متعدد اموات پر نماز ِ جنازہ پڑھنے کا طریقہ:

4 min readFatwa Vol 2 #506Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

اگر متعدد جنازے اکٹھے پڑھا دیے جائیں اور ان میں مرد و عورت اور بچے شامل ہوں تو ان کو امام کے سامنے کس طرح رکھنا چاہیے؟

Answer

افضل یہ ہے کہ ہر ایک پر علیحدہ نماز پڑھی جائے، لیکن سب پر ایک ساتھ بھی جائز ہے، اس کی تین صورتیں ہیں: (۱) ایک یہ ہے کہ ایک میت امام کے سامنے رکھی جائے، اس کے پاؤں کی طرف دوسری کا سر اور اس کے پاؤں کی طرف تیسری کا سر (۲) دوسری صورت یہ ہے کہ جو میت امام کے سامنے ہے اس سے قبلہ کی طرف دوسری اور اس سے قبلہ کی طرف تیسری، سب کا سینہ امام کے سامنے ہو، (۳) تیسری صورت یہ ہے کہ پہلی میت کے قبلہ کی طرف دوسری میت اس طرح رکھی جائے کہ پہلی کے کندھوں کے برابر دوسری کا سر ہو اسی طرح دوسری کے کندھوں کے برابر تیسری کا سر ہو، تینوں صورتوں میں امام کے قریب مرد کی میت ہو پھر لڑکا پھر عورت ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۰۸ ۔ و عمدۃ الفقہ: کتاب الصلاۃ حصہ دوم: ص ۵۲۳، المجددیۃ)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
پہلی صور ت: سب جنازوں کی شمالاً جنوباً قطار بنائی جائے اولاً مرد کا جنازہ رکھیں، اس کی پائنتی پر نابالغ بچہ کا جنازہ اور اس کی پائنتی پر عورت کا جنازہ اور اس کی پائنتی پر نابالغ بچی کا جنازہ اور امام سب سے افضل کے پاس کھڑا ہو ۔
دوسری صورت: سب جنازے امام کے سامنے ی کے بعد دیگر اس طرح رکھے جائیں کہ امام تمام جنازوں کے سینوں کے مقابل ہو، اولاً مرد کا جنازہ اس کے بعد نابالغ بچہ کا، اس کے بعد عورت کا اور اس کے بعد نابالغ بچی کا جنازہ ہو، یہ صورت پہلی صورت سے اولیٰ ہے ۔
تیسری صورت: یہ بھی جائز ہے کہ پہلے جنازے کے بعد دوسرا جنازہ تھوڑا نیچے ہٹا کر اس طرح رکھا جائے کہ دوسری میت کا سر پہلی میت کے کندھے کے پاس ہو اور تیسری میت کا سر دوسری میت کے کندھے کے پاس ہو اور چوتھی میت کا سر تیسری میت کے کندھے کے پاس ہو (سیڑھی کی طرح) ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۰۰، رحیمیہ)
تینوں صورتیں نقشۂ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وإذا اجتمعت الجنائز فأفرد الصلاة على كل واحدة أولى من الجمع وتقديم الأفضل أفضل وإن اجتمع جاز، ثم إن شاء جعل الجنائز صفاً واحداً وقام عند أفضلهم، وإن شاء جعلها صفاً واحداً مما يلي القبلة واحداً خلف واحد بحيث يكون صدر كل جنازة مما يلي الإمام ليقوم بحذاء صدر الكل وإن جعلها درجاً فحسن لحصول المقصود وراعي الترتيب المعهود خلفه حالة الحياة، فيقرب منه الأفضل فالأفضل الرجل مما يليه، فالصبي، فالخنثى فالبالغة فالمراهقة، والصبي الحر يقدم على العبد، والعبد على المرأة. وفي الشامي: قوله وإن جمع جاز أي بأن صلي على الكل صلاة واحدة، قوله صفاً واحداً أي كما يصطفون في حال حياتهم عند الصلاة بدائع: أي بأن يكون رأس كل عند رجل الآخر فيكون الصف على عرض القبلة، (قوله وإن شاء جعلها صفاً واحداً) ذكر في البدائع التخيير بين هذا والذي قبله، ثم قال هذا جواب ظاهر الرواية. وروي عن أبي حنيفة رحمه الله في غير رواية الأصول أن الثاني أولى لأن السنة هي قيام الإمام بحذاء الميت، وهو يحصل في الثاني دون الأول. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۱۹، سعيد. وكذا في البحر الرائق: ۲/۱۸۸، كوئٹه. والفتاوى الهندية: ۱/۱٦٥. وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ٥۹۳، قديمي).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.