نماز میں"السلام عليك أيها النبي" خطاب کے صیغہ کا مطلب:
Question
رسول اللہ ﷺ نماز میں
"السلام عليك أيها النبي "
پڑھتے تھے تو اس کا کیا مطلب ہوگا؟ کیوں کہ خطاب تو بظاہر کسی اور مخاطب سے ہوتا ہے؟ نیز کیا کسی حدیث سے یہ معراج والا قصہ ثابت ہے؟ یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی کی خدمت میں قولی، بدنی اور مالی عبادات پیش فرمائیں تو اللہ تعالی کی طرف سے " السلام علیک ایہا النبی" پیش کیا گیا، یہ قصہ ثابت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
نبی کریم ﷺ نماز میں
"السلام عليك أيها النبي "
واقعہ معراج کی حکایت کے طور پر پڑھتے تھے اور ہم لوگ اس کو حکایت تسلیم کر کے بطورِ انشاء اپنی طرف سے سلام بھیجنے کی نیت سے پڑھتے ہیں ۔ ارشاد الساری میں مرقوم ہے:
السلام أي السلامة من المكاره، أو السلام الذي وجه إلى الرسل والأنبياء أو الذي سلمه الله عليك ليلة المعراج. (إرشاد الساري: ۲/۱۲۹، ط: مصر).
وقال في نخب الأفكار: وقال الشيخ حافظ الدين: يعني السلام الذي سلمه الله عليك ليلة المعراج. (نخب الأفكار: ۳/۱۰۹، ط: الوقف المدني ديوبند).
الجوهرة النيرة
میں مرقوم ہے:
أي ذلك السلام الذي سلمه الله عليك ليلة المعراج فهذا حكاية عن ذلك السلام لا ابتداء السلام ومعنى السلام أي السلامة من الآفات. (الجوهرة النيرة: ۱/٦۵، إمداديه، ملتان).
قال في العناية: وقوله: السلام عليك: حكاية السلام الذي رده الله تعالى على نبيه عليه السلام ليلة المعراج لما أثنى على الله بثلاثة أشياء رد الله عليه في مقابلها ثلاثة أشياء السلام بمقابلة التحيات، والرحمة بمقابلة الصلوات، والبركة بمقابلة الطيبات. (العناية بهامش فتح القدير: ۱/۳۱٤، باب صفة الصلاة، ط: دار الفكر).
علامہ حصکفی اور علامہ شامی رحمه الله لکھتے ہیں کہ حکایت کی نیت نہ کرے بلکہ انشاء کی نیت کرے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں مرقوم ہے:
لا الإخبار عن ذلك ذكره في المجتبى وظاهره أن ضمير علينا للحاضرين لا حكاية سلام الله تعالى. وفي الشامية: قوله: لا الإخبار عن ذلك، أي لا يقصد الإخبار والحكاية عما وقع في المعراج منه ومن ربه سبحانه ومن الملائكة عليهم السلام وتمام بيان القصة مع شرح ألفاظ التشهد في الإمداد فراجعه. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۵۱۰، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
شامی کا قول اقرب معلوم ہوتا ہے، خطاب حاضر و ناظر جان کر نہیں بلکہ اس اعتقاد کے ماتحت ہے کہ ملائکہ کے ذریعہ سے پیش کیا جائے، جیسا کہ خط میں کسی کو خطاب کیا جاتا ہے اور یہ عقیدہ نہیں ہوتا کہ مکتوب الیہ حاضر ہے بلکہ یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ ڈاک کے ذریعہ سے یہ خط مکتوب الیہ کے پاس پہونچ جائے گا، حدیث شریف میں موجود ہے کہ " اللہ تعالی نے ملائکہ مقرر فرما رکھے ہیں جو درود و سلام پہنچاتے ہیں" البتہ روضہ اقدس پر حاضر ہو کر جو درود و سلام پڑھا جائے اس کو آنحضرت ﷺ خود سنتے ہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۵/٦۳۳، جامعہ فاروقیہ) ۔
احسن الفتاوی میں مذکور ہے:
