حادثات میں ریزہ جسم پر نماز جنازہ کا حکم:
Question
آج کل کے حادثات میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میت کا جسم ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے اور پہچانا نہیں جاتا، نیز اعضاء بھی بکھرے ہوتے ہیں، تو کیا ان سب کو جمع کر کے اجتماعی نماز جنازہ جائز ہے یا نہیں؟ تاکہ ورثاء کو تسلی ہو جائے؟
Answer
حادثات میں میت کے جسم کا اکثر حصہ یا نصف حصہ سر کے ساتھ دستیاب ہوا ہو تو سب شہداء کو جمع کرے ان کی نیت سے نماز جنازہ پڑھنا درست ہے، تاکہ سب کو تسلی ہو جائے لیکن اگر ان شہداء میں سے کسی کے جسم کا اکثر حصہ صحیح سالم دستیاب نہیں ہوا تو نماز جنازہ ساقط ہو جائے گی، اگر کوئی پڑھے گا بھی تو یہ عرفی جنازہ ہو گا شرعی جنازہ نہیں ہو گا ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإن وجد نصفه من غير الرأس أو وجد نصفه مشقوقاً طولاً فإنه لا يغسل ولا يصلى عليه ويلف في خرقة ويدفن فيها. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۵۹).
در مختار میں علامہ حصکفی رحمه الله لکھتے ہیں:
وجد رأس آدمي، أو أحد شقيه لا يغسل ولا يصلى عليه بل يدفن إلا أن يوجد أكثر من نصفه ولو بلا رأس. (الدر المختار: ۲/۱۹۹، سعيد).
وينظر للمزيد: (
البحر الرائق: ۲/۳۰۵، ط: رشیدیہ، و الفتاوی التاتارخانیۃ: ۲/۱۷۸، و بدائع الصنائع: ۱/۳۰۲، سعید، و فتاوی محمودیہ: ۸/٦٦۵، جامعہ فاروقیہ، و کفایت المفتی: ۵/۳٦۹، و فتاوی حقانیہ: ۳/٤٤۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.