خطبہ نکاح کھڑے ہو کر پڑھنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 3 #550Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:ابواب النکاح سے متعلق متفرق مسائل؛

Question

خطبہ نکاح پڑھنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟ کیا کھڑے ہو کر بہتر ہے یا بیٹھ کر؟ بینوا توجروا ۔

Answer

کتبِ احادیث کی ورق گردانی سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے خطبات دو قسم کے ہوتے تھے ۔ (۱) جمعہ، عیدین اور استسقاء کے خطبات ۔ (۲) ان خطبات کے علاوہ دیگر خطبات ۔
پہلی قسم کے خطبات میں آنحضرت ﷺ کا مبارک طریقہ کھڑے ہو کر پڑھنے کا تھا، اور آپ کے بعد صحابہ کرام
ث
سے بھی یہی ثابت ہے بنا بریں اس قسم کے خطبات میں مسنون طریقہ کھڑے ہو کر پڑھنا ہے ۔ کیوں کہ نہ کھڑے ہونے والے پر نکیر بھی ثابت ہے ۔
دوسری قسم کے خطبات میں آنحضرت ﷺ کا منبر پر بیٹھ کر پڑھنا ثابت ہے لہذا اس قسم میں مسنون طریقہ یہ ہوگا کہ بیٹھ کر پڑھا جائے ۔
پہلی قسم کے دلائل و شواہد:

عن ابن عمر رضي الله عنه قال: كان النبي ﷺ يخطب قائماً ثم يقعد ثم يقوم كما تفعلون الآن. (رواه البخاري، رقم: ۹۲۰، باب الخطبة قائماً).
وعن أبي خيثمة عن سماك قال: أنبأني جابر بن سمرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ كان يخطب قائماً ثم يجلس ثم يقوم فيخطب قائماً فمن نبأك أنه كان يخطب جالساً فقد كذب فقد والله صليت معه أكثر من ألفي صلاة. (رواه مسلم، رقم: ۲۰۳۳، باب ذكر الخطبتين).
عن أبي عبيدة عن كعب بن عجرة رضي الله عنه قال: دخل المسجد وعبد الرحمن بن أم الحكم يخطب قاعداً فقال: انظروا إلى هذا الخبيث يخطب قاعداً وقال الله تعالى: ﴿وإذا رأوا تجارة أو لهواً انفضوا إليها وتركوك قائماً﴾. (رواه مسلم، رقم: ۲۰۳۸).
عن جابر رضي الله عنه قال: خرج رسول الله ﷺ يوم فطر أو أضحي فخطب قائماً ثم قعد قعدة ثم قام. (رواه ابن ماجه، رقم: ۱۲۸۹).
قال في الشامية: (كالعيد) أي بأن يصلي بهم ركعتين يجهر فيهما بالقراءة بلا أذان ولا إقامة ثم يخطب بعدها قائماً على الأرض معتمداً على قوس أو سيف أو عصا خطبتين عند محمد رحمه الله وخطبة واحدة عن أبي يوسف رحمه الله. (فتاوى الشامي: ۲/۱۸٤، سعيد).

ان خطبات کے علاوہ دیگر خطبات میں آنحضرت ﷺ کا منبر پر بیٹھ کر خطبہ دینا ثابت ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف میں روایت ہے:

روي البخاري عن ابن عباس رضي الله عنه قال: خرج رسول الله ﷺ وعليه ملحفة متعطفاً بها على منكبيه وعليه عصابة دسماء حتى جلس على المنبر فحمد الله وأثني عليه

(البخاري، رقم: ۳۸۰۰).
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه أن رسول الله ﷺ جلس على المنبر فقال: إن عبداً خيره الله

الخ. (رواه البخاري، رقم: ۳۹۰٤).
وعن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ اصطنع خاتماً من ذهب وكان يلبسه فيجعل فصه في باطن كفه فصنع الناس خواتيم ثم إنه جلس على المنبر فنزعه

(رواه البخاري، رقم: ٦۶۵۱).
وفي رواية لمسلم

فلما قضي رسول الله ﷺ صلاته جلس على المنبر وهو يضحك فقال: ليلزم كل إنسان مصلاه ثم قال: أتدرون لم جمعتكم

(رواه مسلم، رقم: ۲۹٤۲، باب قصة الجساسة).
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه أن النبي ﷺ جلس ذات يوم على المنبر وجلسنا حوله. (رواه البخاري، ۱٤٦۵، باب الصدقة على اليتامى).
وأن صهيباً مولي العتواريين حدثه أنه سمع أبا سعيد الخدري وأبا هريرة يخبران عن النبي ﷺ أنه جلس على المنبر ثم قال: والذي نفسي بيده ثلاث مرات ثم سكت فأكب كل رجل منا يبكي حزيناً

(أخرجه الحاكم في المستدرك، رقم: ۷۱۹، باب في فضل الصلوات الخمس).
وعن ابن عمر رضي الله عنه قال: لما قدمت درة ابنة أبي لهب المدينة مهاجرة نزلت دار رافع بن المعلي الزرقي

فأتت رسول الله ﷺ فجثت إليه

وقال: اجلسي ثم صلى بالناس الظهر ثم جلس على المنبر ساعة ثم قال: أيها الناس

الخ. (شرح مشكل الآثار، رقم: ۵۲۱۳).

نیز منبر بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ اس پر تشریف فرما کر استراحت حاصل کریں ۔
چنانچہ بخاری شریف میں ہے:
عن جابر رضي الله تعالى عنه أن امرأة قالت: يا رسول الله ألا أجعل لك شيئاً تقعد عليه فإن لي غلاماً نجاراً قال: إن شئت فعملت المنبر. (رواه البخاري رقم: ٤٤۹).

خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ، عیدین اور استسقاء کے علاوہ کسی اور خطبہ کا منبر پر کھڑے ہو کر پڑھنا ثابت نہیں ہے اسی وجہ سے ہمارے اکابر علماء کا طریقہ بھی یہی رہا ہے کہ ان مذکورہ خطبات کے علاوہ دیگر خطبے منبر پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں ۔ فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
اس خطبہ کا کھڑے ہو کر پڑھنا کسی کتاب میں نہیں دیکھا بیٹھ کر پڑھنے کا معمول ہے دوسری جگہ فرماتے ہیں: جائز تو کھڑے ہو کر بھی ہے اور بیٹھ کر بھی ہے جو شخص کھڑے ہو کر خطبہ نکاح کو مسنون ک ہے دلیل اس کے ذمہ ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/۵۹۲، جامعہ فاروقیہ) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ خطبہ نکاح میں سنت طریقہ یہ ہے کہ بیٹھ کر وقار اور سنجیدگی کے ساتھ پڑھا جائے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.