تفسیر بالرائے کا حکم:

14 min readFatwa Vol 1 #98Urdu
Vol. 1كتاب التفسير والتجويدآیاتِ قرآنی کی تفسیر و تشریح اور تجوید سے متعلق مسائل

Question

یہاں لوڈیم میں ایک فتنہ عرصہ سے چل رہا ہے وہ ہے تفسیر بالرائے کا یونیورسٹی کے طلبہ طالبات تاجر ملازمت پیشہ حضرات درس قرآن کے لیے جمع ہو تے ہیں، ایک شخص قرآن کریم کی ایک آیت پڑھتا ہے پھر کسی بھی ترجمہ یا تفسیر سے ترجمہ کرتا ہے پھر مجلس میں بیٹھے ہوے لوگوں سے ایک ایک کر کے کہتا ہے کہ آپ بتائیں آپ کی کیا رائے ہے اس آیت کے بارے میں، آپ کے خیال میں اس آیت سے کیا ثابت ہو تا ہے؟ غرض اس طرح تفسیر چل پڑی ہے اور وہ لوگ اسے درس قرآن سے موسوم کرتے ہیں ۔
آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مہربانی فرما کے یہ بتائیں کہ شریعت کی رو سے تفسیر بالرائے کا حکم کیا ہے؟ اپنی سمجھ و عقل سے اس طرح تفسیر کرنا جو سوال میں درج کی گئی ہے کیا درست ہے؟ مفصل و مدلل جواب مرحمت فرمائیں ۔

Answer

مفتی عبد الرحیم صاحب فرماتے ہیں:
درس قرآن کا یہ طریقہ جو سوال میں مذکور ہے در حقیقت یہ درس قرآن نہیں ہے بلکہ تحریفِ قرآن کا ناروا مشغلہ ہے جس کی پیشین گوئی حضرت معاذ بن جبل رضي اللہ عنہ نے فرمائی ہے ۔
بذل المجہود شرح ابو داود میں حضرت معاذ بن جبل رضي اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ "تمہارے بعد فتنوں کا زمانہ آنے والا ہے ما ل کی کثرت ہو جائے گی اور قرآن عام ہو جائے گا حتی کہ اس کو مؤمن منافق، مرد عورت بڑا اور چھوٹا، غلام اور آزاد سب پڑھنے لگیں گے ( اور خود کو ماہر قرآن سمجھنے لگیں گے) ایک کہنے والا ک ہے گا کہ لوگ میری اتباع کیوں نہیں کرتے حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے یہ اس وقت تک میری اتباع نہیں کریں گے جب تک میں کوئی نئی بات نہ گھڑوں (یعنی تفسیر بالرائے نہ کروں) اس کے بعد حضرت معاذ بن جبل رضي اللہ عنہ نے فرمایا اپنے کو نئی نئی بدعتوں سے بچاتے رہو کیونکہ جو بدعت نکالی جائے گی گمراہ ہو گی ۔ (
بذل المجهود شرح أبو داود: ۸/۱۹۱).

