نماز ِ جنازہ میں بچہ کی امامت کا حکم:
Question
اگر بچہ نماز ِ جنازہ پڑھا دے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں بچہ کی امامت تو درست نہیں، البتہ اگر بچہ اکیلا نماز پڑھ لے تو دوسروں سے وجوب ساقط ہو جائے گا، علامہ شامی رحمه الله اور محقق ابن ہمام رحمه الله کا یہی رجحان ہے ۔ اگر چہ دیگر بعض حضرات نے فرمایا کہ بچہ کی نماز جنازہ سے وجوب ساقط نہ ہوگا، ملاحظہ ہو علامہ طحطاوی رحمه الله فرماتے ہیں:
در مختار میں ہے:
وبقي من الشروط بلوغ الإمام، تأمل. وقال الطحطاوي: قوله تأمل: أشار بذلك إلى وجه اشتراط البلوغ وذلك أن صلاة الجنازة لا يتنفل بها، والصبي لا يقع فعله فرضاً، فلا تصح صلاة من اقتدى به لعدم صحة اقتداء المفترض بالمتنفل، ولا صلاته لعدم وقوعها فرضاً. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۳۷۱، كوئته).
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں کہ بچہ کی امامت درست نہیں کیوں کہ امامت کے لیے بلوغ شرط ہے، لہذا مقتدیوں کی نماز صحیح نہیں ہو گی، ہاں اکیلے بچہ کی نماز صحیح ہے اور وجوب ساقط ہو جائے گا، اس لیے کہ شریعت میں ایسے بہت سے نظائر موجود ہیں جن میں بچہ کے کر لینے سے دوسروں سے وجوب ساقط ہو جاتا ہے، یعنی بچہ ادائے وجوب کا اہل ہے ۔ چند نظائر مندرجۂ ذیل ہیں:
(۱) چند لوگوں پر سلام کیا گیا تو بچہ کا جواب دینا کافی ہے ۔
(۲) اذان کو بعض نے واجب کہا ہے اور مشہور قول سنتِ مؤکدہ کا ہے، پھر بھی فقہاء نے فرمایا کہ مراہق کی اذان صحیح ہے ۔
(۳) بچہ جمعہ کا خطبہ دے اور بالغ شخص نماز پڑھا دے تو درست ہے جب کہ خطبۂ جمعہ صحتِ صلاۃ کے لیے شرط ہے ۔
(٤) بچہ میت کو غسل دے تو وجوب ساقط ہو جاتا ہے ۔
(۵) بچہ کا اقرار بالشہادتین معتبر ہے ۔
(٦) بچہ کا ذبیحہ کھایا جائے گا، جب کہ بچہ ذبح اور تسمیہ کو سمجھتا ہو ۔
اسی طرح بچہ کی نماز ِ جنازہ بھی صحیح ہے اور وجوب ساقط ہو جائے گا ۔
ملاحظہ فرمائیں علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
قال الأستروشني: الصبي إذا أم في صلاة الجنازة ينبغي أن لا يجوز وهو الظاهر لأنها من فروض الكفاية، وهو ليس من أهل أداء الفرض، لكن يشكل برد السلام إذا سلم علي قوم فرد صبي جواب السلام. أقول: ويشكل علي ذلك ما مر من مسألة السلام، وتصريحهم بجواز أذان الصبي المراهق بلا كراهة مع أنه قيل بأن الأذان واجب، والمشهور أنه سنة مؤكدة قريبة من الواجب في لحوق الإثم، وتصريحهم بأنه لو خطب صبي له منشور يوم الجمعة، وصلي بالناس بالغ جاز، وتصريحهم بأنه تحل ذبيحته إذا كان يعقل الذبح والتسمية أي يعلم أنها مأمور بها، وكذا ما صرح به الأستروشني من أن الصبي إذا غسل الميت جاز، ولعل معني قولهم إنه ليس من أهل الوجوب، إنه غير مكلف به، ولا ينافي ذلك وقوعه واجباً، وسقوط الوجوب عن المكلفين بفعله يؤيد ذلك ما صرح به في الفتح من باب المرتد، من أنهم اتفقوا علي أن الصبي لو أقر بالشهادتين يقع فرضاً ويلزمه تجديد إقرار آخر بعد البلوغ حتى علي قول من ينفي وجوب الإيمان علي الصبي، فصار كالمسافر لا تجب الجمعة عليه، ولو صلاها، سقط فرضه،
. والاكتفاء بأذانه وخطبته، وتسميته ورده السلام دليل علي الاكتفاء بصلا ته علي الجنازة
ومن هذا يظهر أنه لا تصح إمامته في الجنازة أيضاً وإن قلنا بصحة صلا ته وسقوط الواجب بها عن المكلفين، لأن الإمامة للبالغين من شروط صحتها البلوغ، هذا ما ظهر لي في تقرير هذا المحل، فاغتنمه فإنك لا تظفر به في غير هذا الكتاب، والحمد لله الملك الوهاب. (الشامي: ۱/۵۷۷، مطلب الواجب كفاية هل يسقط بفعل الصبي وحده؟ سعيد. و ۲/۲۰۸، مطلب هل يسقط فرض الكفاية بفعل الصبي؟ سعيد. وكذا في جامع أحكام الصغار علي هامش جامع الفصولين: ۱٦، إسلامي كتب خانه).
علامہ ابن ہمام رحمه الله "التحریر فی اصول الفقہ" میں فرماتے ہیں:
واعلم أنه إذا قيل صلاة الجنازة واجبة أي فرض على الكفاية كما صرح به غير واحد من الحنفية والشافعية وحكوا الإجماع عليه فقد يستشكل بفعل الصبي، والجواب عن هذا بما تقدم من أن المقصود الفعل وقد وجد، لا يدفع الوارد من لفظ الوجوب فإنه لا وجوب علي الصبي. (التحرير في أصول الفقه مع التقرير والتحبير: ۲/۱۷٦، باب في الأحكام، بيروت).
نیز علامہ شامی رحمه الله "منحۃ الخالق" میں فرماتے ہیں:
أقول: وظاهر كلام التحرير السقوط أي (سقوط الوجوب) حيث ذكر الحكم ولم يعزه للشافعية، تأمل. (منحة الخالق حاشية علي البحر الرائق: ۲/۱۷۹، فصل السلطان احق بصلاته، كوئته).
بہشتی گوہر میں ہے:
اگر ایک شخص جنازے کی نماز پڑھ لے تو فرض ادا ہو جائے گا، خواہ وہ عورت ہو یا مرد بالغ ہو یا نابالغ ۔ (بہشتی گوہر گیارہواں حصہ: ۹۳) ۔
نیز ملاحظہ ہو:
لامع الدراري: ۲/۱۲۳).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.