قرآنِ کریم کو پاروں اور احزاب میں تقسیم کرنا :

8 min readFatwa Vol 1 #115Urdu
Vol. 1كتاب التفسير والتجويدآیاتِ قرآنی کی تفسیر و تشریح اور تجوید سے متعلق مسائل

Question

قرآن کریم کے تیس پارے کس نے اور کیوں مقرر کیے گئے ہیں، بعض ناقدین نے اپنے بعض رسالوں میں لکا ہے کہ یہ
﴿كما أنزلنا على المقتسمين الذين جعلوا القرآن عضين﴾،
کا مصداق ہے یعنی ہم نے ان لوگوں پر عذاب نازل کیا جنہوں نے اپنی کتابوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا، یہ بھی قرآن کریم کو ٹکڑے کرنا ہے یہاں تک کہ
﴿ربما يود الذين كفروا﴾
سے پارہ شروع کر دیا اور اس سے ایک سطر پہلے قدرتی اسٹیشن سورت کو چھوڑ دیا؟

Answer

قرآنِ کریم کو تیس پاروں میں تقسیم کرنے کا اشارہ جو صراحت کی طرح ہے خود قرآنِ کریم میں ملتا ہے، بخاری شریف کی لمبی حدیث ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضي اللہ عنہ کو یہ نصیحت فرمائی: "
اقرأ القرآن في شهر قال: إني أطيق أكثر فما زال حتى قال: في ثلاث". (صحيح البخاري: ۲/۲٦۵، باب صوم يوم وإفطار يوم).

یعنی رسول اللہ ﷺ کی تمنا یہ تھی کہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضي اللہ عنہ ایک ماہ میں قرآن کریم ختم کرے جب قرآن کریم کو تیس دن پر تقسیم کریں تو تیس پارے ہو جائیں گے کیونکہ جب مہینہ کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے عام طور پر عادۃً اور غالباً تیس دن مراد ہوتے ہیں، اگر کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو عدت ایک سو تیس دن ہے، الا یہ کہ حاملہ ہو تو وضعِ حمل ہے یا چاند کی پہلی تاریخ کو انتقال ہوا ہو تو چاند کے حساب سے چار ماہ دس دن ہوں گے، اگر کسی حیض سے نا امید عورت کو طلاق دی جائے اس کی عدت ۹۰ دن ہیں الا یہ کہ چاند کی پہلی تاریخ کو طلاق دی ہو تو پھر چاند کا حساب ہوگا، ۲۹ دن ہو یا ۳۰ دن اس لیے کہ جب آنحضرت ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ علیحدگی کا فیصلہ فرمایا تھا اور ۲۹ دن کے بعد بالا خانہ سے اتر کر تشریف لائے تو ازواجِ مطہرات کو تعجب ہوا کیونکہ ان کے ذہن میں مہینے کا تصور ۳۰ دن کا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چونکہ یہ مہینہ ۲۹ دن کا ہے اور بظاہر ایلا کی ابتدا پہلی تاریخ سے ہوئی تھی تو یہ مہینہ ۲۹ دن کا تھا ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن ابن عباس رضي الله عنه قال عمر: فاعتزل النبي ﷺ من أجل ذلك، الحديث وكان قد قال: ما أناْ بداخل عليهن شهراً، من شدة موجدته عليهن حين عاتبه الله فلما مضت تسع وعشرون دخل على عائشة رضي الله تعالى عنها فبدأ بها، فقالت له عائشة: إنك أقسمت ألا تدخل علينا شهراً، وإنا أصبحنا بتسع وعشرين ليلة أعدها عداً، فقال النبي ﷺ: الشهر تسع وعشرون، وكان ذلك الشهر تسعاً وعشرين. (رواه البخاري: ۲/۳۳۵).
وعن أنس رضي الله عنه قال: إلى رسول الله ﷺ من نسائه وكانت انفكت رجله في مشربه تسعاً وعشرين ليلة ثم نزل فقالوا يا رسول الله آليت شهراً فقال: إن الشهر يكون تسعة وعشرين. (صحيح البخاري: ۱/۲۵٦).

