مسجد کی مخدوش حالت کے پیشِ نظر ڈھا کر دوبارہ بنانا:

3 min readFatwa Vol 1 #338Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

میں ایک مسجد کا متولی ہوں پچھلے ڈیڑھ سال سے ہم مسجد کی توسیع کے متعلق مشورہ کر ر ہے تھے لیکن اب چند نا گزیر وجوہات کی بناء پر از سرِ نو تعمیر کو آرکٹیکٹ نے ضروری قرار دیا ہے وہ وجوہات یہ ہیں:
(۱) پرانی مسجد کا تہہ خانہ (BASEMENT) پانی ٹپکنے کی خرابی کی وجہ سے مخدوش ہے اور مرمت پر بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔
(۲) نئی بنیادوں سے موجودہ عمارت کو باقی رکھتے ہوے نقصان ہوگا ۔
(۳) اگر اسی عمارت پر تعمیر کریں تو اونچائی کی مقررہ حد سے تجاوز ہوگا نیز پرانی عمارت ویسے بھی خستہ ہے ۔
(٤) از سر نو بنانے میں اخراجات مزدوری وغیرہ کے اعتبار سے کم ہوں گے کام تیزی سے ہوگا اور نمازوں کے اوقات میں بھی کام جاری ر ہے گا ۔ اب اولاً کمیٹی کی پریشانی اور فکر یہ ہے کہ کیا ان وجوہات کی بنا پر مسجد کو بند کرنا صحیح ہے اور جائز ہے؟

Answer

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"مسجد مبني أراد رجل أن ينقضه ويبنيه ثانياً أحكم من البناء الأول ليس له ذلك، لأنه لا ولاية له كذا في المضمرات، وفي النوازل: إلا أن يخاف أن ينهدم إن لم يهدم كذا في التتارخانية وتأويله: إذا لم يكن الباني من أهل تلك المحلّة، وأما أهل تلك المحلة فلهم أن يهدموا ويجدّدوا بنائه ويفرشوا الحصير ويعلقوا القناديل، لكن من مال أنفسهم أمّا من مال المسجد فليس لهم ذلك إلا بأمر القاضي كذا في الخلاصة.". فتاوى هندية: ۲/٤۵۷)

اس عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ اگر پرانی عمارت کے گرنے وغیرہ کا خوف ہو تو گرا کر مضبوط مسجد بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ البحر الرائق میں ہے ۔

"وفي البزازية: أرادوا نقض المسجد وبنائه أحكم من الأول أن لم يكن الباني من أهل المحلة ليس لهم ذلك، وإن كان من أهل المحلة لهم ذلك." (البحر الرائق: ۵/۲۵۱)

حاصل یہ کہ کمیٹی کے ارکان مذکورہ بالا وجوہات کی وجہ سے مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ نئی مسجد بنا سکتے ہیں اس مقصد کے لیے چندہ بھی کر سکتے ہیں ہاں اگر ان کو فانوس وغیرہ خوبصورتی کے لیے لٹکانا ہو تو اس میں وہ اپنا مال خرچ کریں ۔ یا اس کے لیے چندہ کریں ۔ زینت کی چیزوں میں چندہ دینے والوں کی اجازت کے بغیر مسجد کا مال نہ لگائیں ۔
ہاں اگر چندہ دینے والوں کی اجازت ہو تو زینت کی چیزوں میں بھی مسجد کا مال استعمال کر سکتے ہیں ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.