پیر و مرشد کے لیے مبالغہ آمیز القاب استعمال کرنے کا حکم:
Question
بعض حضرات اپنے پیر و مرشد کے لیے مبالغہ آمیز القاب استعمال کرتے ہیں؛ جن میں سے چند ذیل میں مذکور ہیں؛ میرے شیخ آپ تجلیاتِ حق سبحانہ ہیں، سراپا نور مطلق اے نورِ مطلق آپ صرف نبی اور اصطلاحاً صحابی نہیں ہیں باقی سب کچھ ہیں، آپ کی روحِ عالی طواف کے کروفر کے آگے جملہ ارواحِ اولیاء بلا اعلان از منبر بغداد سراسر سرنگوں ہیں میں جذبات میں نہیں کہہ رہا ہوں میں منجانب اللہ مجبور ہوں، بعد عشا تا اذانِ فجر عالم بے خودی میں جو اشعار فارسی قلب پر بے ساختہ وارد ہو رہے ہیں آپ سراپا تجلیاتِ حق نور حق، نور مطلق، نور سید المرسلین ﷺ ہیں حضرت جی احقر کی نگاہ میں سوائے آپ کے اور کوئی نہیں ہے، واللہ آپ بے مثل ہیں شب و روز کے کسی بھی لمحہ میں ایک لفظ بھی یہ غلام مرضی حق کے خلاف نہیں نکال سکتا ہے (سوال میں اور بھی الفاظ مذکور ہیں، بسببِ طوالت چھوڑ دیے گئے)
ان عبارات اور ان کے قائل سے متعلق مفصل و مدلل تحریر فرمائیں۔
Answer
بصورتِ مسئولہ پہلی بات یہ ہے کہ اس کے قائل کو مجرم اور حدودِ شریعت سے تجاوز کرنے والا نہیں کہا جائے گا، کیوں کہ وہ خود اقرار کرتا ہے کہ میں منجانب اللہ مجبور ہوں اور عالمِ بے خودی میں ہوں اور ایسی حالت کے کلمات معاف ہیں اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔ حدیث شریف میں ہے:
لله أشد فرحاً بتوبة عبده حين يتوب إليه من أحدكم كان على راحلته بأرض فلاة فانفلتت منه وعليها طعامه وشرابه فأيس منها فأتي شجرة فاضطجع في ظلها قد أيس من راحلته فبينا هو كذلك إذ هو بها قائمة عنده فأخذ بخطامها ثم قال من شدة الفرح: اللهم أنت عبدي وأنا ربك أخطأ من شدة الفرح. (صحيح مسلم: ۲/۳۵۵).
حدیثِ بالا سے صراحۃً یہ بات ثابت ہوئی کہ شدتِ فرح بھی سلبِ اختیار کا باعث ہے ایسی حالت میں الفاظِ کفریہ کا تکلم مضر اور موجبِ ارتداد نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے کہ اگر کسی کو ذات الجنب کی بیماری لاحق ہوئی یا کوئی چیز کھلا دی گئی اور مسلوب العقل ہو کر بے اختیار کلماتِ کفریہ کا تکلم کیا تو یہ موجب کفر نہیں ہو گا۔ جب کہ مذکورہ بالا کلمات کو حد سے تجاوز تو کہہ سکتے ہیں، کلماتِ کفر نہیں۔
قال: من أصابه برسام أو أطعم شيئاً فذهب عقله فهذي فارتد لم يكن ذلك ارتداداً وكذا لوكان معتوهاً أو موسوساً أو مغلوباً على عقله بوجه من الوجوه فهو على هذا كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية: ۲/۲۵۳)،
اس عبارت میں
"أو مغلوباً على عقله بوجه من الوجوه"
قابل غور ہے کہ اسبابِ معلومہ؛ سکر، جنون، اکراہ، عتہ، کے علاوہ، کبر سنی، مرض، مصیبت، غلبہ خوشی، غلبہ حزن، فرطِ محبت وغیرہ بھی زوالِ عقل یا زوالِ اختیار کے اسباب بن سکتے ہیں، جن کی وجہ سے کلماتِ کفریہ کا تکلم موجبِ ارتداد اور سلبِ ایمان کا باعث نہیں قرار دیا جائے گا۔
شدتِ فرح کی مثال حدیثِ بالا میں مذکور ہوئی، درجِ ذیل واقعہ میں فرطِ حزن کی مثال ملاحظہ کیجیے:
صلح حدیبیہ کے موقع پر جب صلح نامہ مکمل ہو چکا، تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم فرمایا کہ قربانیاں ذبح کر لو اور حلق کرالو، صحابہ کرام رضي الله عنہم نے فرطِ حزن میں باوجود آپ ﷺ کے مکرر و مکرر فرمانے کے، فرمانِ عالی کی تعمیل نہیں کی۔
قال رسول الله ﷺ: لا صحابه قوموا فانحروا ثم احلقوا قال: فو الله ما قام منهم رجل حتى قال ذلك ثلاث مرات. (صحيح البخاري: ۱/۳۸۰، رقم: ۲۷۳۲، باب الشروط في الجهاد).
