آخری دور میں امتِ مسلمہ پر مصائب کی پیشین گوئیاں:

16 min readFatwa Vol 8 #225Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

حضرت مفتی صاحب آپ سے ایک سوال دریافت کرنا چاہتا ہوں؛ میرے دوست نے مجھے کہا کہ آخری زمانہ میں اِس امت کا حال بہت برا ہو گا، حتی کہ ہر طرف سے دشمن اس پر حملہ آور ہو گا۔ اس کے بارے میں جو روایات اور احادیث مروی ہیں، میں ان کو جاننا چاہتا ہوں؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ آخری دور میں امتِ مسلمہ پر شدائد اور مصائب کے بارے میں کچھ احادیث مروی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آخری زمانہ میں امتِ مسلمہ میں کوئی خیر ہی نہیں رہے گی بلکہ اس کے بر خلاف دیگر روایات بھی مروی ہیں جن میں امتِ مسلمہ کی ترقی اور خیر کی نشاندہی فرمائی گئی ہے۔
پہلے وہ روایات ملاحظہ کیجیے جن میں شدائد اور مصائب کا تذکرہ ہے:

(
۱
) عن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إنه تصيب أمتي في آخر الزمان من سلطانهم شدائد لا ينجو منه إلا رجل عرف دين الله فجاهد عليه بلسانه ويده وقلبه فذلك الذي سبقت له السوابق ورجل عرف دين الله فصدق به ورجل عرف دين الله فسكت عليه فإن رأي من يعمل الخير أحبه عليه وإن رأي من يعمل بباطل أبغضه عليه فذلك ينجو على ابطانه كله. (مشكاة المصابيح: ۲/٤۳۸، باب الامر بالمعروف، ط: قديمي). أخرجه الإمام البيهقي في شعب الإيمان، رقم: ۷۱۸۱. إسناده ضعيف.

ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت کو آخری زمانہ میں اپنے حکم رانوں کی طرف سے سختیاں اور بلائیں پہنچے گی، اور اِن سختیوں سے نجات پانے والا اول تو وہ شخص ہو گا، جو خدا کے دین کو سمجھ کر دین کی سربلندی کے لیے اپنی زبان، ہاتھ اور دل کے ذریعہ جہاد کرے گا، پس یہ وہ شخص ہو گا جو کمالِ ایمان، اجرو ثواب اور دنیا و آخرت کی سعادتوں کو پہنچے گا۔ اور دوسرا وہ شخص ہو گا جو خدا کے دین کو سمجھ کر دین کی تصدیق کرے گا، اور اس کو اچھا جانے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہو گا جو خدا کے دین کو سمجھ کر سکوت اختیار کرے گا، کسی کو نیک کام کرتے ہوے دیکھ کر خوش ہو گا اور پسند کرے گا اور برا کام کرتے ہوے دیکھ کر اس سے نفرت کرے گا، پس یہ شخص بھی اپنی پوشیدہ تدبیر پر نجات پا جائے گا۔

