مقتدی کا تشہد کے لیے تیسری رکعت کے قیام سے واپس آنے کا حکم:
Question
مقتدی قعدۂ اولی میں امام کے ساتھ تشہد پڑھنا بھول گیا اور امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا اور مقتدی بھی ساتھ میں کھڑا ہو گیا تو اب تشہد کے لیے واپس آئے گا یا امام کا اتباع کرے گا؟ بینوا توجروا ۔
Answer
تارکِ تشہد کے واپس آنے اور تشہد پڑھنے کے بارے میں بعض شراحِ متون اور اصحابِ فتاوی نے یہی لکھا ہے کہ مقتدی کو واپس آ کر تشہد پڑھنا چاہیے، اور اس کی بنیاد امام کی متابعت کا فرض ہونا بیان کیا ہے، لیکن علامہ علاء الدین حصکفی رحمه الله نے بحوالہ نہر فرمایا کہ امام کی متابعت واجبات میں واجب ہے اور فرائض میں فرض، اِس جزئیہ کی بنا پر علامہ شامی رحمه الله نے مقتدی کے واپس آنے اور تشہد پڑھنے پر اشکال کیا ہے، کیوں کہ تشہد واجب ہے تو امام کی متابعت فرض کیسے ہوئی؟ پھر قیام شروع ہو چکا ہے جو کہ فرض ہے تو فرض سے واجب کی طرف کیسے آئے گا؟ نیز مفتی مرغوب احمد لاجپوری رحمه الله کبیر نے اِسی قول کو اختیار فرمایا کہ واپس نہیں آنا چاہیے اور یہ قول فقہی جزئیات کے موافق ہے اور یہ فرمانا کہ امام کی متابعت بہرحال فرض ہے محل نظر ہے ۔
ملاحظہ ہو : النہر الفائق میں لکھا ہے کہ امام کی متابعت واجب میں واجب اور فرض میں فرض ہے ۔
قال في النهر: والذي ينبغي أن يقال: إنها واجبة في الواجب فرض في الفرض. (النهر الفائق: ۱/۳۲۷، ط: قديمي).
علامہ حصکفی رحمه الله نے بھی بحوالہ نہر اسی طرح لکھا ہے:
قلت: وفيه كلام، والظاهر أنها واجبة في الواجب فرض في الفرض، نهر. (فتاوى الشامي: ۲/۸۵، سعيد).
علامہ شامی رحمه الله نے علامہ حصکفی رحمه الله کی اِس عبارت کی وجہ سے تارکِ تشہد کے واپس آنے پر اشکال ظاہر کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو :
قوله والظاهر أنها واجبة
قلت: وعلى ما استظهره الشارح تبعاً للنهر يشكل العود إلى قراءة التشهد بعد التلبس بالقيام الفرض مع إمامه، فتأمل. (فتاوى الشامي: ۲/۸۵، سعيد).
لیکن علامہ رافعی رحمه الله نے علامہ شامی رحمه الله کے اشکال کا یہ جواب دیا ہے:
قوله يشكل العود إلى قراءة التشهد، يدفع بأنه بعوده إلى قراءة التشهد كان متابعاً لإمامه فيه ثم يتابع الإمام في القيام فلم يكن فيه ترك المتابعة. (تقريرات الرافعي: ۲/۱۰۱، سعيد).
لیکن علامہ رافعی رحمه الله کی بات سمجھ میں نہیں آتی کیوں کہ قیام تو فرض ہے اور تشہد واجب ہے تو فرض قیام چھوڑ کر واجب تشہد کی طرف کیسے آئے گا؟ پھر امام کی متابعت کا مطلقاً فرض ہونا بھی محل نظر ہے ۔
نیز علامہ طحطاوی رحمه الله نے بھی صاحب نہر کی موافقت کی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
قوله لحكم المتابعة، هي واجبة في الواجب فريضة في الفرض كما استظهره صاحب النهر. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ٤٦٦، ط: قديمي).
