مرتد ہو جانے کی دھمکی سے اکراہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #358Urdu
Vol. 9باب… )۸( نکاح و طلاق سے متعلق متفرق مسائل

Question

اگر کسی نو مسلم عورت نے اپنے شوہر سے یوں جبر کیا کہ اگر تم مجھے تین طلاق نہیں دیتے تو میں دوبارہ عیسائی اور مرتد ہو جاؤں گی تو کیا یہ اکراہ میں داخل ہے یا نہیں؟ اگر اکراہ ہو تو ملجی ہے یا غیر ملجی؟

Answer

بظاہر عورت کا یہ کہنا کہ تم تین طلاق نہیں دو گے تو میں مرتد بن جاؤں گی، یہ اکراہ میں شامل نہیں ہے، اکراہ کی دو قسمیں ہیں: اکراہ ملجی ؛ جان لینے یا عضو تلف کرنے کی دھمکی دی جائے۔ ۲: اکراہ غیر ملجی: قید کرنے کی دھمکی دی جائے، لیکن عورت کی یہ بات اکراہ میں داخل نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو خزانۃ الفقہ میں مرقوم ہے:

إذا أكره رجلاً بقتل أو تلف عضو من أعضاء أو بأمر يخاف منه تلف نفسه أو ذهاب عضو من أعضاء أن يطلق امرته

(خزانة الفقه، ص ۳۳۳، ۳۳٤).
شرح منظومة ابن وهبان
میں ہے:

إن الإكراه يحصل بالضرب أو بالحبس أو بالقيد قال: وأعلم أن أصحابنا أجمعوا على أن الإكراه بوعيد تلف النفس أو عضو من الأعضاء إكراه معتبر شرعاً، سواء حصل على فعل أو قول، وإن حصل الإكراه بالحبس والتقييد، فإن كان على فعل فليس بمعتبر شرعاً ويجعل كأن المكرَه فعل ذلك بغير إكراه. (شرح منظومة ابن وهبان: ۲/۸۷).
وللمزيد راجع: (الدر المختار: ٦/۱۲۹، سعيد، والفتاوى الهندية: ۲/۳۵).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.