باقی یہ بات کہ سب سے پہلے اس کوکس نے مقرر کیا ہے تو یہ یقین سے بتلانا مشکل ہے ۔
مولانا مفتی تقی صاحب فرماتے ہیں:
یقین کے ساتھ کہنا مشکل ہے کہ یہ تیس پاروں کی تقسیم کس نے کی ہے بعض حضرات کا خیال ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے مصاحف کرتے وقت انہیں ۳۰ مختلف صحیفوں میں لکھوایا متقدمین کی کتابوں میں احقر کو اس کی دلیل نہیں مل سکی، البتہ علامہ بدر الدین زرکشی نے لکھا ہے کہ قرآن کے ۳۰ پارے مشہور چلے آتے ہیں اور مدارس کے قرآنی نسخوں میں ان کا رواج ہے ۔ البرہان: ۱/۲۵۰ ۔ (علوم القرآن از مولانا مفتی تقی صاحب، ص
۱۹٦
) ۔
مناہل العرفان میں ہے:

منهم من قسم القرآن ثلاثين قسماً وأطلقوا على كل قسم منها اسم الجزء بحيث لا يخطر بالبال عند الإطلاق غيره. (مناهل العرفان: ۱/٤۰۲).

اور آیتِ کریمہ
﴿كما أنزلنا على المقتسمين الذين جعلوا القرآن عضين﴾
کا وہ مطلب نہیں جو بعض لوگ سمجھ گئے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری جیسے ہم نے ان لوگوں پر کتاب اتاری تھی جنہوں نے اپنی کتابوں میں تقسیم کر کے بعض حصے کو اپنی خواہشات کے موافق مانا اور بعض کو نہیں مانا یا یہ مطلب ہے کہ ہم تم کو اس طرح کی سزا نازل ہونے سے ڈراتے ہیں جو سزا ہم نے ان لوگوں پر ڈالی جنہوں نے قرآن کریم کو تقسیم کر کے بعض نے سحر اور بعض نے شعر اور بعض نے کہانت وغیرہ کہا مکہ مکرمہ کے مختلف راستوں میں اپنے ایجنٹوں کو بٹھا کر آنے والوں سے کوئی کہتا رہا قرآن سحر اور نبی ﷺ ساحر ہیں کوئی کہتا رہا قرآن کریم شعر اور رسول اللہ ﷺ شاعر یا کاہن ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آسانی کے لیے حدیث کی روشنی میں اس کے اجزا بنانا بدعت ہے، صحابہ کرام نے اپنی آسانی کے لیے اور وظیفہ کے طور پر قرآن کریم کے احزاب بنائے تھے تو کیا یہ کام بھی صحابہ کرام نے غلط کیا ، قطعاً نہیں، سنن ابن ماجہ میں لمبی روایت ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے:

قال أوس: فسألت أصحاب رسول الله ﷺ كيف تحزبون القرآن قالوا: ثلاث، وخمس وسبع وتسع وإحدى عشرة وثلاث عشرة، وحزب المفصل. (سنن ابن ماجه: ٩٥).
وفي إسناده عبد الله بن عبد الرحمن بن يعلى الطائفي وفيه ضعف.

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے حزب میں بقرہ، آل عمران نسا، دوسرے میں مائدہ انعام اعراف انفال براءت تیسرے میں یونس ہود یوسف رعد ابراہیم حجر نحل، چو تھے میں بنی اسرائیل کہف مریم طہ انبیاء حج مومنون نور فرقان، پانچویں میں شعراء نمل قصص عنکبوت الروم لقمان السجدۃ الاحزاب سبا فاطر یس ۔ چھٹے میں صافات صاد زمر حوامیم سبع محمد الفتح الحجرات ۔ ساتویں میں قاف سے آخر تک ۔
جس کی طرف کسی نے فمی بشوق میں اشارہ کیا ہے:
ف: فاتحہ، م: مائدہ، ی: یونس، ب: بنی اسرائیل، ش: شعراء و: والصافات، ق: سورۂ قاف سے آخر تک ۔
جیسے یہ احزاب صحیح ہیں اجزا بھی بدعت نہیں پھر بدعت کا مطلب تو ہے کہ اس کو ثواب سمجھ لیں کہ ایک پارہ میں یہ متعین ثواب دوسرے میں یہ ہے اور اس کا کوئی قائل نہیں ۔
رہی یہ بات کہ
﴿ربما يود الذين﴾
کو پارہ کی ابتدا بنایا جب کہ ایک سطر پہلے سورت موجود ہے تو یہ عجم میں مطبوعہ قرآن کریم میں کسی نے حروف یا کلمات کو گن کر اس کو پارہ کا آغاز سمجھا لیکن عربی مطبوعہ قرآن میں پارہ کو سورت کا آغاز بنایا ہے اور چند کلمات کے ادھر ادھر ہو جانے کو قابل التفات نہیں سمجھا اور میرے خیال میں یہی درست ہے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.