متبنی سے پردہ کا حکم:
Question
اگر کوئی عورت کسی بچے کو لے کر پالے اور اس کو لے پالک بنا دے، اور وہ بڑا ہو جائے تو وہ اجنبی کی طرح ہوگا یا اپنے بچے کی طرح ہوگا؟ یعنی اس سے پردہ کا اہتمام کرنا ضروری ہوگا؟ یا اس میں تخفیف ہو گی؟
Answer
کسی بچے کو لے کر پالنے سے وہ حقیقت میں اپنی اولاد کی طرح نہیں ہو جاتا بلکہ وہ اجنبی ہی رہتا ہے اور جملہ مسائلِ نکاح، وراثت، پردہ میں وہ اجنبیوں کے حکم میں ہوتا ہے، چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے:
﴿وما جعل أدعياء كم أبناء كم ذلكم قولكم بأفوهكم﴾ (سورة الأحزاب، الآية: ٤).
ترجمہ: اور نہیں بنایا تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے ۔ یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے ۔
اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں تمام مفسرین اور فقہاء امت کا اتفاق ہے کہ لے پالک کا حکم حقیقی بیٹوں اور حقیقی اولاد والا نہیں ہے بلکہ وہ اجنبیوں کی طرح ہے لہذا نکاح، وراثت اور پردہ وغیرہ کے احکام میں وہ اجنبیوں کی طرح ہے ۔ علامہ شوکانی رحمه الله فرماتے ہیں:
أي ليس ذلك إلا مجرد قول بالأفواه ولا تأثير له، فلا تصير المرأة به أمّاً ولا ابن الغير به ابناً، ولا يترتب على ذلك شيء من أحكام الأمومة والبنوة. (فتح القدير: ٤/۲٦۱).
اور یہی مسلک تمام فقہاء اور مفسرین کا ہے ۔
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب ایک استفتاء کے جواب میں فرماتے ہیں:
متبنی بنانا تو درست ہے لیکن متبنی بنانے سے حقیقی اولاد کے احکام ثابت نہیں ہوتے، اور نہ متبنی کو وراثت کا حق حاصل ہوتا ہے ۔ (کفایت المفتی:
۵
/
۲۷٦
، ط: دار الاشاعت) ۔
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
متبنی بیٹے کو حقیقی بیٹے کے احکامِ شرعیہ نکاح، وراثت پردہ وغیرہ میں شریک نہ سمجھا جائے ۔ (کفایت المفتی:
۵
/
۲۷٦
، دار الاشاعت) ۔
ہاں اگر بچپن میں اس کو دودھ پلا دیا جائے تو اس سے رضاعت ثابت ہو جائے گی پھر وہ اجنبی کے حکم میں نہ ہوگا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.