غیر محرم رشتہ دار سے پردہ کا حکم:
Question
اگر فتنہ کا اندیشہ نہیں اور خلط و اختلاط کی کثرت نہیں تو دیور یا چچا زاد یا چچا کی بیوی اور ماموں زاد یا ماموں کی بیوی وغیرہ سے چہرہ کا پردہ نہ کرنے اور کبھی سلام و ضروری کلام کرنے کی گنجائش ہو گی یا نہیں؟ بینوا بالدلیل توجروا بالاجر الجزیل ۔
Answer
دیور، چچا زاد بھائی، چچا کی بیوی، ماموں زاد بھائی، ممانی وغیرہ سب غیر محارم ہیں، اگر خوفِ فتنہ ہو تو شرعاً ان سے پردہ لازم اور ضروری ہے، بے تکلفی، ہنسی مذاق، اور ان کے ساتھ خلوت اور تنہائی میں بیٹھنا ناجائز ہے ۔
ہاں اگر ایک مکان میں سب ساتھ رہتے ہیں اور مکان تنگ ہے اور آپس میں بے تکلفی ہنسی مذاق، خلوت، تنہائی وغیرہ نہیں، تو گھر والوں کے ساتھ جن میں بڑے بوڑھے حضرات بھی ہوں چہرہ کا سخت پردہ ہر وقت ضروری نہیں، اس میں حرج اور مشقت ہے اور کام کاج میں مشغول ہونے کی وجہ سے ہر وقت چہرہ پر پردہ لٹکانا مشکل بھی ہے لہذا اتنی اجازت ہے ۔ اور احناف کا اصل مذہب بھی یہی ہے کہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو چہرہ کا پردہ لازم نہیں ہے البتہ احتیاط اسی میں ہے چہرہ بھی چھپایا جائے ۔
بندۂ عاجز کہتا ہے تریپل خاء نہ ہو یعنی خلوت، خوفِ فتنہ اور خلط و اختلاط تو چہرے کا پردہ لازم نہیں، ہاں عورتوں کا کھلے چہرے کے ساتھ باہر گھومنا بالکل ناجائز ہے ۔
لأن الشيطان يجري من الإنسان مجري الدم
۔
دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
المشهور من مذهب الحنفية جواز النظر إليها بشرط الأمن من الفتنة والشهوة، كما ذكره الزمخشري ومثله في استحسان البدائع (۵/۱۲۲، سعيد) حيث قال: فلا يحل النظر للأجنبي من الأجنبية الحرة إلى سائر بدنها إلا الوجه والكفين ومثله في شرح المنية الكبير. (أحكام القرآن للتهانوي رحمه الله: ۳/٤٦۱. ٤٦۷).
وفي الدر المختار: وينظر من الأجنبية ولو كافرة إلى وجهها وكفيها فقط للضرورة قيل: والقدم والذراع إذا أجرت نفسها للخبز تاترخانية
فإن خاف الشهوة أو شك امتنع نظره إلى وجهها فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني وغيره وفي الشامي: لا لأنه عورة بل لخوف الفتنة كما قدمه في شروط الصلاة. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ٦/۳۷۰، ۳۷۳، سعيد).
وفي الهداية: ولا يجوز أن ينظر الرجل إلى الأجنبية إلا وجهها وكفيها لقوله تعالى: ﴿ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها﴾ قال على رضي الله عنه وابن عباس رضي الله عنه منها ظهر منه الكحل والخاتم والمراد موضعهما وهو الوجه والكف كما أن المراد بالزينة المذكورة موضعها ولأن في إبداء الوجه والكف ضرورة لحاجتها إلى المعاملة مع الرجال أخذاً وإعطاء وغير ذلك
قال: فإن كان لا يأمن الشهوة لا ينظر إلى وجهها إلا لحاجة لقوله عليه الصلاة والسلام: من نظر إلى محاسن امرأة أجنبية عن شهوة صب في عينيه الآنك يوم القيامة، فإن خاف الشهوة لم ينظر من غير حاجة تحرزاً عن المحرم وقوله: لا يأمن يدل على أنه لا يباح إذا شك في الاشتهاء كما إذا علم أو كان أكبر رأيه ذلك. (الهداية: ٤/٤۵۸، كتاب الكراهية).
وللاستزادة انظر: (الفتاوى الهندية: ۵/۳۲۹، والفتاوى السراجية على هامش قاضيخان: ۲/۱۸، والمبسوط للامام السرخسي: ۱۰/۱۵۲، وشرح تحفة الملوك، ص، ).
احکام القرآن میں ہے:
فالحاصل أن الحنفية حكموا بجواز النظر إلى وجه الأجنبية مشروطاً باليقين على عدم الشهوة والميلان إلى قربها ويحرم عند عدمه سواء علم الشهوة أو ظن أو شك فدار الحكم على حقيقة الفتنة ولم تكن حراماً حتماً فحيث خيفت الفتنة لا يجوز وحيث يقع الأمن يجوز.
