وصیت نامہ لکھنے کا طریقہ:
Question
ایک شخص کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے اور اسلامی طریقہ پر وصیت نامہ لکھنا چاہتا ہے تو اس کو کس طرح لکھنا چاہیے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ وصیت نامہ میں یہ تحریر کافی ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق ہر ایک وارث کو میری جائیداد و مال میں سے شرعی حصہ دے دیا جائے، ہاں زیادہ سے زیادہ ایک تہائی کی حد تک وصیت کرنا درست ہے۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه رضي الله تعالى عنه قال: كان رسول الله ﷺ يعودني عام حجة الوداع من وجع اشتد بي فقلت: إني قد بلغ بي من الوجع وأنا ذو مال ولا يرثني إلا ابنة أ فأتصدق بثلثي مالي قال: لا، فقلت: بالشطر فقال: لا، ثم قال: الثلث والثلث كبير أو كثير إنك أن تذر ورثتك أغنياء خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس وإنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله إلا أجرت بها حتى ما تجعل في في امرأتك
الخ. (صحيح البخاري، رقم: ۱۲۹۵، باب رثي النبي ﷺ سعد بن خولة).
مرنے والے پر موت سے پہلے ان فرائض و واجبات کے فدیہ، کفارہ اور حج بدل کی وصیت واجب ہے جنہیں وہ ادا نہیں کر سکا۔
مثلاً: چھوٹی ہوئی نمازوں اور روزوں کا فدیہ، جو نماز و روزہ کے لیے نصف صاع گیہوں (ایک کیلو چھ سو اکانوے (٦۹۱، ۱) گرام) یا اس کی قیمت ہے، اس کی وصیت کرنا واجب ہے، یا قسم کا کفارہ یعنی دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑے پہنانا، اس کی وصیت بھی واجب ہے، یا اگر کسی شخص پر حج فرض ہوا اور ادا نہ کر سکا تو اس کے لیے اپنی طرف سے حج کرانے کی وصیت کرنا جسے حج بدل کہتے ہیں، واجب ہے، اسی طرح اگر زکوۃ اس پر واجب الادا ہو تو اسے ادا کرنے کی وصیت کرنا بھی واجب ہے۔
اگر ورثاء نابالغ ہیں تو کسی کے لیے وصیت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ورثاء بالغ ہیں مگر نادار، جب بھی کسی کے لیے وصیت نہیں کرنی چاہیے۔ پوتا، نواسہ اور دوسرے نادار اقرباء جو کسی وجہ سے ترکہ نہیں پا رہے ہیں، دوسروں کے مقابلہ میں ان کے لیے وصیت کرنا زیادہ بہتر ہے۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص
۲۵۷
)۔
(و کذا فی البحر الرائق:
۸
/
٤٦۰
، ط: دار المعرفۃ، بیروت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.