خانہ کعبہ کے پتھر بطورِ تبرک لا نے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 1 #324Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

خانہ کعبہ کی تعمیر جاری ہے بطور تبرک اس کے پتھر لانا درست ہے یا نہیں؟ جبکہ سعودی حکومت بظاہر لے جانے پر خوش نہیں، کیا وہ پتھر وقف ہیں یا نہیں؟

Answer

حرم کے پتھر اور حرم کی مٹی کو حرم سے باہر لے جانا درست ہے، البتہ خانہ کعبہ سے بطورِ تبرک پتھر لانا درست نہیں ورنہ اندیشہ ہے کہ جاہل لوگ اس کے نکالنے اور لے جانے کے لیے ٹوٹ پڑیں گے جس سے بیت اللہ کی تعمیر کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، علاوہ ازیں وہ مالِ وقف ہے اور بلا اذنِ واقف (حکومت) اس کا لینا شرعاً جائز نہیں، چونکہ آج کل کعبہ کی مرمت یا حرم کی مرمت کا کام ہو رہا ہے اور اس کے پتھروں کو حکومت باہر پھینکتی ہے ان کے یہاں یہ کسی کام کے نہیں لہذا اس کو لے جانے میں کوئی حرج نہیں، الغرض اس کو لینے میں تعمیر کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، اور حکومت کا روکنا تبرکات کی وجہ سے ہے اس لیے اس کو لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
شامی میں ہے:

(تنبيه) لا بأس بإخراج التراب والأحجار التي في الحرم، وكذا قيل في تراب البيت المعظم إذا كان قدراً يسيراً للتبرك به بحيث لا تفوت به عمارة المكان كذا في الظهيرية وصوّب ابن وهبان المنع عن تراب البيت لئلا يتسلط عليه الجهال فيفضي إلى خراب البيت والعياذ بالله تعالى، لأن القليل من الكثير كثير كذا في معين المفتي للمصنف. (فتاوى الشامي: ۲/٦۲٦، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ولا بأس بإخراج حجارة الحرم وترابه إلى الحل عندنا وكذا إدخال تراب الحل إلى الحرم ولا يجوز أخذ شيء من طيب الكعبة لا للتبرك ولا لغيره ومن أخذ شيئاً منه لزمه رده إليها فإن أراد التبرك أتي بطيب من عنده فمسحه بها ثم أخذه كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية: ۱/۲٦٤).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.