خوفِ خداوندی بھی زوالِ عقل کا سبب بن سکتا ہے۔ صحیح بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے [جس نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی کارِ خیر نہیں کیا تھا] کہا: جب میں مر جاؤں تو جلا دینا اور نصف راکھ کو خشکی میں اور نصف کو سمندر میں ڈال دینا۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: قال رجل لم يعمل خيراً قط: فإذا مات فحرقوه واذروا نصفه في البر ونصفه في البحر فو الله لئن قدر الله عليه ليعذبنه عذاباً لا يعذبه أحداً من العالمين فأمر الله البحر ليجمع ما فيه وأمر البر فجمع ما فيه ثم قال: لم فعلت قال: من خشيتك وأنت أعلم فغفر له. (صحيح البخاري: ۲/۱۱۱۷/۷۵۰٦).
حدیثِ بالا میں شخص مذکور کے یہ الفاظ
"لئن قدر الله عليه"
(قدر، قدرت سے مشتق مانے تو) بلا شبہ الفاظِ کفریہ میں سے ہیں، لیکن اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس کا یہ جواب
"من خشيتك" "
آپ کے ڈر و خوف نے مجھے اس بات پر مجبور کر دیا" اسے کفر سے بچا کر مغفرتِ خداوندی کا حقدار بنا دیتا ہے۔
فرطِ محبت میں بے اختیار ہونے کی مثال ملاحظہ ہو: رسول اللہ ﷺ نے ازواجِ مطہرات کے درمیان عدل کی مکمل رعایت فرمانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا: "
اللهم! هذه قسمتي فيما أملك فلا تلمني فيما تملك ولا أملك". (سنن الترمذي: ۱/۲۱٦/۱۱٤۰).
مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! جو میرے اختیار سے باہر ہے یعنی قلبی محبت اس پر مواخذہ نہ فرما۔
ہاں اطرائے ممنوع جو فرطِ محبت سے پیدا ہوتا ہے وہ اختیاری حد تک ممنوع ہے، غیر اختیاری حد تک پہنچ جائے تو یقیناً مرفوع القلم ہو گا۔ حدیث میں
"لا تطروني"
میں اطراء کی نہی ضرور ہے لیکن یہ ضرور نہیں کہ اطراء کا سبب فرطِ محبت ہی ہو بلکہ جہالت، تعصب، غلط فہمی وغیرہ اسباب بھی موجبِ اطراء ہو سکتے ہیں۔ پس نہی عن الاطراء مستلزم نہی عن غلبۃ المحبت نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح غلبہ محبت منحصر فی الاطراء الاضطراری نہیں۔ اس لیے نہی عن الاطراء کو مستلزم نہی عن غلبۃ المحبۃ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حدیثِ مذکور اس امر پر صاف دلالت کرتی ہے کہ غلبہ محبت بسا اوقات غیر اختیاری طور پر محبوب کی طرف میلان پیدا کر دیتا ہے۔ اور یہ میلان قابل مؤاخذہ نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ غیر اختیاری ہے اور اس کو غیر اختیاری کس چیز نے بنایا؟ غلبہ محبت نے۔ (مستفاد از کفایت المفتی:
۱
/
٦۵
، ط: دار النوادر)۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ الفاظ قابل اشاعت ہیں یا نہیں ؟ سو بندہ کے نزدیک اس کی اشاعت نہ کی جائے بعض مرتبہ بعض الفاظ حدودِ شریعت میں داخل ہوتے ہوے بھی فتنہ کے اندیشہ کی وجہ سے قابل اشاعت نہیں ہوتے۔ امام بخاری رحمه الله نے ایک باب قائم کیا ہے
: "باب من خص بالعلم قوماً دون قوم كراهية أن لا يفهموا"
اور اس کے تحت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک اثر نقل کیا ہے۔
وقال على رضي الله عنه: حدثوا الناس بما يعرفون أتحبون أن يكذب الله ورسوله. (صحيح البخاري: ۱/۲٤). وفي عمدة القاري: أي كلموا الناس بما يعرفون أي بما يفهمون والمراد كلموهم على قدر عقولهم وفي كتاب العلم لا دم بن أبي إياس عن عبد الله بن داود عن معروف في آخره ودعوا ما ينكرون أي ما يشتبه عليهم فهمه.
