"من القانتين" کی جگہ "من القانطين" پڑھنے سے نماز کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #127Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک امام صاحب نے نماز میں "
وكانت من القانتين "
کی جگہ
من القانطين
پڑھا، کیا نماز ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

پوری آیتِ کریمہ یوں ہے:
﴿ومريم ابنة عمران التي أحصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا وصدقت بكلمات ربها وكتبه وكانت من القانتين﴾ [التحريم: ۱۲]،
اب اگر قانطین پڑھا جائے تو اس کے معنی کی تصحیح یوں ہو سکتی ہے کہ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا شوہر نہ ہونے کی وجہ سے بچے سے نا امید تھی لیکن خلاف عادت اللہ تعالی نے بچہ دے دیا، اور بعض فقہاء کی عبارت سے پتا چلتا ہے کہ اگر تاویل بعید کے ساتھ معنی صحیح ہو جاتے ہیں تو پھر بھی نماز صحیح ہے ۔
ملاحظہ ہو شیخ ابراہیم حلبی رحمه الله شرح منیۃ المصلی میں فرماتے ہیں:

فينبغي أن ينظر إلى تغيير المعنى بسبب ذلك الحرف فإن كان فاحشاً تفسد وإن صح معناه ولو بعيداً كثيراً من المعنى المراد لا تفسد. (شرح منية المصلي، ص ٤۸۳، سهيل).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ومنها ذكر حرف مكان حرف

وإن غير المعنى فإن أمكن الفصل بين الحرفين من غير مشقة كالطاء مع الصاد فقرأ الطالحات مكان الصالحات تفسد صلاته عند الكل. (الفتاوى الهندية: ۱/۷۹).
مزید ملاحظہ ہو : (
فتاوى الشامي: ۱/٦۳۱، سعيد).

البتہ بہتر یہ ہے کہ نماز کا اعادہ کر لیا جائے کیوں کہ فقہاء کے ہاں قاعدہ مشہور ہے:
الصلاة إذا دارت بين الصحة والفساد تعاد احتياطاً
۔ یعنی ظاہری معنی سے خرابی پیدا ہوتی ہے اور نماز فاسد ہو جاتی ہے گو بہ تاویل معنی صحیح ہو کر نماز درست ہو سکتی ہے تب بھی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اعادہ کر لیا جائے تاکہ بالیقین ذمہ فارغ ہو جائے، نیز عام علماء تاویل بعید کو ہضم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں تو وہ نماز کو فاسد ہی قرار دیں گے، اس لیے اس میں تہمت اور خلجان کا ازالہ بھی ہے ۔ ملاحظہ ہو محقق ابن ہمام رحمه الله فرماتے ہیں:

قال في فتح القدير: دارت الصلاة بين الصحة والفساد فتفسد احتياطاً. (فتح القدير: ۱/۵۲۰، دار الفكر). وكذا في المحيط البرهاني: ۲/۲٤، دار إحياء التراث العربي).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.