حرمِ مکی میں جنازہ اور امام پر مقتدیوں کے آگے بڑھنے سے نماز کا حکم:
Question
آج کل حرمِ مکی میں میت کو بالکل پیچھے رکھا جاتا ہے، یعنی امام صاحب فرض پڑھا کر پیچھے جنازوں کے پاس چلے جاتے ہیں اور وہاں سے نماز جنازہ پڑھاتے ہیں لیکن مقتدیوں کی کثیر تعداد میت کے آگے ہوتی ہے، تو کیا حنفیوں کی نمازِ جنازہ صحیح ہو گی یا نہیں؟ جب کہ احناف کے نزدیک میت کا مقدم ہونا شرط ہے، اگر صحیح نہیں تو پھر حرمِ مکی میں اقتدا کا کیا فائدہ ہوگا؟ بینوا بالدلیل ۔
Answer
بعد تحقیق کے یہ بات واضح ہوئی کہ امام صاحب فرض پڑھا کر جنازہ کے قریب آ جاتے ہیں اور وہاں سے نماز پڑھاتے ہیں، اور مقتدی اپنی جگہ سے نماز پڑھتے ہیں، لہذا جب جنازہ امام صاحب کے سامنے ہوتا ہے تو اب جو مقتدی حضرات جہتِ امام میں امام سے آگے ہوں گے ان کی نمازِ جنازہ درست نہ ہو گی، باقی مقتدی جو دوسری جہت میں ہوں گے ان کی نماز درست ہو جائے گی، جیسا فرض نماز کا مسئلہ ہے، اس لئے مقتدیوں کو چاہیے کہ جہتِ امام سے ہٹ جائیں، اب یا تو دوسری جہت میں چلے جائیں یا امام کے پیچھے جا کر اقتدا کر لیں، جہتِ امام میں ا مام سے آگے کھڑے مقتدیوں کی نماز درست نہ ہو گی ۔ نیز حنابلہ کے یہاں بھی جہت امام میں امام سے مقدم مقتدی کی نماز درست نہیں ہوتی ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
قوله (إن لم يكن في جانبه) أما إذا كان أقرب إليها من الإمام بأن كان متقدماً على الإمام بحذاء فيكون ظهره إلى وجه الإمام أو كان على يمين الإمام أو يساره متقدماً عليه من تلك الجهة ويكون ظهره الذي مع الإمام ووجهه إلى الكعبة فلا يصح اقتداؤه لأنه إذا كان متقدماً عليه لا يكون تابعاً له. قوله (لتأخره حكماً) علة لصحة صلاة الأقرب إليها من إمامه إن لم يكن في جانب الإمام لأن التقدم إنما يظهر عند اتحاد الجهة فإذا لم تتحد لم يتحقق تقدمه على إمامه والمانع من صحة الاقتداء هو التقدم ولم يوجد وبما قررناه ظهر أن الأولى في التعليل أن يقول لعدم تقدمه لأن صحة الاقتداء لا تتوقف على التأخر بل تكون مع المساواة كما مر. (فتاوى الشامي: ۲/۲۵۵، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإذا صلى الإمام في المسجد الحرام وتحلق الناس حول الكعبة وصلوا صلاة الإمام فمن كان منهم أقرب إلى الكعبة من الإمام جازت صلاته إذا لم يكن في جانب الإمام. (الفتاوى الهندية: ۱/٦۵).
نیز حنابلہ کے یہاں بھی جہتِ امام میں مقتدی امام سے آگے بڑھ جائے تو نماز درست نہ ہو گی ۔ ملاحظہ فرمائیں:
(هو في غير جهته) بأن كان المأموم أقرب إلى الكعبة من الإمام في الجهة التي عن يمينه أو شماله أو مقابلة الجهة التي يصلي الإمام إليها بدليل قوله: (ولو لم يكن) المأموم متقدما (في الجهة المقابلة للإمام) أي الجهة التي بين يديه. أما إذا تقدم المأموم عليه فيها فلا تصح صلاته لتحقق التقدم بخلاف تقدمه في الجهة المقابلة
فتصح صلاته في الجهات الثلاث ولو كان إلى الكعبة أقرب من الإمام لأنه لم يتحقق تقدمه عليه. (مطالب أولى النهى: ج ۱ ص ۳۸٦ ط المكتب الإسلامي دمشق، كذا في شرح زاد المستقنع للشنقيطي: ٦۲/۱۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.