خلاصہ یہ ہے کہ علامہ حصکفی رحمه الله، علامہ طحطاوی رحمه الله اور صاحب نہر سب کے نزدیک مطلقاً امام کی متابعت فرض نہیں، اور علامہ شامی رحمه الله نے بھی واجباتِ صلوٰۃ میں اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
أقول: الذي يظهر أنهم أرادوا بالفرض الواجب، وكون المتابعة فرضاً في الفرض لا يصح على إطلاقه لما صرحوا به من أن المسبوق لو قام قبل قعود إمامه قدر التشهد في آخر الصلاة، تصح صلاته إن قرأ ما تجوز به الصلاة بعد قعود الإمام قدر التشهد وإلا لا، مع أنه لم يتابع في القعدة الأخيرة، فلو كانت المتابعة فرضاً في الفرض مطلقاً لبطلت صلاته مطلقاً، نعم تكون المتابعة فرضاً، بمعنى أن يأتي بالفرض مع إمامه أو بعده. (فتاوى الشامي: ۱/ ٤۷۱، سعيد).
مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ علامہ شامی رحمه الله کے نزدیک امام کی متابعت مطلقاً فرض نہیں ہے ۔
مقتدی کے واپس نہ آنے پر جو مسائل دلالت کرتے ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں:
(۱) فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص قعدۂ اولی بھول کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے تواب قیام چھوڑ کر قعدہ کی طرف واپس نہیں آئے گا، سجدۂ سہو کر کے نماز پوری کرے گا ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:
ولو ترك القعدة الأولى من ذوات الأربع وقام إلى الثالثة فإن استتم قائماً لا يعود لما روي عن النبي ﷺ أنه قام من الثانية إلى الثالثة ولم يقعد فسبحوا به فلم يعد
ولأن القيام فريضة والقعدة الأولى واجبة فلا يترك الفرض لمكان الواجب. (بدائع الصنائع: ۱/۱۷۱، سعيد).
(۲) فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے تو رکوع چھوڑ کر قنوت کی طرف نہیں آئے گا کیونکہ محل فوت ہو گیا، اسی طرح یہاں بھی ۔
قال في الدر المختار: ولو نسيه أي القنوت ثم تذكره في الركوع لا يقنت فيه لفوات محله، ولا يعود إلى القيام في الأصح لأن فيه رفض الفرض للواجب. (الدر المختار: ۲/۹، سعيد). (وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح).
(۳) اگر کوئی شخص عیدین کی نماز میں قیام کی حالت میں تکبیراتِ عیدین بھول جائیں اور رکوع میں چلا جائے تو فقہاء لکھتے ہیں کہ امام کے رکوع کو چھوڑ کر تکبیرات کے لیے قیام کی طرف واپس نہیں آئے گا، اسی طرح اگر کوئی شخص تاخیر سے امام کے ساتھ شریک ہوا تو رکوع میں تکبیرات کہے گا اور اگر امام سر اُٹھا لے تو تکبیرات چھوڑ کر امام کا اتباع کرے گا تو یہاں بھی امام کے ساتھ قیام چھوڑ کر واجب یا سنت تشہد کے لیے نہیں آنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو الجوہرۃ النیرۃ میں مذکور ہے:
ولو رفع الإمام رأسه بعد ما أدى بعض التكبيرات فإنه يرفع رأسه ويتابع الإمام ويسقط عنه باقي التكبيرات؛ لأن متابعة الإمام واجبة. (الجوهرة النيرة: ۱/۳۷۱، باب صلاة العيدين).
وزاد في فتح القدير: لأنه إن أتى به في الركوع لزم ترك المتابعة المفروضة للواجب. (فتح القدير: ۲/۷۸، دار الفكر). (وهكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱۵۱، وفتاوى الشامي: ۲/۱۷٤، سعيد، ومراقي الفلاح، ص ۲۱٦، ط: بيروت).