(
۲
) عن عمير بن هانئ العنسي قال: سمعت عبد الله بن عمر رضي الله عنه يقول: كنا قعوداً عند رسول الله ﷺ فذكر الفتن فأكثر في ذكرها حتى ذكر فتنة الأحلاس فقال قائل: يا رسول الله! وما فتنة الأحلاس؟ قال: هي هرب وحرب ثم فتنة السراء دخنها من تحت قدمي رجل من أهل بيتي يزعم أنه مني وليس مني وإنما أوليائي المتقون ثم يصطلح الناس على رجل كورك على ضلع ثم فتنة الدهيماء لا تدع أحداً من هذه الأمة إلا لطمته لطمة فإذا قيل: انقضت تمادت، يصبح الرجل فيها مؤمناً ويمسي كافراً حتى يصير الناس إلى فسطاطين فسطاط إيمان لا نفاق فيه وفسطاط نفاق لا إيمان فيه فإذا كان ذاكم فانتظروا الدجال من يومه أومن غده. (سنن أبي داود، رقم: ٤۲٤۲، باب ذكر الفتن ودلائلها).
قال الشيخ شعيب: رجاله ثقات رجال الصحيح غير العلاء بن عتبة فقد روي له أبو داود ٤۲٤۲، هذا الحديث ووثقه ابن معين والعجلي وقال أبو حاتم: شيخ صالح الحديث وذكره ابن حبان وابن شاهين في الثقات. (
تعلیقات الشیخ شعیب علی مسند الامام احمد، رقم: ٦۱٦۸)۔
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
کہتے ہیں کہ (ایک دن) ہم نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوے تھے کہ آپ ﷺ نے (آخر زمانہ میں ظاہر ہونے والے) فتنوں کا ذکر شروع فرمایا اور بہت سارے فتنوں کو بیان کیا، یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا ذکر شروع فرمایا۔ ایک شخص نے پوچھا کہ فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ بھاگ دوڑ اور جنگ و قتال ہے۔ پھر فتنہ سراء ہو گا، اس فتنہ کی تاریکی اور تباہی کا سبب وہ شخص ہو گا جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا، اس شخص کا گمان تو یہ ہو گا کہ وہ میرے اہل بیت میں سے ہے، لیکن در حقیقت وہ میرے اَپنوں میں سے نہ ہو گا، بالیقین میرے دوست اور میرے اپنے لوگ وہ ہیں جو پرہیز گار ہوں، بعد ازاں لوگ ایک ایسے شخص کی بیعت پر اتفاق کر لیں گے جو پسلی کے اوپر کولہے کی مانند ہو گا، (یعنی غیر اہل کو امیر بنانے کی طرف اشارہ ہے) پھر فتنہ دہیماء رونما ہو گا؛ یہ فتنہ امت میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گا جس پر اس کا طمانچہ نہ لگا ہو، (یعنی یہ فتنہ عالم گیر ہو گا اس کی زد سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا)، جب پوچھا جائے گا کہ فتنہ ختم ہو چکا تو اور طول پکڑ لے گا، اُس وقت آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اُٹھے گا اور شام کو کافر ہو جائے گا اور یہ صورتِ حال جاری رہے گی تا آنکہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہو جائیں گے؛ ۱۔ ایک خیمہ ایمان کا ہو گا کہ اس میں نفاق نہیں ہو گا، ۲۔ اور دوسرا خیمہ نفاق کا ہو گا کہ اس میں ایمان نہیں ہو گا، پس جب یہ صورتِ حال ظاہر ہو جائے گی تو اس دن یا اگلے دن دجال ظاہر ہونے کے انتظار میں رہنا۔

(
۳
) عن ثوبان رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: يوشك الأمم أن تداعي عليكم كما تداعي الأكلة إلى قصعتها، فقال قائل: ومن قلة نحن يومئذٍ قال: بل أنتم يومئذٍ كثير ولكنكم غثاء كغثاء السيل ولينزعن الله من صدوركم المهابة منكم وليقذفن الله في قلوبكم الوهن. فقال قائل: يا رسول الله! وما الوهن قال: حب الدنيا وكراهية الموت. (سنن أبي داود، رقم: ٤۲۹۷). قال الشيخ شعيب: إسناده حسن. وهذا اسناد ضعيف لجهالة أبي عبد السلام. واسمه صالح بن رستم. (التعليقات على سنن أبي داود: ٦/۳۵۵/٤۲۹۷).

