مسبوق کا پانچویں رکعت میں امام کی متابعت کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #203Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (٦): امامت کا بیان

Question

مسبوق اگر پانچویں رکعت میں امام کی متابعت کرے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟ اور مسبوق کے حق میں یہ مزید رکعت فرض ہو گی یا نفل؟

Answer

اگر امام پانچویں رکعت کے لیے بھول کر کھڑا ہو گیا اور مسبوق نے اس کی متابعت کی تو اگر امام چوتھی رکعت میں بیٹھا تھا تو مسبوق کی نماز فاسد ہو جائے گی، کیوں کہ مسبوق حالتِ انفراد میں ہے اور مسبوق کو کسی دوسرے کی اقتدا کرنا مفسدِ نماز ہے ۔ (البتہ فتاوی قاضيخان میں مرقوم ہے کہ چوتھی رکعت پر امام بیٹھا ہو تب بھی مسبوق کی نماز فاسد نہ ہو گی) ۔ اور اگر امام چوتھی رکعت میں نہیں بیٹھا تھا تو جب تک امام پانچویں رکعت کا سجدہ نہ کرے تب تک اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی اور جب امام نے پانچویں رکعت کا سجدہ کر لیا تو سب کی نماز ِ فرض ختم ہو کر نفل ہو جائے گی ۔ پس اگر امام نے چھٹی رکعت بھی ملا لی تو مسبوق امام کی متابعت کرے گا، پھر اپنی باقی نماز ادا کر لے، اور یہ نماز اس کے حق بھی نقل ہو جائے گی جیسا کہ امام کے حق میں ہوئی ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

ولو قام إمامه لخامسة فتابعه تفسد وإلا لا حتى يقيد الخامسة بسجدة، ولو ظن الإمام السهو فسجد له فتابعه فبان أن لا سهو فالأشبه الفساد لاقتداءه في موضع الانفراد. وفي الشامية: قوله إن بعد القعود، أي قعود الإمام القعدة الأخيرة قوله تفسد، أي صلاة المسبوق لأنه اقتداء في موضع الانفراد، ولأن اقتداء المسبوق بغيره تفسد، قوله وإلا، أي وإن لم يقعد وتابعه المسبوق لا تفسد صلاته، لأن ما قام إليه الإمام على شرف الرفض ولعدم تمام الصلاة فإن قيدها بسجدة انقلبت صلاته نفلاً، فإن ضم إليها سادسة ينبغي للمسبوق أن يتابعه ثم يقضي ما سبق به وتكون له نافلة كالإمام، ولا قضاء عليه لو أفسده لأنه لم يشرع فيه قصداً. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/٥۹۹، سعيد).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

إذا صلى الإمام الظهر أربع ركعات وقعد على الرابعة وقام إلى الخامسة ساهياً وجاء إنسان واقتدي به في صلاة الظهر قال الشيخ الإمام أبو بكر بن الفضل رحمه الله: يصح اقتداء الرجل لأن الإمام ما لم يقيد الخامسة بالسجدة يكون في تحريمة تلك الصلاة. (فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۱/۱۰۲، فصل في المسبوق).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
جب تک امام پانچویں رکعت کا سجدہ نہ کرے تب تک اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی اور جب امام نے پانچویں رکعت کا سجدہ کر لیا تو سب کی نماز فرض جاتی رہے گی اور نفل ہو جائے گی، پس اگر امام نے چھٹی رکعت ملا لی تو مسبوق بھی اس کی متابعت کرے پھر مسبوقانہ کو ادا کرے اور یہ اس کے لیے بھی نفل ہو جائیں گے جیسا کہ امام کے حق میں ہوے ہیں ۔ (عمدۃ الفقہ:
۲/۲۲٥
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.