کیتھیٹر (catheter/عمل جراحی) سے پیشاب نکالنے پر غسل کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #32Urdu
Vol. 9باب… )۱( طہارت سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک عورت نے کیتھیٹر (catheter) کے عمل سے پیشاب نکلوایا، کیا اس سے غسل واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

کیتھیٹر علاج کا ایک طریقہ ہے جس میں مریض کی شرمگاہ میں ٹیوب (tube) داخل کر کے اس سے پیشاب خارج کیا جاتا ہے، اس عمل سے غسل واجب نہیں ہوتا، ہاں پیشاب نکلنے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ ملاحظہ ہو در مختار مع رد المحتار میں مرقوم ہے:

ولا يجب الغسل عند إدخال أصبع ونحوه كذكر غير آدمي وذكر خنثي وميت وصبي لا يشتهي وما يصنع من نحو خشب في الدبر أو القبل علي المختار، وفي الشامي: قوله على المختار قال في التجنيس: رجل أدخل أصبعه في دبره وهو صائم اختلف في وجوب الغسل والقضاء، والمختار أنه لا يجب الغسل والقضاء؛ لأن الأصبع ليس آلة للجماع فصار بمنزلة الخشبة، ذكره في الصوم. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۱٦٦، سعيد).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں مرقوم ہے:
(۱) مرد نے قصداً عورت کی پیشاب گاہ میں انگلی کر دی اس حالت میں عورت پر غسل واجب ہوا یا نہیں؟
(۲) ایک عورت دوسری عورت کے جسم میں دوا پہنچانے یا اندرونی خرابی دیکھنے کو ہاتھ یا انگلی کرے یا خواہ مخواہ ہی کر دے تو غسل واجب ہو گا یا نہیں؟
جواب: (۱) اور (۲) اس میں غسل واجب نہیں۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند[عزیز الفتاوی]: ۱/۱۸۱، کراچی)۔
احسن الفتاوی میں مرقوم ہے:
زید نے اپنی زوجہ کی شرمگاہ میں مع کپڑے کے یا بغیر کپڑے کے انگلی داخل کی تو زوجہ کا وضو ٹوٹ گیا یا نہیں؟ الجواب: وضو ٹوٹ گیا خواہ انگلی پر کپڑا ہو یا نہ ہو، اس لیے کہ جب انگلی نکلے گی تو اس پر نجاست ضرور لگی ہو گی اور خروجِ نجاست ناقض وضو ہے، البتہ اگر انگلی فرجِ داخل یعنی گول سوراخ کے اندر نہیں گئی تو وضو نہیں گیا۔ (احسن الفتاوی: ۲/۲۰، سعید)۔
بہشتی زیور میں مذکور ہے:
اگر کوئی عورت شہوت کے غلبہ میں اپنے خاص حصہ میں کسی بے شہوت مرد یا کسی جانور کے خاص حصہ کو یا کسی لکڑی وغیرہ یا خنثی یا میت کے ذکر کو یا اپنی انگلی کو داخل کرے تب بھی اس پر غسل فرض ہو جائے گا، منی گرے یا نہ گرے مگر یہ شارحِ منیہ کی رائے ہے اور اصل مذہب میں بدونِ انزال غسل واجب نہیں۔ (بہشتی زیور، ص ۸٦۹، گیارہواں حصہ، دار الاشاعت)۔
شارحِ منیہ کی عبارت ملاحظہ ہو :

وفي وجوب الغسل بإدخال الأصبع في القبل أو الدبر خلاف والأولى أن يوجب في القبل إذا قصد الاستمتاع لغلبة الشهوة

الخ. (شرح منية المصلي، ص ٤٦، ط: سهيل).

لیکن یہاں استمتاع مقصود نہیں ہے بلکہ علاج مقصود ہے، لہٰذا وجوبِ غسل کی کوئی قوی وجہ موجود نہیں ہے۔
جدید فقہی مسائل میں مذکور ہے:
کسی شخص کا آپریشن کیا جائے اور پیشاب کے باہر نکلنے کے لیے خصوصی نلکی لگا دی جائے جس سے پیشاب آتا رہے تو اس نلکی سے بھی پیشاب کا آنا ناقض وضو ہے۔ کیوں کہ نجاست متعینہ مقام سے نکلے یا کسی اور جگہ سے بہر حال ناقض وضو ہے۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۹۲، ط: نعیمیہ)۔
دوسری جگہ مرقوم ہے: ٹیوب کے ذریعہ منی عورت کے رحم میں پہنچانا موجبِ غسل نہیں، اس سرنج یا ٹیوب کا داخل کرنا ایسا ہی ہے جیسے عورت کے رحم میں انگلی داخل کرنا، لہٰذا جس طرح یہ موجبِ غسل نہیں، اسی طرح ٹیوب کا داخل کرنا بھی موجبِ غسل نہ ہو گا۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۹۹)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.