حالتِ اضطرار میں لحمِ خنزیر کھانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 8 #230Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

حالتِ اضطرار میں لحمِ خنزیر یا لحمِ میتہ کا کھانا واجب ہے یا فقط جائز؟ یعنی اگر نہیں کھایا اور مر گیا تو گناہ ہو گا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اضطراری کیفیت اس حد تک پہنچی ہے کہ اگر نہیں کھائے گا تو مر جائے گا یا اکراہ ملجی ہے کہ نہیں کھائے گا تو قتل کیے جانے یا عضو تلف ہو جانے کا قوی اندیشہ ہے تو ایسی حالت میں لحمِ خنزیر یا میتہ کا کھانا واجب اور ضروری ہے اگر نہیں کھایا اور مر گیا یا بدن کا کوئی عضو تلف ہو گیا تو گنہگار ہو گا۔
اور اگر اکراہ غیر ملجیٔ ہے یعنی مرنے یا عضو تلف ہونے کا قوی اندیشہ نہیں ہے تو کھانا جائز نہیں۔

قال في الدر المختار: فإن أكره على أكل ميتة أو دم أو لحم خنزير أو شرب خمر بإكراه غير ملجئ بحبس أو ضرب أو قيد لم يحل إذ لا ضرورة في إكراه غير ملجئ نعم لا يحد للشرب للشبهة وإن أكره بملجئ بقتل أو قطع عضو أو ضرب مبرح حل الفعل بل فرض فإن صبر فقتل أثم.
وفي الشامية: قوله حل فعله، لأن هذه الأشياء مستثناة عن الحرمة في حال الضرورة والاستثناء عن الحرمة حل، ابن كمال. قوله أثم، لأن إهلاك النفس أو العضو بالامتناع عن المباح حرام، زيلعي. (٦/۱۳٤، مطلب في بيع المكره فاسد، ط: سعيد).

مزید ملاحظہ ہو: (احکام القرآن للعلامۃ التھانوی رحمه الله:
۱
/
۱۲۸
، ط: ادارۃ القرآن)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.