مبہم یا مجہول مال کی وصیت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 8 #313Urdu
Vol. 8كتاب الفرائضباب اول: وصیت سے متعلق احکام کا بیان

Question

ایک شخص نے یہ وصیت کی کہ میرے مال میں سے کچھ یا بعض فلاں شخص کو دے دیا جائے تو اس کے انتقال کے بعد مال کا کتنا حصہ دیا جائے گا؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ مرحوم نے چونکہ مبہم اور مجہول مال کی وصیت کی ہے لہذا یہ وصیت ورثہ کی صواب دید پر موقوف ہو گی، ورثہ اپنی رضامندی سے جو دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔
ملاحظہ ہو فتاوی عالمگیری میں ہے:

ومن أوصي لا خر بحظ من ماله أو بشيء من ماله أو بنصيب من ماله أو ببعض من ماله فالبيان إلى الموصي ما دام حياً وإذا مات فالبيان إلى الورثة، كذا في شرح الطحاوي. (الفتاوى الهندية: ٦/۹۸).

فتاوی سراجیہ میں ہے:

إذا أوصي بجزء من ماله فان الورثة يعطونه ما شاءوا. (الفتاوى السراجية، ص ۵۷۲).

فتاوی حقانیہ میں ہے:
شرعاً تو ایسی وصیت صحیح ہے البتہ ابہام کی وجہ سے وصیت کرنے والے کے انتقال کے بعد اس کا تعین ورثاء کی صواب دید پر موقوف ہے کہ وہ موصی لہ کو جتنا چاہیں دے سکتے ہیں، تاہم اگر وصیت کرنے والے نے اپنی زندگی میں ہی اس مال کو متعین کر دیا ہو تو بعد الموت وہی مال دینا پڑے گا بشرطیکہ وہ مال میت کے کل ترکہ کے ثلث سے زیادہ نہ ہو۔ (فتاوی حقانیہ:
٦
/
۵۰۷
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.