متبنی کی بیوی کے ساتھ نکاح پر اشکال و جواب:
Question
نبی کریم ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی کے ساتھ کیوں نکاح کیا ؟ کچھ غیر مسلم اعتراض کرتے ہیں، غیر مسلم کو سمجھانے کے لیے اچھا جواب کیا ہے؟ بینوا بالدلیل ۔
Answer
غیر مسلم کو سمجھانے کے لیے آسان جواب یہ ہے کہ کیا دنیا میں کسی شخص کے دو حقیقی باپ ہو سکتے ہیں؟ یہ بالکل محال ہے، تو پھر حضرت زید کے والد حارثہ بھی اور آنحضرت ﷺ بھی، دونوں کیسے ممکن ہے؟ نیز قابل اشکال بات تو یہ ہے کہ غیر کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنایا جائے، غیر کے بیٹے کو غیر کا بیٹا کہنے میں کیا اشکال ہے؟
باقی اصل جواب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کی ایک رسم یہ تھی کہ اگر کسی نے کسی کو بیٹا کہہ لیا تو وہ اس کا حقیقی بیٹا سمجھا جاتا تھا، اس کو وہی سب حقوق دیے جاتے جو حقیقی بیٹے کو دیے جاتے تھے، اسے میراث وغیرہ میں بھی شریک کیا جاتا تھا، لہٰذا اگر منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا ہو جائے تو نسب درہم برہم ہو جائے اور وراثت میں شریک ہو جائے نیز اس کے واسطے سے دیگر اقارب بھی شریکِ میراث ہو جائے، اور اس کی وجہ سے اس کے حقیقی ورثاء پر ظلم و ستم ہوگا ۔ بنا بریں اللہ تعالی نے زمانہ جاہلیت کی اس رسمِ بد کو اپنے نبی کے عمل کے ذریعہ ختم فرما دیا تاکہ کسی کو اعتراض کا حق باقی نہ رہے ۔
نیز اس بات کی طرف بھی رہنمائی کر دی گئی کہ نکاح کے جواز و حرمت کا تعلق متبنی سے نہیں بلکہ نسبی، خونی رشتہ اور رضاعت و مصاہرت کے ساتھ ہے ۔ کسی یتیم کی کفالت کرنا تو محض تبرع و احسان کے قبیل سے ہے ۔
ملاحظہ ہو تفسیر حقانی میں مکتوب ہے:
لوگوں کی ہدایت کا دارو مدار نبی علیہ السلام کی عظمت پر ہے اس لیے مخالفوں کے بعض مطاعن کو جو حضرت ﷺ پر کیا کرتے تھے دفع کرتا ہے، من جملہ ان مطاعن کے ایک طعن حضرت زید کی بیوی حضرت زینب سے نکاح کر لینے کے بارے میں تھا جو حضرت ﷺ نے زید کے طلاق دینے اور عدت گزر جانے کے بعد ایک حکمِ آسمانی اور مصلحتِ الٰہیہ کی وجہ سے کیا تھا ۔
اور اے نبی تجھ سے اس کا نکاح ہم نے کیوں کر دیا؟
لكي لا يكون على المؤمنين حرج في أزواج أدعيائهم إذا قضوا منهن وطراً وكان أمر الله مفعولاً
۔ کہ مسلمانوں کے لیے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں جب کہ وہ ان کو طلاق دے چکیں کوئی ممانعت نہ رہے، یعنی یہ عورت اسلام میں محرمات میں سے نہیں ہے اور ایک رسم کی وجہ سے اس کو حرام جانتے ہیں، یہ رسم اور الحاقِ جاہلیت مٹ جاوے، در حقیقت ایسی رسوم کے توڑنے میں لوگوں پر بڑے حملے ہوا کرتے ہیں، ہمارے ملک میں چچی اور ممانی سے نکاح کرنا بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے، اگر کوئی اس رسم کے توڑنے کے لیے کر لیتا ہے تو پھر دیکھیے اس پر کیسے کیسے بہتان باندھتے ہیں اور کیسے حملے ہوتے ہیں، فرماتا ہے یہ بات ہو کر رہنے والی تھی خدا کو اس کا مٹانا منظور تھا ۔
﴿مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ﴾
۔ کوئی اگر شبہ کرے کہ اس رسم کو نبی سے کیوں مٹوایا کسی اور کا نکاح کر کے اس کو توڑ دینا تھا، اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ نبی پر کیا عیب ہے اور کیا تنگی اور ممانعت ہے اس کام کے کر لینے میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا، یا اس کو اس پر مامور کر دیا ۔
