فاسق کے پیچھے پڑھی ہوئی نماز کے اعادہ کا حکم:
Question
کیا فاسق امام کے پیچھے پڑھی گئی نماز کا اعادہ لازم ہو گا یا نہیں؟ یعنی ایک شخص نے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھی جس کی ڈاڑھی نہیں تھی، یا ایک مشت سے بہت کم تھی ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
فاسق کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے لیکن نماز ہو جاتی ہے، اور اعادہ واجب نہیں ہو گا، ہاں اگر کوئی اپنے طور پر اعادہ کرنا چاہے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ حدیث شریف میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر نیک و بد کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو ۔ حدیث شریف ملاحظہ ہو :
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ، قال: صلوا خلف كل بر وفاجر وصلوا على كل بر وفاجر وجاهدوا مع كل بر وفاجر، مكحول لم يسمع من أبي هريرة رضي الله عنه ومن دونه ثقات. (سنن الدارقطني: ۲/۵۷، رقم: ۱۰، ط: دار المعرفة بيروت).
قال في البحر الرائق: قوله وكره إمامة العبد والأعرابي والفاسق والمبتدع والأعمى وولد الزنا، بيان للشيئين: الصحة والكراهة أما الصحة فمبنية على وجود الأهلية للصلاة مع أداء الأركان وهما موجودان من غير نقص في الشرائط والأركان ومن السنة حديث صلوا خلف كل بر وفاجر. (البحر الرائق: ۱/۳٦۹، ط: دار المعرفة).
فتاوی فریدیہ میں مذکور ہے:
ڈاڑھی منڈے کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے لیکن واجب الاعادہ نہیں ہے،
لأن السلف الصالحين قد صلوا خلف أئمة الجور ولم ترو عنهم الإعادة
۔ (فتاوی فریدیہ: ۲/۳۱٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.