رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں خطبۃ الو َداع کا حکم:
Question
بعض بستیوں میں یہ رواج ہے کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں خطیب حضرات وداعی الفاظ کہتے ہیں جیسے رمضان کو رخصت کر رہے ہوں، کیا ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ اس کا ثبوت ہے یا نہیں؟
Answer
رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں خطبۃ الو َداع پڑھنا قرونِ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں ہے، ہاں اگر خطبہ میں کچھ نصیحت کی جائے اور آخری ایام کی قدردانی کی ترغیب دی جائے اور رمضان المبارک کے رخصت ہونے پر کچھ کلماتِ حسرت کہے جائیں تو چنداں حرج نہیں، لیکن اگر عوام اس کو سنت یا لازم سمجھتے ہوں تو اس کا ترک کرنا لازم ہے ۔ ملاحظہ ہو مجموعۃ الفتاوی میں ہے:
الوداع یا الفراق در خطبہ جمعہ آخر رمضان خواندن و کلماتِ حسرت و رخصت ادا کردن فی نفسہٖ امر مباح است بلکہ این کلمات باعثِ ندامت و توبہ سامعان شود، امید ثواب است مگر ثبوتِ این طریق در قرونِ ثلاثہ نیست وشاید کسے کہ ایجاد ایں طریق کردہ، البتہ در آخر شعبان خطبہ استقبالِ رمضان در احادیث وارد است وشاید کسے کہ ایجاد ایں طریق کردہ خطبہ آخر رمضان را بر خطبہ استقبال قیاس کردہ، لیکن اہتمام خطبہ وداع کردن چنانکہ دریں زمانہ مروج است وآں را تابحدِ التزام رسانیدن خالی از ابتداع نیست، علماء معتمدین را لازم است کہ التزام ایں طریق را ترک کنند تا عوام از اعتقادِ استحباب وسنیت بلکہ از ضروری بودنِ ایں طریق خاص نجات یا بند ۔ (مجموعۃ الفتاوی بہامش خلاصۃ الفتاوی: ٤/۳۲۹، کتاب الکراہیۃ، ط: المکتبۃ الرشیدیۃ) ۔
اشرف الاحکام (تتمہ امداد الفتاوی) میں مرقوم ہے:
فرمایا: حضور ﷺ نے شعبان کے آخر جمعوں میں ایک خطبہ (آمد رمضان کے موقع پر ) پڑھا جو اور جمعوں میں نہ پڑھتے تھے ۔ مسلمانوں سے تعجب ہے کہ انہوں نے منصوص خطبہ پر کوئی توجہ نہ کی اور شعبان کے آخری جمعہ کے لیے کوئی خاص خطبہ تجویز نہ کیا ۔ جس سے وہ عامل بالسنہ ہوتے اس کے بجائے رمضان کے آخری جمعہ کے لیے ایک خاص خطبۃ الوداع تجویز کیا جس کا کہیں حدیث میں پتا نہیں اور پھر اس کے ساتھ ایسا شغف ہوا کہ بغیر اس خاص خطبہ کے پڑھے گویا جمعہ ہی نہیں ہوا ۔ بہت سے لوگ الوداعی خطبہ کو آخری جمعہ رمضان کا لازمی جزو سمجھتے ہیں اور بڑا تعجب تو یہ ہے کہ بعض اہل علم کو بھی دھوکا ہو گیا اور وہ سخت غلطی میں مبتلا ہو گئے کہ کہتے ہیں کہ اگر چہ آخر جمعہ کے لیے کوئی خاص خطبہ تجویز کرنا بدعت ہے ۔ لیکن چونکہ اس کی وجہ سے لوگ اکثر جمع ہو جاتے ہیں، اس لیے اس کو اجتماع کے لیے معین اور ادائے صلاۃ کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے باقی رکھنا چاہیے حالانکہ یہ سخت غلطی اور من وجہ خدا و رسول ﷺ پر اعتراض کرنا ہے ۔ (اشرف الاحکام، ص ۱۲٦، ادارۂ اسلامیات، لاہور) ۔
وفي ردع الاخوان عن محدثات جمعة آخر رمضان: ومن الأمور المحدثة: ما شاع في أكثر بلاد الهند والدكن وغيرهما من تسمية خطبة الجمعة الأخيرة بخطبة الوداع، وتضمينها جملاً دالة على التحسر بذهاب ذلك الشهر، فيدرجون جملاً دالة على فضائل ذلك الشهر، ويقولون بعد جملة أو جملتين: الوداع والوداع، أو الفراق والفراق لشهر رمضان أو الوداع والوداع يا شهر رمضان، ونحو ذلك من الألفاظ الدالة على ذلك، ومنهم من يقرأ خطبة الوداع يوم عيد الفطر. وهذا المحدث لا يدرى من أي زمان حدث، وأين حدث؟ وكتب الفقه والحديث من المتقدمين والمتأخرين لا يوجد فيها أثر من ذلك (ردع الاخوان عن محدثات جمعة آخر رمضان، مجموعة رسائل اللكنوي: ۲/۳٦۹، ط: إدارة القرآن كراچي).
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
یہ خطبۃ الوداع پڑھنا قرونِ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں، فقہاء نے اس کے پڑھنے کا ذکر نہیں کیا مولانا عبد الحی صاحب لکھنوی رحمه الله نے اس کے بدعت ممنوع ہونے کو تفصیل سے مدلل بیان فرمایا ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۸/۲۹۵، جامعہ فاروقیہ) ۔
باقیاتِ فتاوی رشیدیہ میں مذکور ہے: خطبہ میں الوداع پڑھنا بدعت ہے ۔ (باقیاتِ فتاوی رشیدیہ، ص ۱۸٦) ۔
عزیز الفتاوی میں ہے: خطبہ الوداع سلف سے ثابت نہیں ۔ (عزیز الفتاوی: جلد اول، ۳۰٦، دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (امداد الفتاوی: ۱/۵۳۹، تحقیق خطبۃ الوداع) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.