سنة الله في الذين خلوا من قبل
۔ اگلے انبیاء اور صلحاء میں بھی اللہ کا یہی دستور چلا آیا ہے کہ وہ ان کے ہاتھ سے رسومِ جاہلیت کو تڑوایا کرتا ہے، انہیں کو اس کے توڑنے پر مامور کیا کرتا ہے، کیوں کہ نشانہ ملامت بننا انہیں مردانِ خدا کا کام ہے اور یہ دستورِ رسم شکنی کن لوگوں کا ہے؟
﴿الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ﴾
۔ ان کا جو اللہ کے احکام پہنچایا کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ہیں، کسی کے طعن و تشنیع اور برا بھلا کہنے کی ان کو کچھ پروا نہیں ہوتی ہے ۔
وكفى بالله حسيباً
، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو جو ان پاک بازوں پر طعن کرتے ہیں ان سے وہ ضرور حساب لے گا باز پرس کرے گا ۔ (تفسیر حقانی: ٤/۱۲، ۱۳، میر محمد کتب خانہ، کراچی) ۔
تفسیر جواہر القرآن میں ہے:
اللہ تعالی کو یہ منظور تھا کہ اس رسمِ جاہلیت کو خود آپ کے اپنے عمل سے ختم کرے اس لیے اللہ تعالی نے آپ کو تنبیہ فرمائی کہ آپ لوگوں کے اعتراض سے ڈرتے ہیں حالانکہ آپ کو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا چاہیے ۔
جب زید نے زینب کو طلاق دے دی تو ہم نے آپ کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا اور اس رسمِ جاہلیت کو توڑ دیا تاکہ متبناؤں کی مطلقہ عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج اور تنگی باقی نہ رہے ۔ اللہ تعالی جل شانہٗ نے متبنی کی مطلقہ سے نکاح کو جائز کر دیا ہے اس لیے زید کی مطلقہ سے نکاح کر لینے میں آپ پر کوئی الزام نہیں ۔ (تفسیر جواہر القرآن: ۳/۹٤۰، از افادات: حضرت مولانا حسین علی رحمه الله، ط: کتب خانہ رشیدیہ، راول پنڈی) ۔
معارف القرآن میں مذکور ہے:
انسان کا اصلی بیٹا وہ ہے جو اس کے نطفہ سے پیدا ہوا ہو، یہ کیونکر ممکن ہے کہ منہ بولا بیٹا حقیقۃً بیٹا ہو جائے عقلاً یہ بات محال ہے کہ حقیقۃً اس کے دو باپ ہو جائیں منہ سے کسی کو بیٹا کہہ دینے سے حقیقۃً بیٹا نہیں بن جاتا اور نہ اگر منہ بولا بیٹا حقیقۃً بیٹا ہو جائے تو نسب درہم برہم ہو جائے اور حقیقی بیٹے کا وراثت میں مزاحم ہو جائے اور دیگر اقارب کا بھی شریکِ وراثت ہو جائے اور اس طرح کسی کو بیٹا بنا لینا حقیقی اقارب پر صریح ظلم و ستم ہے ۔ (معارف القرآن: ٦/۲۲۵ از مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی رحمه الله، مکتبہ عثمانیہ) ۔
تفسیر عثمانی میں مذکور ہے:
لكي لا يكون على المؤمنين حرج في أزواج أدعيائهم
یعنی آپ کے نکاح میں دینے کی غرض یہی تھی کہ دلوں سے جاہلیت کے اس خیالِ باطل کا بالکل قلع قمع کر دیا جائے اور کوئی تنگی اور رکاوٹ آئندہ اس معاملہ میں باقی نہ رہنے پائے ۔ (تفسیر عثمانی، ص ۵٦۳، ط: مجمع الملک فہد) ۔
کتاب الفتاوی میں مرقوم ہے: ماں باپ اور اولاد کا رشتہ محض سمجھنے اور بولنے سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک قدرتی اور فطری رشتہ ہے اس لیے محض اس وجہ سے کہ ایک شخص نے کسی لڑکی کی پر ورش کی ہو اور وہ لڑکی اسے ماں باپ سمجھتی ہو، وہ لڑکی اس پر ورش کرنے والے کے بچوں پر حرام نہیں ہو گی اور ان دونوں کا نکاح درست ہوگا ۔ (کتاب الفتاوی: ٤/۳٤۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.