمين. (فرائد فوائد الفكر في الامام المهدي المنتظر، ص ۳۳۳).
حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی رحمه الله آثارِ قیامت میں لکھتے ہیں:
واضح رہے کہ حضرت مہدی رضی الله عنه کو سات سال عیسائیوں کے فتنہ کو پامال کرنے اور ملک میں عدل و انصاف قائم کرنے میں صرف ہوں گے، اور آٹھواں سال دجال سے جنگ و جدال میں گزرے گا اور نواں سال حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ گزرے گا، اس حساب سے آپ کی عمر ٤۹ سال ہو گی، اس کے بعد حضرت مہدی رضی الله عنه کا وصال ہو جائے گا، حضرت عیسی علیہ السلام آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائیں گے اور آپ کو قبر میں اتاریں گے۔ (آثارِ قیامت، ص
۳٤
)۔
حضرت شاہ رفیع الدین صاحب کے حوالہ سے فتاوی حقانیہ میں بھی مرقوم ہے۔ ملاحظہ ہو۔ (فتاوی حقانیہ:
۱
/
۳۰٤
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.