ترجمہ: حضرت ثوبان
رضي الله عنه
نقل کرتے ہیں؛ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ کفر و ضلالت سے بھر پور لوگوں کا گروہ آپس میں ایک دوسرے کو تم سے لڑنے اور تمہاری شان و شوکت کو مٹانے کے لیے بلائے گا، جیسا کہ کھانے کے دسترخوان پر جمع ہونے والے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو کھانے کے قاب کی طرف متوجہ کرتے ہیں، ایک شخص نے عرض کیا! کیا اُس وقت تعداد میں ہم کم ہوں گے؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہاری تعداد تو اُس وقت بہت ہو گی لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے پانی کے جھاگ کی سی ہو گی، اور یقیناً اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب اور ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن پیدا فرما دے گا۔ کسی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہن کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے بیزاری۔

(
٤
) عن سعد رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ مر بمسجد بني معاوية دخل فركع فيه ركعتين وصلينا معه ودعا ربه طويلاً ثم انصرف فقال: سألت ربي ثلاثاً فأعطاني ثنتين ومنعني واحدة، سألت ربي أن لا يهلك أمتي بالسنة فأعطانيها وسألته أن لا يهلك أمتي بالغرق فأعطانيها وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم فمنعنيها. (رواه مسلم، ۲۸۹۰).

ترجمہ: حضرت سعد
رضي الله عنه
بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ کا گزر بنی معاویہ کی مسجد کے قریب سے ہوا تو آپ مسجد میں تشریف لائے، اور دو رکعت نماز ادا فرمائی، ہم بھی آپ کے ساتھ شریکِ نماز ہوئے، نماز کے بعد آپ ﷺ نے لمبی دعا فرمائی، فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا: میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزیں مانگی، ان میں سے دو چیزیں مل گئیں، اور ایک سے منع کر دیا گیا، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت قحط سالی میں ہلاک نہ ہو جائے، یہ دعا قبول ہوئی، دوسری درخواست میں نے یہ کی تھی کہ میری امت کو پانی میں غرق کر کے ہلاک نہ کیا جائے، یہ بھی منظور ہوئی، تیسری درخواست یہ کی تھی کہ میری امت آپس میں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی نہ کریں، یہ درخواست قبول نہیں ہوئی۔

(
۵
) عن عبد الرحمن بن عبد رب الكعبة قال: سمعت عبد الله بن عمرو يحدث في ظل الكعبة قال: كنا مع رسول الله ﷺ في سفر فمنا من ينتضل ومنا من هو في مجشره ومنا من يصلح خباء ه إذ نودي بـ "الصلاة جامعة" فاجتمعنا فإذا رسول الله ﷺ يخطب يقول: لم يكن قبلي نبي إلا كان حقاً على الله أن يدل أمته على ما هو خير لهم وينذرهم ما يعلم أنه شر لهم وأن هذه الأمة جعلت عافيتها في أولها وسيصيب آخرها بلاء فتجيء فتنة المؤمن فيقول: هذه مهلكتي ثم تجيء فيقول: هذه مهلكتي ثم تنكشف فمن أحب منكم أن يزحزح عن النار ويدخل الجنة فلتدركه منيته وهو يؤمن بالله واليوم الآخر وليأت الذي يحب أن يؤتي إليه. الحديث. (صحيح ابن حبان، رقم: ۵۹٦۱). قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده صحيح على شرط مسلم.

اس روایت سے بھی پتا چلتا ہے کہ آخری زمانہ میں امت مصائب اور فتن کا شکار ہو گی۔
مذکورہ بالا روایات سے نا امید اور پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ نبی آ کرم ﷺ نے آخری زمانہ میں امتِ مسلمہ کی بہتری اور دین پر قائم رہنے کی بشارتیں بھی ارشاد فرمائی ہیں:
۱
ـ عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "مثل أمتي مثل المطر لا يدري أوله خير أو آخره. (رواه الترمذي، رقم: ۲۸٦۹، وقال: هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه).

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا حال بارش کی طرح ہے، جس کے بارے میں معلوم نہیں کہ اس کا اول بہتر ہے یا اس کا آخر بہتر ہے۔
۲
ـ عن جعفر عن أبيه عن جده رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "أبشروا وأبشروا إنما مثل أمتي مثل الغيث لا يدري آخره خير أم أوله أو كحديقة أطعم منها فوج عاماً ثم أطعم منها فوج عاماً لعل آخرها فوجاً أن يكون أعرضها وأعمقها عمقاً وأحسنها حسناً كيف تهلك أمة أنا أولها والمهدي وسطها والمسيح آخرها ولكن بين ذلك فيج أعوج ليسوا مني ولا أنا منهم. رواه رزين. (مشكاة المصابيح: ۲/۵۸۳، ط: قديمي).