"أن يكذب" وذلك لأن الشخص إذا سمع ما لا يفهمه وما لا يتصور إمكانه يعتقد استحالته جهلاً فلا يصدق وجوده فإذا أسند إلى الله ورسوله يلزم تكذيبهما. (عمدة القاري: ۱/۲۸۹، ط: دار الحديث).
عبارتِ بالا کا حاصل یہ ہے کہ ہر کس و نا کس کے سامنے ہر قسم کی بات نہیں کرنی چاہیے بہت سی مرتبہ صحیح بات فہم غلط کی وجہ سے باعثِ فتنہ بن جاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ ہر قسم کی بات شائع بھی نہیں کرنا چاہیے، ورنہ کم فہم یا کج فہم کے لیے باعثِ فتنہ ثابت ہو گی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بات قابل اشاعت نہیں۔ روایت کا خلاصہ یہ ہے: ایک مرتبہ نبی ﷺ صحابہ کرام کے درمیان سے تشریف لے گئے اور کافی دیر ہو گئی صحابہ کرام پریشانی کے عالم میں حضور کی تلاش میں اُٹھ کھڑے ہوئے، حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه فرماتے ہیں: میں ایک باغ میں پہنچا، نبی کریم ﷺ وہاں تشریف فرما تھے، آپ نے فرمایا: ابو ہریرہ کیسے آنا ہوا، میں نے ماجرا بتایا، حضور نے مجھے اپنے نعلین مبارک عنایت فرمائے اور فرمایا: اس باغ کے پیچھے جس سے آپ ملو جو اخلاص کے ساتھ اللہ کے معبودِ بر حق ہونے کی گواہی دیتا ہو اُسے جنت کی خوش خبری سنا دینا۔ حضرت ابو ہریرہ
رضي الله عنه
کی حضرت عمر
رضي الله عنه
سے ملاقات ہوئی اور خوش خبری سنائی، حضرت عمر
رضي الله عنه
نے سنا تو حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کو دھکا دیا اور حضور سے شکایت کی کہ اے اللہ کے رسول لوگ اس پر اعتماد کر کے بیٹھ جائیں گے اور اعمال نہیں کریں گے، اُن کو چھوڑ دینا چاہیے تاکہ اعمال میں مشغول رہیں، حضور نے فرمایا: ٹھیک ہے چھوڑ دو۔
قال: يا رسول الله! بأبي أنت وأمي أبعثتَ أبا هريرة بنعليك من لقي يشهد أن لا إله إلا الله مستيقناً بها قلبه بشره بالجنة قال: نعم، قال: فلا تفعل فإني أخشى أن يتكل الناس عليها فخلهم يعملون، قال رسول الله ﷺ: فخلهم. (صحيح مسلم: ۱/٤۵).
قال الإمام النووي رحمه الله: وفيه جواز إمساك بعض العلوم التي لا حاجة إليها للمصلحة أو خوف المفسدة. (شرح النووي: ۱/٤٦).
امام نووی رحمه الله کی عبارت سے معلوم ہوا کہ بعض غیر ضروری علوم کی اشاعت کسی مصلحت یا خوفِ فتنہ کی وجہ سے روک دی جائے تو ٹھیک ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.