السلام علیک ایہا النبی بلکہ پورا تشہد انشاء ً پڑھا جاتا ہے
دربارِ سلطانی سے واپس ہوتے وقت کچھ نذرانہ پیش کرنے کا دستور ہے، اس لیے مصلی التحیات للہ و الصلوات و الطیبات کا نذرانہ پیش کرتا ہے پھر یکایک خیال آتا ہے کہ یہ قربِ الٰہی و مناجات بالرب صرف سید الکونین ﷺ کے وجود مسعود کی بدولت ہے، ہدایت کا ذریعہ حضور ﷺ ہی کا وجود ہے تو بے ساختہ مصلی اپنے محسن اعظم و منعمِ اکرم ﷺ پر سلام بھیجتا ہے، باقی یہ اعتراض بالکل لغو ہے کہ جب حضورِ کریم ﷺ حاضر نہیں تو خطاب بے فائدہ ہوا، اس لیے کہ صلوٰۃ و سلام بذریعہ ملائکہ حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچتا ہے جیسا کہ خط میں صیغ خطاب صرف اس لیے لکھے جاتے ہیں کہ خط مخاطب تک پہنچے گا، مخاطب روبرو موجود نہیں ہوتا ۔ (احسن الفتاوی: ۳/٤۸) ۔
عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
اور ضروری ہے کہ تشہد کے لفظوں کے معنی کا اپنی طرف سے ارادہ کرے یعنی یوں ارادہ کرے کہ وہ اللہ پر تحیہ بھیجتا ہے اور نبی ﷺ پر اور اپنے نفس پر اور اولیاء پر سلام بھیجتا ہے ۔ واقعہ معراج کی حکایت مدِ نظر نہ ہو ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۹۹) ۔
جواب: (۲) شبِ معراج کا واقعہ کتبِ حدیث میں نہیں ملتا، ہاں فقہاء ذکر کرتے ہیں لیکن اس کی کوئی سند نہیں ہے، جب کہ واقعہ معراج صحیحین میں مفصل مذکور ہے، نیز اس میں اس معروف تشہد کا بھی ذکر نہیں پھر جب نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو تشہد سکھایا تب بھی اس کا ذکر نہیں فرمایا ۔
ملاحظہ ہو بعض مفسرین نے بلا سند ذکر کیا ہے:
قوله تعالى: سلام قولاً من رب رحيم، يس: ۵۸، فقالوا: يشير إلى السلام الذي سلمه الله علي حبيبه عليه السلام ليلة المعراج إذ قال له: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، فقال في قبول السلام: السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، انتهى، انظر: (روح البيان: ۳/۳۰، ط: دار إحياء التراث العربي).
تفسير قرطبي
میں مرقوم ہے:
فإما من قال: إنها كانت في ليلة المعراج، قال: لما صعد النبي ﷺ، وبلغ في السموات في مكان مرتفع، ومعه جبريل حتى جاوز سدرة المنتهى، فقال له جبريل: إني لم أجاوز هذا الموضع، ولم يؤمر بالمجاوزة أحد هذا الموضع غيرك، فجاوز النبي ﷺ حتى بلغ الموضع الذي شاء الله، فأشار إليه جبريل بأن سلِّم علي ربك، فقال النبي ﷺ: التحيات لله والصلوات والطيبات، فقال الله تعالى: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، فأراد النبي ﷺ أن يكون لأمته حظ في السلام فقال: السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، فقال جبريل: وأهل السموات كلهم: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله. (تفسير القرطبي: ۳/٤۲۵، : الرياض، السعودية، وتفسير السمرقندي: ۱/۱۸۹).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (شرح سنن ابی داود للعینی: ٤/۲۳۸، و مرقاۃ المفاتیح: ۲/۷۳۲، و انوار الباری: ۱٦/ ٤۲۳، و تحفۃ القاری: ۳/۱۵۹، و امداد الفتاح شرح نور الایضاح، ص ۳۲۳ ۔ ۳۲۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.