لہذا جو شخص اپنے ذہن اور دماغ کی قوت سے قرآن کے من پسند مطالب کی اختراع کرتا ہے اور من پسند تفسیر کرتا ہے وہ قرآن کی تحریف کے درپے ہے اور بدترین قسم کا گمراہ ہے اور فرمانِ نبوی حضرت محمد
ﷺ "ضلوا فأضلوا"
کا صحیح مصداق ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
٤
/
۱۲۰
) ۔
یہ پرویزیوں اور منکرین حدیث کا طریقہ ہے اس مجلس میں حصہ لینا اور شرکت کرنا جائز نہیں اگر ان کے سامنے یہ آیت کریمہ آ جائے
﴿فلا جناح عليكم إن تقصروا من الصلوة إن خفتم إن يفتنكم الذين كفروا﴾
تو وہ سب کہتے ہیں کہ قصر سفر کی وجہ سے نہیں فتنہ کے خوف کی وجہ سے ہے حالانکہ آنحضور ﷺ نے سفر میں ہمیشہ قصر فرمایا ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
تفسیر لکھنے کے لیے پندرہ علوم میں مہارت تامہ کا ہونا ضروری ہے (۱) علم لغت (۲) علم نحو (۳) علم صرف (٤) علم اشتقاق (۵) علم معانی (٦) علم بیان (۷) علم بدیع (۸) علم القراءت (۹) علم اصول الدین (۱۰) علم اصول فقہ (۱۱) اسباب النزول و القصص (۱۲) ناسخ منسوخ (۱۳) علم فقہ (۱٤) علم حدیث (۱۵) علم الموہبۃ ۔ (احسن الفتاوی
۱
/
۵۰۱
) ۔
حضرت مفتی محمد تقی صاحب تحریر فرماتے ہیں:

﴿هو الذي بعث في الأميين رسولاً منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة﴾

ترجمہ: وہی ہے جس نے نا خواندہ لوگوں میں انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو پاک کرتے ہیں اور ان کو کتاب اور دانشمندی سکھلاتے ہیں ۔ (۲/ ٦۲) ۔
یہی وہ مقاصد ہیں جن کی رسول اللہ ﷺ کو سونپے جانے کی دعا سید نا ابراہیم عليہ السلام نے فرمائی تھی، قرآن کریم میں یہ دعا اس طرح مذکور ہے ۔

﴿ربّنا وابعث فيهم رسولاً منهم يتلوا عليهم آياتك ويعلمهم الكتاب والحكمة ويزكيهم﴾

ترجمہ: اے ہمارے پروردگار اور اس جماعت کے اندر انہی میں سے ایک ایسے پیغمبر بھی مقرر کیجیے جو ان لوگوں کو آپ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کریں اور ان کو کتاب کی اور خوش فہمی کی تعلیم دیا کریں اور ان کو پاک کر دیں (
۲
/
۱۲۹)

محولہ بالا آیات میں مندرجہ ذیل چار واضح اور جداگانہ فرائض کی ذمے داریاں رسول اللہ ﷺ کو سونپی گئی ہیں ۔
(١)کتاب اللہ کی آیات پڑھ کر سنانا (
يتلوا عليهم آياته)

(٢)کتاب کی تعلیم (
يعلمهم الكتاب)

(٣)حکمت کی تعلیم (
والحكمة)

(٤) تزکیہ (
ويزكيهم)

