گھروں میں ٹنکی یا حوض کے پاک کرنے کا طریقہ:

5 min readFatwa Vol 9 #5Urdu
Vol. 9باب… )۱( طہارت سے متعلق متفرق مسائل

Question

آج کل عام شہروں میں گھروں کے اندر غسل خانوں وغیرہ میں پانی پہنچانے کے لیے پائپ سسٹم کا رواج ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ سرکاری پانی کو ایک جگہ ٹنکی یا حوض میں جمع کر کے ہینڈ پمپ کے ذریعہ گھر کے مختلف حصوں میں پہنچایا جاتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ اگر ایسی ٹنکی ناپاک ہو جائے جو عام طور پر دہ در دہ سے بہت کم ہوتی ہے تو اس کے پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں: اگر نیچے کا حوض یا اوپر کی ٹنکی میں نجاست ایسی حالت میں گر جائے کہ اس کا پانی دونوں طرف سے جاری ہے مثلاً: سرکاری پانی ٹنکی میں آ رہا ہے اور دوسرے پائپ سے گھر کے مختلف حصوں میں جا رہا ہے تو اکثر فقہاء کے نزدیک یہ ٹنکی ماء جاری کے حکم میں ہونے کی وجہ سے ناپاک ہی نہیں ہو گی ۔
اور اگر حوض یا ٹنکی دونوں طرف سے جاری نہ ہو، بلکہ دونوں یا کسی ایک طرف سے بند ہو تو پھر یہ حوض یا ٹنکی نجاست کے گرنے سے ناپاک ہو جائے گی، پھر اس کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو نجاست گری ہے اگر وہ ذی جرم، جسامت والی ہے تو پہلے اس کو نکال دیا جائے پھر اس ٹنکی کو دونوں طرف سے جاری کر دیا جائے تو دوسری طرف سے پانی نکلتے ہی یہ ٹنکی یا حوض پاک ہو جائے گا، البتہ بعض فقہاء کے نزدیک تین مرتبہ اور بعض کے نزدیک ایک مرتبہ ٹنکی میں پانی بھر کر نکال دیا جائے تو پاک ہو جائے گی، اس لیے از راہِ احتیاط اس ٹنکی یا حوض میں ایک طرف پائپ سے اتنا پانی دوسری طرف نکالا جائے جتنا پانی ناپاک ہونے کے وقت اس میں موجود تھا ۔
فقہاء کی عبارات ملاحظہ ہو ؛ شرح منیہ میں مرقوم ہے:

عن فتاوى قاضي خان: فإن أدخل يده في الحوض وعليها نجاسة إن كان الماء ساكناً لا يدخل فيه شيء من أنبوبة ولا يغترف إنسان بالقصعة يتنجس ماء الحوض وإن كان الناس يغترفون من الحوض بقصاعهم ولا يدخل من الأنبوب ماء أو على العكس اختلفوا فيه وأكثرهم على أنه يتنجس ماء الحوض وإن كان الناس يغترفون بقصاعهم ويدخل الماء من الأنبوب اختلفوا فيه وأكثرهم على أنه لا يتنجس انتهى، فهذا هو الذي ينبغي أن يعتمد عليه. (شرح منية المصلي، ص ۱۰۲، سهيل اكيدمي).
وفيه أيضاً: فإن دخل الماء من جانب حوض صغير كان قد تنجس مائه وخرج من جانب قال أبو بكر بن سعيد الأعمش لا يطهر ما لم يخرج مثل ما كان فيه ثلث مرات فيكون ذلك غسلاً له كالقصعة حيث تغسل إذا تنجست ثلث مرات وقال غيره لا يطهر ما لم يخرج مثل ما كان فيه مرة واحدة وقال أبو جعفر الهندواني يطهر بمجرد الدخول من جانب والخروج من جانب وإن لم يخرج مثل ما كان في الحوض وهو اختيار الصدر الشهيد حسام الدين لأنه حينئذٍ يصير جارياً والجاري لا يتنجس ما لم يتغير بالنجاسة والكلام في غير المتغير. (شرح منية المصلي، ص ۱۰۱، ط: سهيل).

(ماخوذ از خیر الکلام فی حوض الحمام، آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام، از مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله از ص ۱۹۵ تا ص ۱۹۸، ط: کتب خانہ قاسمی) ۔
اسلامی فقہ میں ہے: ٹنکی کی صفائی ؛ عام طور پر ٹنکی اس طرح بنائی جاتی ہے کہ اوپر کے پمپ سے پانی آتا ہے اور نیچے کے پمپ سے نلوں میں جاتا ہے، اگر ایسی صورت ہے تو یہ جاری پانی کے حکم میں ہے اس میں نجاست یا کوئی جانور گرنے سے ٹنکی کا پانی ناپاک نہیں ہوگا ۔
إذا كان الحوض صغيراً يدخل فيه الماء من جانب ويخرج من جانب جاز الوضوء فيه من جميع جوانبه. (فتاوى هنديه: ۱/۹)،
اور اگر دونوں طرف سے یا کسی ایک طرف سے بند ہو تو ناپاک سمجھا جائے گا، اب اگر اس حوض میں جتنا پانی تھا اس کے بعد پائپ وغیرہ کے ذریعہ نکال دیا جائے تو اس کو پاک سمجھا جائے گا، اس کے متعلق ایک بات یاد رہنی چاہیے کہ اگر یہ نجاست محسوس جسامت رکھتی ہو مثلاً چوہا، بلی، مینگنی وغیرہ تو پہلے اس کو نکال دینا ضروری ہے، ہینڈ پائپ اور نل کا بھی یہی حکم ہے ۔ (اسلامی فقہ: ۱/۱٦۲، ط: پروگریسو بکس، لاہور) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.