بغیر وضو کے نماز ِ جنازہ پڑھانے پر اعادہ کا حکم:
Question
اگر امام نے جنازہ پڑھایا بعد میں معلوم ہوا کہ امام کا وضوء نہیں تھا تو اعادہ ضروری ہے یا نہیں؟ یہ بھی یا در ہے کہ مقتدی حضرات با وضوء تھے ۔
Answer
صورتِ مسئولہ میں نماز ِ جنازہ کا اعادہ ضروری ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں بدائع الصنائع میں ہے:
إنهم لو صلوا على جنازة والإمام غير طاهر فعليهم إعادتها لأن صلاة الإمام غير جائزة لعدم الطهارة فكذا صلا تهم لأنها بناء على صلاته. (بدائع الصنائع: ۲/۳۱۵، سعيد).
در مختار میں ہے:
الطهارة
شرط في حق الميت والإمام جميعاً فلو أم بلا طهارة والقوم بها أعيدت. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۲۰۸، سعيد).
البحر الرائق میں ہے:
ولو صلى الإمام بلا طهارة أعادوا لأنه لا صحة لها بدون الطهارة فإذا لم تصح صلاة الإمام لم تصح صلاة القوم. (البحر الرائق: ۲/۱۷۹، كوئته).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.