میت پر متعدد بار نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #206Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

کیا میت پر متعدد بار نمازِ جنازہ پڑھی جا سکتی ہے؟ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی بڑی عظیم شخصیت کی نمازِ جنازہ کئی مرتبہ پڑھی جاتی ہے ۔ کیا یہ صحیح ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک میت پر متعدد مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، ہاں اگر پہلی مرتبہ ولی کی اجازت کے بغیر اجنبی نے پڑھ لی ہو تو ولی کے لیے دوبارہ پڑھنے کی اجازت ہے پھر ولی کے ساتھ دوسرے حضرات جنہوں نے نہیں پڑھی وہ بھی شرکت کر سکتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مذکور ہے:

ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة لا جماعة ولا وحداناً عندنا إلا أن يكون الذين صلوا عليها أجانب بغير أمر الأولياء ثم حضر الولي فحينئذٍ له أن يعيدها

ولنا ما روي أن النبي ﷺ صلى على جنازة فلما فرغ جاء عمر رضي الله عنه ومعه قوم فأراد أن يصلي ثانياً فقال له النبي ﷺ: الصلاة على الجنازة لا تعاد ولكن ادع للميت واستغفر له وهذا نص في الباب وروي أن ابن عباس رضي الله عنه وابن عمر رضي الله عنه فاتتهما صلاة على جنازة فلما حضرا ما زادا على الاستغفار له، وروي عن عبد الله بن سلام رضي الله عنه أنه فاتته الصلاة على جنازة عمر رضي الله عنه فلما حضر قال: أسبقتموني بالصلاة عليه فلا تسبقوني بالدعاء له والدليل عليه أن الأمة توارثت ترك الصلاة على رسول الله ﷺ وعلى الخلفاء الراشدين والصحابة رضوان الله عليهم أجمعين، ولو جاز لما ترك مسلم الصلاة عليهم خصوصاً على رسول الله ﷺ لأنه في قبره كما وضع فإن لحوم الأنبياء حرام على الأرض به ورد الأثر وتركهم ذلك إجماعاً منهم دليل على عدم جواز التكرار. (بدائع الصنائع: ۱/۳۱۱، سعيد).
وينظر للمزيد: (مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي، ص ۵۹۰، ط: قديمي، والفتاوى الهندية: ۱/۱٦۳).

عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
میت پر صرف ایک بار نماز پڑھی جائے اس لیے کہ حق فرضیت اس سے ادا ہو جائے گا اور اس کے بعد جو نماز پڑھی جائے گی وہ نفل ہو گی اور جنازہ کی نماز بطورِ نفل مشروع نہیں ہے، لیکن اگر ولی میت کے سوا کسی ایسے شخص نے نمازِ جنازہ پڑھائی جس کو ولی پر مقدم ہونے کا حق نہیں تھا اور ولی نے اس کو اجازت بھی نہیں دی تھی اور ولی نے اس کی متابعت بھی نہیں کی تو ولی اگر چاہے تو دوبارہ نماز پڑھ سکتا ہے اس لیے کہ اس کا حق باقی ہے اگر چہ میت پر نماز پڑھنے کا فرض اجنبی کے پڑھنے سے ادا ہو چکا ہے پس ولی کو اس کے حق ولایت کی وجہ سے اعادہ کی اجازت ہے نہ کہ اسقاطِ فرض کے لیے کیوں کہ وہ تو پہلے ادا ہو چکا ہے پس اگر کوئی اعادہ نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جب ولی اس میت پر نماز کا اعادہ کرے تو جو لوگ پہلی نماز میں شریک نہیں تھے وہ ولی کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں اور جو لوگ پہلی نماز میں شریک تھے وہ دوبارہ ولی کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتے کیوں کہ ان کی وہ نماز نفل ہو گی جو مشروع نہیں ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۵۲۷) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی محمودیہ: ۸/۵۸۸، جامعہ فاروقیہ، و امداد الاحکام: ۱/۸۲۷، و احسن الفتاوی: ٤/۲۱۳، و آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٤/۳۹۵، و فتاوی رحیمیہ: ۳/۵۵٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.