مکانِ موروث میں بعض ورثاء کے تصرف کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #323Urdu
Vol. 8كتاب الفرائضبابِ دوم: میراث سے متعلق احکام کا بیان

Question

ایک شخص کا انتقال ہوا، اس نے ترکہ میں صرف ایک مکان چھوڑا، اس مکان کی قیمت مرمت سے پہلے تین لاکھ رینڈ تھی، ورثاء میں سے دو لڑکوں نے اپنے پیسے کے ذریعہ اس مکان کی مرمت کرائی، اب اس مکان کی قیمت تقریباً ۹ لاکھ ہو گئی، جب یہ مکان فروخت ہو کر شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا تو دونوں بیٹے اپنی خرچ کی ہوئی رقم منہا کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر دونوں بیٹوں نے دیگر ورثاء کی اجازت سے مرمت کی تھی تو اپنا تمام خرچہ منہا کر سکتے ہیں، پھر باقی رقم ورثاء میں تقسیم ہو گی، لیکن اگر انہوں نے بلا اجازت اپنی طرف سے خرچہ کیا تھا تو منہا نہیں کر سکتے، مکان کی کل قیمت ورثاء میں تقسیم ہو گی۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں مذکور ہے:

لو تصرف أحد الورثة في التركة المشتركة وربح فالربح للمتصرف وحده كذا في الفتاوى الغياثية. (الفتاوى الهندية: ۲/۳٤٦).

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں مرقوم ہے:

إذا أخذ الورثة مقداراً من النقود من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين وعمل فيه فخساره يعود عليه، كما أنه لو ربح لا يأخذ الورثة حصة فيه

أما إذا أعمل المال بإذن فإذا أعمل بشرط أن يكون الربح له خاصة فتكون حصة الورثة الآخرين قرضاً وإذا أعمل على أن يكون الربح مشتركاً فتكون المعاملة شركة مضاربة في حصة الورثة

الخ. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام: ۳/۵۰، ط: دار الكتب العلمية، بيروت).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
جس نے وہ زمین خریدی ہے اگر اس نے اپنے ہی لیے خریدی ہے تو وہ اسی کی ہے، اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ، قیمت اگر مشترک روپیہ سے ادا کی ہے تو شرکاء کا روپیہ حسبِ حصص دینا اس کے ذمہ واجب ہے۔
لو تصرف أحد الورثة في التركة المشتركة وربح، فالربح للمتصرف وحده، كذا في الفتاوى الهندية.
اگر وہ شرکت کے لیے خریدی ہے تو مشترک ہے، شرکاء قیمت میں بھی شریک ہوں گے۔ (فتاوی محمودیہ:
۲۰
/
۳۱۰
، جامعہ فاروقیہ)۔
کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
عمرو نے مال مشترک میں تجارت کر کے جو نفع حاصل کیا ہے اور مال بڑھایا ہے وہ سب ورثہ زید پر تقسیم ہوگا، صرف عمرو کا ترکہ نہیں سمجھا جائے گا۔ (کفایت المفتی:
۱۳
/
٤۵۰
، جامعہ فاروقیہ)۔
مزید ملاحظہ ہو: (امداد الاحکام:
۳
/
۳۳۵
)۔
والله سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.