چنانچہ قرآن حکیم نے اس بارے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کہ رسول اللہ ﷺ کے ذمے یہی نہیں ہے کہ محض آیات کو پڑھ کر سنا دیں اور اس کے بعد لوگوں کو کھلی چھٹی دے دیں کہ وہ جس طرح چاہیں اس کی تشریح کریں اور جس طرح چاہیں اس پر عمل کر لیا کریں، بلکہ اس کے برعکس آپ کو کتاب اللہ کی تعلیم کے لیے بھی بھیجا گیا ہے، پھر چونکہ محض کتاب اللہ کی تعلیم ہی کا فی نہ تھی لہذا آپ کے ذمے یہ بھی ہے کہ لوگوں کو حکمت کی تعلیم دیں جو کتاب کے علاوہ ایک اضافی چیز ہے پھر اسی پر بس نہیں بلکہ رسالت مآب ﷺ کو لوگوں کو تزکیہ کرنے کا فریضہ بھی سونپا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ کتاب اللہ اور حکمت کی نظریاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کی عملی تربیت کا بھی انتظام کیا جائے تاکہ لوگ کتاب اللہ اور حکمت کی تعلیمات پر اس طریقے سے عمل پیرا ہو سکیں جو اللہ تعالی کی رضا مندی کے مطابق ہے ۔
قرآن کریم کی یہ آیت رسالت مآب ﷺ کی ذات اقدس کے لیے مندرجہ ذیل چار وظائف بیان کرتی ہے ۔
(۱) قرآن پاک کی تلاوت اور پڑھنے کے طریقے کے بارے میں آپ ﷺ کا طریقہ حجت ہے ۔
(۲) کتاب اللہ کی تشریح کے بارے میں آپ کی بات حرف آخر ہے ۔
(۳) دینی رہنمائی پر مبنی حکمت سیکھنے کے لیے آپ ﷺ کی ذات واحد سر چشمہ ہے ۔
(٤) اپنی تعلیمات کو رو بہ عمل لا نے کے لیے لوگوں کی عملی تربیت کا فریضہ آپ کو سونپا گیا ہے ۔
نبی اکرم ﷺ کے ان فرائض و مقاصد کی انجام دہی کے لیے یہ لا زمی تھا کہ آپ ﷺ کی تعلیمات خواہ زبانی ہوں یا عملی، آپ ﷺ کے ماننے والوں کے لیے واجب الاطاعت ہوں اور وہ مسلمان جو آپ ﷺ کے زیر تربیت ہیں آپ ﷺ کی بات ماننے اور اس پر عمل کرنے کے پابند بنا دیے جائیں مندرجہ بالا فرائض میں سے "۲ اور ۳" یعنی کتاب اور حکمت کی تعلیم کا لا زمی تقاضا ہے کہ آپ کے ارشادات آپ کے ماننے والوں کے لیے واجب العمل ہوں جب عملی تربیت کا فریضہ "٤" اس کا متقاضی ہے کہ آپ کے افعال امت کے لیے ایک مثال ہوں اور امت ان کی پیروی کرنے پابند ہو ۔
یہ محض ایک منطقی استنباط نہیں ہے جو قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیات سے اخذ کر لیا گیا ہو، بلکہ یہ قرآن کریم کی بے شمار آیات کے واضح احکام ہیں جن کے تحت مسلمانوں پر پیغمبر عليہ السلام کی اطاعت اور پیروی لا زم کی گئی ہے ان احکام کے سلسلے میں قرآن حکیم نے دو مختلف اصطلاح استعمال کی ہیں یعنی (۱) اطاعت (بات ماننا) اور (اتباع (پیروی کرنا ) پہلی اصطلاح کا تعلق رسول اللہ ﷺ کے احکامات اور ارشادات سے ہے جب کہ دوسری اصطلاح آپ عليہ السلام کے افعال و اعمال سے متعلق ہے اس طرح مسلمانوں کو اطاعت اور اتباع کا حکم دے کر قرآن کریم نے آپ کے ارشادات اور افعال دونوں کو حتمی حجت قرار دے دیا ہے ۔ (حجیت حدیث ص
۱۰
۔
۱۲)

خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم ایک جامع و مکمل کتاب ہے، قرآن کی جامعیت کا یہ مفہوم تو شاید کسی کے نزدیک نہ ہو گا کہ وہ تعلیم اور توضیح کا محتاج نہیں اور لوگ اپنی سمجھ اور عقل سے بلا کسی (بحیثیت) رسول کی تعلیم کے اس کے مطالب و مراد سمجھ لیں، اگر ایسا ہی ہو تا تو قرآن کریم مسلمانوں کے گھروں میں اتار دیا جاتا اور حکم ہو تا کہ اسے پڑھو اور میری رضاء حاصل کرو! حالانکہ واقعہ اس کے بالکل خلاف ہے، آپ ﷺ کو پہلے بھیجا گیا پھر قرآن کو نازل کیا گیا یعنی پہلے معلم کو بھیجا پھر تعلیم بھیجی گئی اس لیے قرآن کے اتر نے میں تئیس سال لگ گئے اور معلم کی صرف یہ ذمہ داری نہ تھی کہ پڑھ کر سنا دے بلکہ قرآن کی تعلیمات پے عمل بھی کروا کے دکھا دے اسی لیے قرآن کے اترنے میں تئیس سال لگ گئے، ہدایت یافتہ بن گئے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور پوری دنیا کے لیے نمونہ بن گئے، اسی لیے رب العزت نے اپنے محبوب ﷺ کے فرماں بردار شاگردوں کی سند اپنے قرآن میں جاری کر دی کہ جہاں میری کتاب اور محبوب کی باتیں تا قیامت کے لیے زندہ رہیں گی وہاں یہ سند بھی قائم ر ہے اور وہ سند تھی
﴿رضي الله عنهم ورضوا عنه﴾
اس سند کے پیچھے حضور اکرم ﷺ کی تئیس سالہ محنت، اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانی شامل تھی، مسجد نبوی ﷺ میں سب سے پہلے تعلیم کا حلقہ قائم ہوا جو آج تک قائم ہے اگر قرآن سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان کی معرفت اور تھوڑی بہت عقل ہی کا فی ہو تی تو آج کے بھٹکے ہوے عجمیوں سے زیادہ وہ عرب مستحق تھے جن کی عربی ایسی کہ سینکڑوں اشعار کھڑے کھڑے فی البدہیہ کہ دیتے تھے، اور عقل اور حافظہ کا یہ عالم تھا کہ ہزاروں اشعار زبانی یاد ہوا کرتے تھے، حضرت ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ کو ۵۳۷٤ حدیثیں زبانی یا د تھیں مگر تاریخ کے کسی بھی صفحے پے کو ئی یہ بات جان بوجھ کر بھی نہیں لکھ سکا کہ انہوں نے یہ کہا ہو کہ میرے لیے قرآن کا فی ہے میں خود اسے سمجھ کر ہدایت پالوں گا کسی بھی صحابی سے کوئی ایسا قول ثابت نہیں کہ جس میں ایسا کوئی مفہوم چھپا ہو ۔
در حقیقت یہ دشمنان اسلام کی ایک انتہائی خطرناک سازش ہے دشمنان اسلام تو روز اول سے اسلام کو مٹانے کی کوشش میں ہیں مگر ناکام ر ہے پھر اسے یگاڑنے بگاڑنے کی کوششوں میں لگے ر ہے جو کبھی محبان آل بیعت کے نعرے سے کی گئی کبھی عاشقانِ رسول ﷺ کے نعرے سے کی گئی تو کبھی غیر مقلدیت کے نعرے سے مگر اس کے با وجود وہ اپنی منزل نہ پاس کے تو پھر آخری کوشش یہ کی گئی کہ اسلام کی فانوس کو ادھر ادھر سے توڑنے کے ب جائے پورے کے پورے زمیں پے دے مارو بکھیر دو اتنا بکھیرو کہ کوئی اسے سمیٹ بھی نہ س کے اور نعرہ اہل قرآن کا دعوی بھی اسے سازش کی بنیاد ی اور بہت اہم کڑی ہے، سادہ لوح مسلمانوں کو یہ کہ کے جمع کیا جاتا ہے کہ آؤ قرآن پڑھیں، اس سے ہدایت لیں، ہ میں کسی مولوی کی ضرورت نہیں، حالانکہ نعرہ لگانے والا خود بھی قرآن پڑھانے کے بنیادی اصولوں سے واقف نہیں ہو تا آخر میں جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ یہ کہ جن لوگوں نے یہ کام شروع کیا ہے وہ کبھی بھی حق قبول نہیں کریں گے ۔،
﴿ختم الله على قلوبهم﴾
والی آیت ان لوگوں پہ بالکل سچی ثابت ہو تی ہے ہا ں وہ لوگ جو نئے نئے ان لوگوں کے پاس اٹھتے بیٹھتے ہیں اگر انہیں سمجھا یا جائے تو وہ توبہ کر لیتے ہیں ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.