دار العلوم دیوبند اور سہارنپور میں کسی بزرگ کے انتقال پر قرآن خوانی کا انتظام:
Question
کیا دار العلوم دیوبند اور دار العلوم سہارنپور میں زمانہ قدیم سے کسی بزرگ کے انتقال پر طلبہ کو جمع کر کے ایصالِ ثواب کا انتظام و اہتمام ہوتا تھا یا نہیں؟
Answer
دار العلوم دیوبند اور دار العلوم سہارنپور میں عام طور پر بڑے علماء کے تعزیتی جلسے اور خراجِ تحسین کا رواج جاری ہے، نیز تاریخ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن میں قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب کا اہتمام ہوا ۔ درجِ ذیل چند واقعات ملاحظہ کیجیے:
۱ ۔ مولانا محمد احمد تھانوی رحمه الله جن کا تعلق قصبہ تھانہ بھون ظلع مظفر نگر سے تھا، ابھی ان کی عمر ایک سال ہی کی تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا، ہوش سنبھالنے کے بعد حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله کی خدمت میں خانقاہ امدادیہ کے مدرسہ اشرفیہ میں آپ کا داخلہ کر دیا گیا، ان کی سوانح میں مرقوم ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو دینی مدارس و دینی انجمنوں نے قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا ۔ (اکابر دیوبند، ص ۳۱۷) ۔
۲ ۔ حافظ محمد احمد رحمه الله جو کہ مولانا نانوتوی رحمه الله کے فرزند رشید تھے ٤۵ سال دار العلوم میں خدمت انجام دی، جن میں سے ۳۵ سال اہتمام کے فرائض انجام دیے، ان کی سوانح میں مذکور ہے کہ ان کی وفات کو دار العلوم اور مسلمانوں کا زبردست نقصان تصور کیا گیا، اور ہندوستان کے طول و عرض میں دیوبندی اور غیر دیوبندی مکاتبِ فکر میں ایصالِ ثواب کے بے شمار اجتماعات منعقد کیے گئے ۔ (مکمل تاریخ دار العلوم دیوبند: ۲/۲۳۲) ۔
۳ ۔ حضرت شیخ الحدیث علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمه الله کی وفات کے بارے میں لکھا ہے کہ جامعہ ڈابھیل تین روز تک بند رہا اور صبح، شام تمام طلبہ و مدرسین حضرات نے دار الحدیث اور دوسری درس گاہوں میں جمع ہو کر قرآن خوانی، کلمہ طیبہ کا ختم اور ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا ۔ (مکمل تاریخ دار العلوم دیوبند، ص ۳۷) ۔
٤ ۔ مریت حاجی محمد اسماعیل صاحب رحمه الله کے انتقال پر دار العلوم میں ایصالِ ثواب کے لیے قرآن شریف کا ختم پڑھا گیا، اور حضراتِ اساتذہ نے تعزیت فرمائی ۔ (ماہنامہ دار العلوم دیوبند، ص ٤۷، مارچ ۱۹٦۷ ء) ۔
۵ ۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمه الله کی اہلیہ محترمہ کے انتقال پر دار العلوم میں مرحومہ کے لیے کلمہ طیبہ اور قرآن شریف کا ایصالِ ثواب کرایا گیا اور مدرسہ کی تعطیل کر دی گئی ۔ (ماہنامہ، دار العلوم، ص ٤۸، اگست ۱۹٦۷ ء) ۔
٦ ۔ الحاج مولانا محمد بن موسی میاں صاحب رحمه الله مرحوم نہ صرف دار العلوم بلکہ ہند و پاک کے تمام دینی اور قومی اداروں سے خاص تعلق رکھتے تھے اور ان کے جود و سخا سے بہت سے دینی کاموں کو مدد ملتی تھی ۔ آج علی الصباح احاطہ دار العلوم میں مولانا مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن شریف کا ختم پڑھا گیا اور جملہ اساتذہ و طلبہ نے مولانا مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی ۔ (ماہنامہ دار العلوم، ص ٤۸، جون ۱۹٦۳ ء) ۔
۷ ۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب قدس سرہٗ کی صاحبزادی جن کی عمر اَسی سال کے قریب تھی، اخیر جولائی میں دعوتِ اجل کو لبیک کہہ گئیں، احاطہ دار العلوم میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور حسرت و افسوس کے ساتھ انھیں سپردِ خاک کیا گیا، اگلے دن ختم اور ایصالِ ثواب کرایا گیا ۔ (ماہنامہ دار العلوم، ص ٤۷ ستمبر ۱۹٦٦ ء) ۔
۸ ۔ مولانا محمد نعیم صاحب مرحوم، دار العلوم حرم مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے مہتممِ اعلی مولانا محمد سلیم صاحب کے برابر حقیقی نے ۲، شوال المکرم کو بعارضہ قلب داعی اجل کو لبیک کہا، میری درخواست ہے کہ مولانا مرحوم کے لیے علمی حلقوں اور مدارس میں ختمِ قرآنِ کریم و ایصالِ ثواب کا بندوبست کیا جائے، اور تعزیت ناموں کے ذریعہ اس کی اطلاع پتا ذیل پر حضرت مولانا محمد سلیم صاحب کو دی جائے ۔ (ماہنامہ دار العلوم، ص ٤۷، ٤۸، مئی ۱۹٦۳ ء) ۔
