مساجد کا انشورنس کرانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #70Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

مغربی ملک میں ہم نے ایک مسجد بنائی، اور عام طور پر غیر مسلم وہاں مساجد کو منہدم کر دیتے ہیں تو کیا ہم مساجد کا انشورنس کر سکتے ہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

عام علماء کے نزدیک انشورنس کرانا جائز نہیں ہے، کیوں کہ وہ سود و قمار پر مشتمل ہے، لیکن بعض علماء درجِ ذیل دو صورتوں میں جائز قرار دیتے ہیں، تاہم اولی اور افضل یہ ہے کہ انشورنس سے اجتناب کیا جائے، خصوصاً مساجد اور اوقاف وغیرہ کے بارے میں تو احتیاط ہی بہتر ہے ۔ فتاوی رحیمیہ میں بوقتِ ضرورت اجازت دی گئی، ملاحظہ ہو : (فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۷٤، ط: دیوبند)، بعض علماء کے نزدیک جواز کی دو صورتیں ہیں وہ ملاحظہ فرمائیے:
۱ ۔ صاحب انشورنس، انشورنس کمپنی سے اتنا ہی وصول کرے جتنا اس نے قسط وار ادا کیا تھا، اگر انشورنس کمپنی زیادہ دے تو اس کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیا جائے، یہ زیادتی بالاتفاق ناجائز ہے ۔
۲ ۔ انشورنس کمپنی کوئی رقم ادا نہ کرے بلکہ خدمت یعنی مرمت کی ذمہ داری اٹھا لے تو یہ صورت جائز ہے ۔ کیوں کہ اس صورت میں مبادلۃ المال بالمال نہیں ہوا بلکہ مال کے بدلہ میں خدمت ہے ۔ جیسے میڈیکل ایڈ، یہ صورت اجارہ کے ضمن میں آئے گی ۔
ہاں اس صورت میں یہ اشکال ہو سکتا ہے کہ ایک طرف سے مال کی ادائیگی لازم ہے اور دوسری طرف سے موہوم ہے یقینی نہیں ہے تو اس میں غرر ہوا، اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں غرر یسیر ہے جو مفضی الی المنازعہ نہیں اس وجہ سے گنجائش ہے ۔ اوجز المسالک میں مذکور ہے:

قال الباجي: ما كثر فيه الغرر وغلب عليه حتى صار البيع يوصف بالغرر فهذا الذي لا خلاف في المنع منه. وأما يسير الغرر فإنه لا يؤثر في فساد عقد بيع فإنه لا يكاد يخلو عقد منه. (أوجز المسالك: ۱۳/۸۸).
زاد المعاد
میں ہے:
ليس كل غرر سبب للتحريم، والغرر إذا كان يسيراً أو لا يمكن الاحتراز منه لم يكن مانعاً من صحة العقد. (زاد المعاد: ۵/۸۲۰).

عام حالات میں انشورنس ممنوع اور ناجائز ہے ۔ ملاحظہ ہو امداد الفتاوی میں مرقوم ہے:
بیمہ باعتبارِ صورت قمار ہے،
لأنه تعليق الملك على الخطر والمال في الجانبين
اور باعتبار حقیقت سود ہے،
لعدم اشتراط المساواة في الجانبين فيما يجب فيه المساواة
، اور قمار اور سود دونوں حرام ہیں ۔ (امداد الفتاوی: ۳/۱٦۱) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ پنجم، ص ٤٤۲، و ۵/٤۲۷، ط: زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.