ترجمہ: حضرت جعفر اپنے والد (محمد باقر) سے اور اپنے دادا (علی زین العابدین) سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خوش خبری حاصل کر لو! خوش خبری حاصل کر لو! میری امتِ اجابت کی مثال بارش کی مانند ہے، جس کے بارے میں معلوم نہیں کہ اس کا آخر بہتر ہے یا اول، یا میری امت کی مثال ایک باغ کی مانند ہے، جس سے ایک سال ایک جماعت نے کھایا اور دوسرے سال ایک جماعت نے کھایا، ممکن ہے وہ جماعت جس نے آخر میں باغ سے کھایا ہے چوڑائی اور گہرائی میں پہلی کے مقابلہ میں زیادہ ہو اور خوبیوں میں بھی اس سے بہتر ہو، بھلا وہ امت کیونکر ہلاک ہو سکتی ہے جس کا اول میں ہوں، اور درمیان مہدی ہوں گے اور آخر میں عیسی علیہ السلام ہوں گے۔ ہاں ان کے درمیان میں ایک کج رو جماعت پیدا ہو گی، اس جماعت کے لوگ میرے طریقہ پر نہیں ہوں گے اور میں بھی ان سے براء ت کا اظہار کرتا ہوں۔
۳
ـ عن عبد الرحمن بن العلاء الحضرمي قال: حدثني من سمع النبي ﷺ يقول: إنه سيكون في آخر هذه الأمة قوم لهم مثل أجر أولهم يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر ويقاتلون أهل الفتن. (أخرجه البيهقي في دلائل النبوة، رقم: ۲۸۷٤).

ترجمہ: عبد الرحمن بن علاء حضرمی رحمه الله کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث ایسے شخص نے بیان کی جس نے نبی ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: یقیناً اِس امت کے آخری دور میں ایک ایسی جماعت پیدا ہو گی جس کا ثواب اِس امت کے ابتدائی دور کے لوگوں کے ثواب کے مثل ہو گا، اس جماعت کے لوگ مخلوقِ خدا کو شرعی امور کی تبلیغ کریں گے، اور خلاف شریعت باتوں سے باز رہنے کی تلقین کریں گے، اور فتنہ پردازوں سے مقابلہ کریں گے۔
٤
ـ عن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين حتى يأتيهم أمر الله وهم ظاهرون. (صحيح البخاري، رقم: ۷۳۱۱).

ترجمہ: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنه نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ غالب اور فتح یاب رہے گی، حتی کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اسی طرح غالب ہوں گے۔ یا یہ جماعت دین پر جمی رہے گی۔
۵
ـ عن أبي ثعلبة

قال رسول الله ﷺ:

: للعامل فيهن مثل أجر خمسين رجلاً يعملون مثل عمله، قالوا: يا رسول الله أجر خمسين منهم؟ قال: أجر خمسين منكم. (أخرجه ابن حبان في صحيحه، رقم: ۳۸۵، وأبو داود، رقم: ٤۳٤۳، والترمذي، رقم: ۳۰۵۸، وقال: هذا حديث حسن غريب، والبيهقي في شعب الإيمان، رقم: ۹۲۷۸).

ترجمہ: ان (فتنہ کے) دنوں میں جو شخص دین و شریعت کے احکام پر عمل کرے گا اس کو ان پچاس لوگوں کے عمل کے برابر ثواب ملے گا جو اس شخص جیسے عمل کریں، صحابہ کرام رضي الله عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ان کے زمانہ کے پچاس آدمیوں کے اجر کے بقدر؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے زمانہ کے پچاس آدمیوں کے بقدر ثواب ملے گا۔
نوٹ: بعض احادیث کے ترجمے مظاہر حق جدید سے کچھ ترمیم کے ساتھ ماخوذ ہیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.