مومن کی روح نکالنے میں آسانی ہوتی ہے، اس پر اشکال و جواب:
Question
احادیث کے موافق مسلمان کی روح آسانی سے نکالی جاتی ہے، جیسے آٹے سے بال نکالا جائے، یہ بات کون سی حدیث میں مذکور ہے؟ پھر جب مسلمان کی روح آسانی سے نکالی جاتی ہے تو آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت تکلیف کا ذکر حدیث میں آتا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟
بينوا بالدليل توجروا بالأجر الجزيل.
Answer
بوقتِ وفات کبھی اللہ تعالی کے مخصوص بندوں پر کچھ تکلیف کی کیفیت معلوم ہوتی ہے وہ رفع درجات اور درجاتِ عالیہ کی تکمیل کے لیے ہوتی ہے، یا تکلیف روح نکالنے سے پہلے ہوتی ہے نزعِ روح کے وقت آسانی ہوتی ہے حتی کہ روح نکلنے کا پتا ہی نہیں چلتا، لہٰذا دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔
مومن کی روح آسانی سے نکالی جاتی ہے، ملاحظہ ہو حدیث میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: إن المؤمن إذا حضر، أتته الملائكة بحريرة فيها مسك، ومن ضبائر الريحان، وتسل روحه كما تسل الشعرة من العجين، ويقال: يا أيتها النفس المطمئنة، اخرجي راضية مرضية، مرضياً عنك، وطويت عليه الحريرة، ثم يبعث بها إلى عليين، وإن الكافر إذا حضر أتت الملائكة يمسح فيه جمرة، فتنزع روحه انتزاعاً شديداً، ويقال: أيتها النفس الخبيثة، اخرجي ساخطة مسخوطة عليك إلى هوان وعذاب، وإذا خرجت روحه، ووضعت على تلك الجمرة، فإن لها نشيشاً، فيطوى عليها المسح، ويذهب بها إلى سجين. لم يرو هذا الحديث عن القاسم بن الفضل إلا سليمان بن النعمان. (المعجم الأوسط للطبراني: ۱/٤۱٦/۷٤۲).
طبرانی کے دو رواۃ ؛ قاسم بن الفضل اور سلیمان بن النعمان کے بارے میں تحقیق ملاحظہ ہو :
۱ـ القاسم بن الفضل بن معدان بن قريظ الحداني الازدي؛
قال عمرو بن علي: سمعت يحيى بن سعيد يحسن الثناء على القاسم بن الفضل الحداني، قال: وكان ثقة. وقال عبد الرحمن بن مهدي: كان من قدماء أشياخنا ومع ذلك من أثبتهم. وقال أبو طالب عن أحمد بن حنبل: ثقة. انظر: (تهذيب الكمال: ۲۳/٤۱۰، ط: مؤسسة الرسالة، وسير أعلام النبلاء: ۷/۲۹۰، ط: مؤسسة الرسالة).
۲ـ سليمان بن النعمان الشيباني البصري؛
قال الذهبي: قال أبو حاتم: شيخ (تاريخ الإسلام: ۵/ ۳۲۹)، وقال القاسم بن قطلوبغا في الثقات (۵ /۱۳۲) : هو شيخ.
معلوم ہوا کہ دونوں راوی ثقہ ہیں، نیز تہذیب الکمال میں ذکر کیا ہے کہ سلیمان بن النعمان کا سماع قاسم بن الفضل سے ثابت ہے ۔ (
تهذيب الكمال: ۲۳/٤۱۱).
نبی ﷺ کی وفات کے وقت سختی کا ذکر ہے، وہ روایت ملاحظہ فرمائیں:
إن عائشة رضي الله تعالى عنها، كانت تقول: إن من نعم الله علي أن رسول الله ﷺ توفي في بيتي وفي يومي وبين سحري ونحري
وبين يديه ركوة أو علبة يشك عمر فيها ماء فجعل يدخل يديه في الماء فيمسح بهما وجهه يقول: لا إله إلا الله إن للموت سكرات ثم نصب يده فجعل يقول في الرفيق الأعلى، حتى قبض ومالت يده. (صحيح البخاري، رقم؛ ٤٤٤۹).
وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: ما رأيت أحداً أشد عليه الوجع من رسول الله ﷺ. (صحيح البخاري، رقم: ۵٦٤٦، باب شدة المرض).
ترمذی شریف کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها، قالت: ما أغبط أحداً بهون موت بعد الذي رأيت من شدة موت رسول الله ﷺ. (سنن الترمذي، رقم: ۹۷۹).
اس حدیث کے تحت مفتی سعید احمد پالن پوری تحفۃ الالمعی میں لکھتے ہیں:
صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: میں کسی پر موت کی آسانی کی وجہ سے رشک نہیں کرتی، جب سے میں نے نبی کریم ﷺ کی وفات کے وقت کی سختی دیکھی ہے، یعنی اگر کسی کی موت آسانی سے چٹ پٹ ہو جاتی ہے، تو یہ کوئی قابل رشک بات نہیں، کیوں کہ موت کی آسانی محبوبیت کی دلیل اور سختی مبغوضیت کی دلیل نہیں ہے، پس موت خواہ آسانی سے آئے یا سختی سے کچھ فرق نہیں پڑتا، موت کی سختی کبھی کبھی رفع درجات کے لیے ہوتی ہے اور نرمی اس لیے ہوتی ہے کہ اس کی حسنات کا بدلہ اسی دنیا میں دے دیا جائے، کیوں کہ آگے اس کا کوئی حصہ نہیں ۔ (تحفۃ الالمعی: ۳/۳۸٤، ط: زمزم) ۔
ملاحظہ ہو امام قرطبی لکھتے ہیں کہ موت کی سختی رفعِ درجات کے لیے ہوتی ہے:
ربما خطر لبعض الناس أن هؤلاء: أحباب الله، وأنبياؤه ورسله، فكيف يقاسون هذه الشدائد العظيمة؟ وهو سبحانه قادر أن يخفف عنهم أجمعين، فالجواب: إن أشد الناس بلاء في الدنيا: الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل كما قال نبينا عليه السلام، خرَّجه البخاري وغيره فأحب الله أن يبتليهم تكميلاً لفضائلهم لديه، ورفعة لدرجاتهم عنده، وليس ذلك في حقهم نقصاً، ولا عذاباً، بل هو كما قال، كمال رفعة، مع رضاهم بجميل ما يجري الله عليهم، فأراد الحق، سبحانه أن يختم لهم بهذه الشدائد، مع إمكان التخفيف والتهوين عليهم، ليرفع منازلهم، ويعظم أجورهم قبل موتهم. (التذكرة في أحوال الموتى وأمور الآخرة: ۱/۲۵).
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی محمودیہ: ۱/٦۵۳، جامعہ فاروقیہ، و فتاوی فریدیہ: ۱/۲٦۲، و امداد الفتاوی: ۵/۸٤) ۔
حضرت تھانوی رحمه الله نے ایک جگہ لکھا ہے کہ سختی کا تعلق مزاج میں قوت اور طاقت سے ہے آپ قوی المزاج، طاقتور تھے ۔ ملفوظات میں لکھتے ہیں: نزع یہ قوتِ مزاج و طبیعت و شدتِ تعلق روح مع الجسد پر مبنی ہے، جو قوی لوگ ہیں ان کو شدت ہوتی ہے، ضعفاء کو اس قدر نہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو سختی ہوئی، چونکہ آپ قوی المزاج بھی تھے اور بوجہ شفقت کے امت کے ساتھ تعلق بھی شدید تھا ۔ (ملفوظاتِ حکیم الامت: ۱۲/۱۹۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.