آبِ زمزم میں کپڑا دھو کر کفن کے لیے رکھنے کا حکم:
Question
بعض لوگ حج اور عمرہ کے لیے جاتے ہیں تو وہاں سے کفن کے لیے کپڑا خریدتے ہیں پھر اس کو آبِ زمزم میں دھو کر کفن کے لیے رکھ لیتے ہیں، کیا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟ جب کہ کپڑا سوکھنے کے بعد زمزم کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا، تو پھر اس کا کیا فائدہ ہوگا؟
Answer
پارچہ کفن کو آبِ زمزم میں تر کر کے حصولِ برکت کی خاطر کفن کے لیے رکھنے میں کوئی حرج نہیں، اگر چہ پانی خشک ہو جائے گا لیکن اس کی برکات باقی رہ جائیں گی، اس کے بہت سے نظائر موجود ہیں: ۱ ۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی قمیص مبارک عبداللہ بن ابی بن سلول کو دی تھی ۔ ۲ ۔ آپ ﷺ نے اپنا تہ بند اپنی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو مرحمت فرمایا تھا، اور فرمایا: "
أشعرنها إياه "
۔ ۳ ۔ ایک صحابی نے آپ ﷺ کا تہ بند کفن کے لیے طلب کیا اور آپ نے عنایت فرمایا ۔
نیز جب ایک کپڑا نجاست آلودہ ہو کر نا پاک ہو جاتا ہے تو خشک ہونے کے بعد بھی ناپاک ہی رہتا ہے، تو اسی طرح مبارک پانی والا کپڑا پانی کے خشک ہونے کے بعد بھی مبارک سمجھا جائے گا ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں روایت ہے:
عن ابن عمر رضي الله عنه أن عبد الله بن أبي لما توفي جاء ابنه إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله أعطني قميصك أكفنه فيه وصل عليه واستغفر له فأعطاه النبي ﷺ قميصه
(رواه البخاري: ۲/۷٦/۱۲٦۹، باب الكفن في القميص الذي يكف).
وعن عمرو سمع جابراً قال: أتى النبي ﷺ عبد الله بن أبي بعد ما دفن فأخرجه فنفث فيه من ريقه وألبسه. (رواه البخاري: ۲/۷٦/۱۲۷۰، باب الكفن في القميص).
وعن أم عطية رضي الله تعالى عنها قالت: دخل علينا رسول الله ﷺ ونحن نغسل ابنته فقال: اغسلنها ثلاثاً
فإذا فرغتن فآذنني فلما فرغنا آذناه فألقى إلينا حقوة فقال: أشعرنها إياه. (رواه البخاري: ۲/۷٤/۱۲۵٤، باب ما يستحب أن يغسل وتراً).
وعن سهل رضي الله تعالى عنه أن امرأة جاءت النبي ﷺ ببردة منسوجة فيها حاشيتها أتدرون ما البردة قالوا: الشملة، قال: نعم، قالت: نسجتها بيدي فجئت لأكسوكها فأخذها النبي ﷺ محتاجاً إليها فخرج إلينا وأنها إزاره فحسنها فلان فقال: اكسنيها ما أحسنها، قال القوم: ما أحسنت لبسها النبي ﷺ محتاجاً إليها ثم سألته وعلمت أنه لا يرد قال: إني والله ما سألته لألبسه إنما سألته لتكون كفني، قال سهل: فكانت كفنه. (رواه البخاري: ۲/۷۸/۱۲۷۷، باب من استعد الكفن في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فلم ينكر عليه).
کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
کفنِ مبلول بماء زمزم میں میرے نزدیک جواز کی جہت راجح ہے، اور اس کو استنجاء بمائے زمزم پر قیاس نہ کرنا چاہیے، کیوں کہ استنجاء میں عین زمزم کی تعریض للنجاسۃ ہے اور ثوبِ مبلول بماء زمزم میں مائے زمزم بصورتہ موجود نہیں ہے، خشک ہو چکا ہے، صرف کپڑے کا اس کے ساتھ گزشتہ زمانہ میں تلبس ہوا ہے اور اس قسم کے تلبس کو عدمِ جوازِ تکفین میں دخل نہیں ۔ (کفایت المفتی: ۵/۳۳۲، ط: جامعہ فاروقیہ) ۔
امداد الفتاوی میں مذکور ہے:
آبِ زمزم از کفن مبلول مانند از بدن انسان خشک خواہد شد ذات او غیر موجود است و تبرک امر معنوی است ۔ (امداد الفتاوی: ۱/۵٦٤، دار العلوم کراچی) ۔
فتاوی رحیمیہ میں مذکور ہے: سوال: کپڑے کو زمزم کے پانی میں تر کر کے خشک ہونے کے بعد کفن میں استعمال کر سکتے ہیں، بے ادبی تو نہیں ہو گی؟ الجواب: ہاں! حصولِ برکت کی غرض سے آبِ زمزم میں تر کر کے خشک کیا ہوا کپڑا کفن میں استعمال کر سکتے ہیں ۔ اس میں سوء ادب جیسی کوئی چیز نہیں ہے، قمیص مبارک کو کفن میں استعمال کرنا حدیث سے ثابت ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/٤۸۳، ط: دیوبند) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی حقانیہ: ۳/٤٦۳، و کتاب الفتاوی: ۳/۱۵۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.