نمازِ جنازہ پڑھانے کی وصیت پر عمل کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #208Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ میری نمازِ جنازہ فلاں عالمِ دین پڑھائے تو کیا اس وصیت پر عمل ضروری ہوگا، اور وہ عالمِ دین نمازِ جنازہ کے حقدار ہوں گے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

نمازِ جنازہ پڑھانے کی وصیت پر عمل کرنا لازم نہیں ہے بلکہ فقہاء نے لکھا ہے کہ ایسی وصیت باطل ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

قوله والفتوى على بطلان الوصية

عزاه في الهندية إلى المضمرات أي لو أوصى بأن يصلي عليه غير من له حق التقدم أو بأن يغسله فلان لا يلزم تنفيذ وصيته ولا يبطل حق الولي بذلك. (فتاوى الشامي: ۲/۲۲۱، سعيد).

عمدۃ الفقہ میں مذکور ہے:
اگر میت نے وصیت کی کہ فلاں شخص میری نماز پڑھا دے یا فلاں شخص مجھے غسل دے تو وہ وصیت باطل ہے اس کا جاری کرنا لازمی نہیں ہے اور اس وصیت سے ولی کا حق جاتا نہیں رہے گا اسی پر فتوی ہے البتہ ولی کو اختیار ہے کہ خود نہ پڑھائے اور اس سے پڑھوائے، اسی طرح اگر وصیت کی کہ فلاں کپڑے کا کفن دیا جائے یا فلاں جگہ دفن کیا جائے تو یہ وصیت باطل ہے اس پر عمل لازمی نہیں ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۵۲۷) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (کفایت المفتی: ٤/۹۱، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.