جب یہاں متابعتِ امام کی وجہ سے واجب تکبیریں ساقط ہو گئیں تو فرض قیام کی وجہ سے واجب تشہد بدرجہ اولی ساقط ہو گیا ۔
حضرت مولانا مرغوب صاحب لاجپوری رحمه الله کبیر جدِ امجد نے بھی اسی طرح رقم فرمایا ہے کہ مقتدی واپس نہیں آئے گا بلکہ امام کا اتباع کرے گا، مگر ان کے حفیدِ رشید مولانا مرغو ب صاحب لاجپوری مد ظلہ نے علمی مکاتیب میں مرغوب الفتاوی سے اس مسئلہ کو ذکر کرنے کے بعد اپنے دادا جان کی طرف تسامح کی نسبت کی ہے، لیکن مذکورہ بالا حوالہ جات کی بنا پر ہمارے نزدیک مرغوب الفتاوی کا مسئلہ صحیح اور درست ہے اور صاحب فتاوی کی طرف تسامح کی نسبت محل نظر ہے ۔ چنانچہ علمی مکاتیب سے پوری تفصیل حسبِ ذیل درج کی جاتی ہے ؛
رفیق محترم و مکرم مولانا مفتی عبد القیوم صاحب زید مجدہ ؛ السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا تھا، اس میں آپ نے" مرغوب الفتاوی "ج ۲ کے بعض فتاوی پر اشکال فرمایا تھا، راقم نے ان مواضع پر دوبارہ غور کیا تو محسوس ہوا کہ آپ کے اشکالات بعض جگہ پر صحیح ہیں، چنانچہ ان مواضع پر اصلاح کر دی گئی ہیں، مگر بعض جگہ پر ابھی تشفی نہیں ہوئی، ان پر مزید غور کر رہا ہوں، بعض اہل علم و اربابِ افتاء کی طرف بھی رجوع کیا ہے، ان کے جواب کا منتظر ہوں، بعد میں کوئی فیصلہ کر سکوں گا، اور جس پر شرحِ صدر ہوگا اور اکابر کی تائید ہوگی ان کو باقی رکھوں گا
۱ ۔ آپ نے حضرت کے اس فتوی پر: س: ایک مقتدی قعدۂ اولی میں تشہد پڑھنا بھول گیا اور امام کے ساتھ تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا، اب یہ کیا کرے؟ کیا امام کی متابعت چھوڑ کر پھر قعدہ کر کے تشہد پڑھے یا امام کی متابعت میں کھڑا رہے؟
ج: حامداً و مصلیاً، الجواب و باللہ التوفیق: مقتدی قعدۂ اولی میں تشہد پڑھنا بھول گیا اور تیسری رکعت میں یاد آیا تو اب اس کو امام کی متابعت نہ چھوڑنا چاہیے اور تشہد کی خاطر امام کو چھوڑ کر قعدہ کی طرف رجوع نہ کرے ۔ ہاں قعدہ میں بیٹھا ہوا تھا اور یاد آیا کہ میں نے تشہد نہیں پڑھی ہے تو تشہد پڑھ لے، اگر امام کھڑا ہو جائے تب بھی مقتدی امام کے ساتھ کھڑا نہ ہو، بلکہ تشہد پڑھ کر کھڑا ہو، لیکن تیسری رکعت میں امام کے ساتھ کھڑا ہو جانے کے بعد اب تشہد پڑھنے کے لیے دوبارہ قعدہ نہ کرے اور امام کی متابعت نہ چھوڑے، ایسی حالت میں مقتدی کی نماز مع الکراہت ادا ہو جائے گی ۔ فقط، واللہ تعالی اعلم و علمہٗ اتم و احکم ۔
یہ اشکال کیا تھا کہ اس جزئیہ میں (لیکن تیسری رکعت میں امام کے ساتھ کھڑا ہو جانے کے بعد اب تشہد پڑھنے کے لیے دوبارہ قعدہ نہ کرے) اور کبیری کے جزئیہ میں تعارض ہے ۔ چنانچہ راقم نے اس پر تحقیق کی اور اس طرح حاشیہ میں اصلاح کر دی ہے:
شاید اس مسئلہ میں حضرت رحمه الله سے تسامح ہوا ہے ۔ چنانچہ کبیری میں اس کے خلاف لکھا ہے:
المقتدي إذا نسي التشهد في القعدة الأولى فذكر بعد ما قام، عليه أن يعود ويتشهد. (كبيري، ص ٤۵۹، فصل في سجود السهو).
اس کے بعد عمدۃ الفقہ (۲/۲۱۷) کی عبارت نقل کی ہے ۔ (علمی مکاتیب، ص ۳۳٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.