۹ ۔ جناب حضرت حافظ اللہ دئیے صاحب رحمه الله مرحوم و مغفور، مرید عالمِ ربانی حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نور اللہ مرقدہٗ بہ عمر تقریباً نوے سال، بعارضہ میعادی بخار تیرہ چودہ یوم کی علالت کے بعد رحلت فرما گئے، مرحوم کے لیے دار العلوم میں ختم اور ایصالِ ثواب کرایا گیا ۔ (ماہنامہ دار العلوم، ٤۸، نومبر ۱۹۷٦ ء) ۔
۱۰ ۔ امیر جماعتِ تبلیغ حضرت مولانا انعام الحسن صاحب رحمه الله کے سانحہ وفات کی اطلاع ملتے ہی دار العلوم میں غم و اندوہ کی فضا چھا گئی، اور فوراً ہی ایصالِ ثواب کا انتظام کیا گیا، جس میں تمام طلبہ، اساتذہ اور کارکنان نے شرکت کی اور دعا کی گئی، اور دار العلوم میں ایک یوم کی تعطیل کر کے طلبہ، اساتذہ اور کارکنان کو ایصالِ ثواب کے تسلسل کو باقی رکھنے کی ہدایت کر دی گئی ۔ (ماہنامہ دار العلوم، ص ۵٦، جولائی ۱۹۹۵ ء) ۔
۱۱ ۔ قطب العالم حضرت مولانا عبد القادر صاحب رائے پوری رحمه الله کی وفات پر دار العلوم میں ختمِ قرآنِ پاک اور ختمِ کلمہ طیبہ کے ذریعہ ایصالِ ثواب کیا گیا، جس میں علماء، طلباء و اراکین دار العلوم نے بڑی تعداد میں شرکت کی بالخصوص صدر المدرسین حضرت مولانا ابراہیم صاحب، مولانا مبارک علی صاحب نائب مہتمم، مولانا سید فخر الحسن صاحب وغیرہ، ختم کے بعد دار الحدیث کے تحتانی ہال میں اجتماع ہوا ۔ (ماہنامہ دار العلوم، ٤۸، اکتوبر ۱۹٦۲ ء) ۔
۱۲ ۔ مجاہدِ ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب رحمه الله کے سانحہ وفات پر دار العلوم میں قرآنِ کریم اور ختم کلمہ طبیہ شروع کر دیا، دار العلوم کی درس گاہیں دفاتر بند کر دیے گئے اور دار العلوم کے تمام حضرات ختم میں آ کر شریک ہو گئے، ختم سے فراغت کے فوراً بعد، تمام حضرات اساتذہ و طلبہ اور کارکنانِ دفاتر دار الحدیث کے زیرین ہال میں جمع ہو گئے، حضرت مہتمم صاحب مد ظلہ، حضرت علامہ مولانا محمد ابراہیم صاحب مد ظلہ، صدر المدرسین، حضرت شیخ الحدیث مولانا فخر الدین صاحب مد ظلہ کے اسٹیج پر آتے ہی مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا ۔ (ماہنامہ دار العلوم، ٤۸، ستمبر ۱۹٦۲ ء) ۔
۱۳ ۔ حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله کی وفات پر دار العلوم کی فضا اُداس اور غم زدہ ہو گئی، دار العلوم میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا، دار العلوم کے تمام اساتذہ، طلبہ اور ملازمین نے شام تک قرآن شریف کا ختم پڑھا اور مفتی صاحب رحمه الله کے لیے ایصالِ ثواب کیا ۔ پھر مفتی صاحب مرحوم کی تعزیت کے سلسلہ میں دار العلوم میں جلسہ ہوا جس کے فرائض صدارت حضرت مہتمم صاحب مد ظلہ نے ادا فرمائے، اس جلسہ میں متعلقین دار العلوم کے علاوہ شہر کے مسلمان بھی شریک تھے ۔ (ماہنامہ دار العلوم، ص ٤، جمادی الاولی ۱۳۷۲ ھ) ۔
۱٤ ۔ حضرت مولانا سمیع الحق صاحب رحمه الله کی شہادت پر تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوے رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب مد ظلہ فرماتے ہیں: آج ہم نے اپنے جامعہ دار العلوم کراچی میں اسباق بند کر کے ان کے لیے دعائیں کی ہیں، ختم کروائے ہیں، ختمِ قرآن بھی ہوا، ختمِ خواجگان بھی ہوا، ختمِ آیتِ کریمہ بھی ہوا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بخاری شریف کے پانچ ختم ہوئے، کیوں کہ ختمِ بخاری کے بعد بھی دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں، بزرگوں کا بھی یہ معمول رہا ہے ۔ الحمد للہ ان کے لیے خوب دعائیں ہوئی ہیں ۔ (ماہنامہ البلاغ، ص ۱٦، ربیع الاول ۱٤٤۰ ھ /دسمبر ۲۰۱۸ ء) ۔
علاوہ ازیں درجِ ذیل چند بڑی شخصیات کے تعزیتی جلسے ہوئے، جن کا تذکرہ؛ مکمل تاریخ دار العلوم دیوبند، نقش حیات، اسیرانِ مالٹا اور سیرتِ اشرف وغیرہ میں مذکور ہے ؛
۱ ۔ بانی دار العلوم دیوبند حضرت مولانا قاسم صاحب نانوتوی رحمه الله ۔
۲ ۔ مہتممِ دار العلوم دیوبند حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمه الله ۔
۳ ۔ مفتی دار العلوم دیوبند حضرت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمه الله ۔
٤ ۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمه الله ۔ وغیرہ شخصیات ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.