ومن هنا وقع الخلاف في صوت المرأة أنه من العورة فلا يجوز أن تتكلم بحيث يسمعها الأجانب أوليس بعورة فيرخص لها في التكلم، والحق الحقيق عند أرباب التحقيق هو أن صوت المرأة ليس بعورة في نفسه إلا أنه قد يكون سبباً للفتنة، فدار حكمه على الفتنة وعدمها فحيث خيف الفتنة حرام إبدائه وحيث لا فلا. (أحكام القرآن: ۳/٤۵٤. ٤۸۲).
مذکورہ بالا نقولِ فقہاء سے معلوم ہوتا ہے کہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو بقدرِ ضرورت سلام کلام کرنے اور چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت ہے بشرطیکہ خلوت نہ ہو کیونکہ چہرہ کا پردہ بعلتِ خوفِ فتنہ لازم کیا گیا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی رشیدیہ میں ہے:
سوال: اگر حجابِ شرعی موجبِ بد گمانی و شر فساد کے نہ ہو سکے تو ان اجنبیوں سے جواس کے چچا، تایا زاد بھائی یا دیور، جیٹھ یا بہنوئی ہیں یا بہنوئی یا جیٹھ، دیور زاد بھتیجے و علی ہذا القیاس اور رشتہ دار ہوں تو ان سے فقط ستر پر کفایت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: حجابِ شرعی کا ترک کرنا ہر حال میں موجبِ گناہ ہے شر و فساد کے اندیشہ سے ترک کرنا حجاب کا جائز نہیں ہو سکتا البتہ چہرہ کا ڈھکنا اگر بوجہ اندیشہ شر ترک کر دیا جائے بشرطیکہ ترک میں فتنہ نہ ہو تو کچھ حرج نہیں کیوں کہ یہ حجاب بوجہ مصلحت وقوع فتنہ ہے اور وہ اعضاء جن کا ستر واجب ہے ان کا کھولنا کسی حال میں جائز نہیں،
فقط واللہ تعالی اعلم ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
٦۳۲
، مکتبہ رحمانیہ، لاہور) ۔
فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمه الله اپنے ایک مرید کے استفسار پر فرماتے ہیں:
حال: گھر میں شرعی پردہ نہیں گاؤں کے رواج کے مطابق پردہ ہوتا ہے، جو نہ ہونے کے درجہ میں ہے ایک مکان ہے اسی میں سب رہتے ہیں اس لیے احتیاط نہیں ہو پاتی، اگر بندہ اہلیہ کو پردہ کی تاکید کرتا ہے تو مکان کا عذر کرتی ہے بندہ بھی خاموش ہو جاتا ہے ارشاد فرمائیں کیا کروں؟
تحقیق: پردہ کے لیے اتنا کافی ہے کہ نا محرم سے تنہائی میں ملنا نہ ہو بے تکلف ہنسی مذاق دل لگی نہ ہو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات چیت نہ ہو ۔ (تربیت الطالبین، ص
۲۲۷
، ط: جامعہ محمودیہ یوپی) ۔
اشکال: لیکن اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے دیور کو موت قرار دیا ہے یعنی اس سے بہت سخت پردہ ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔ اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: اس روایت میں خلوت اور تنہائی سے منع کیا ہے، اس حدیث کے سیاق و سباق سے پتا چلتا ہے اور خلوت بالاجنبیہ تو کسی حالت میں جائز نہیں ۔ حدیث ملاحظہ ہو :
عن عقبة بن عامر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: إياكم والدخول على النساء فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله أفرأيت الحمو، قال: الحمو الموت. (رواه البخاري، رقم ۵۲۳۲، ومسلم، رقم: ۲۱۷۲)، وفي رواية لمسلم عن ابن وهب قال: وسمعت الليث بن سعد يقول: الحمو أخ الزوج وما أشبهه من أقارب الزوج بن العم ونحوه.
قال الفقيه تقي الدين بن دقيق العيد في شرح العمدة: والحديث دليل على تحريم الخلوة بالأجانب، وقوله: "إياكم والدخول على النساء" مخصوص بغير المحارم، وعام بالنسبة إلى غيرهن، ولا بد من اعتبار أمر آخر، وهو أن يكون الدخول مقتضياً للخلوة، أما إذا لم يقتض ذلك فلا يمتنع. (أحكام الأحكام، ص ۵۰۱، رقم الحديث: ۳۱٤، كتاب النكاح، ط: دار الفكر).
مفتی تقی صاحب تکملہ میں فرماتے ہیں:
ويبدو أن ما قاله ابن دقيق العيد رحمه الله هو الأوجه بالنظر إلى سياق الحديث. (تكملة فتح الملهم: ٤/۲۷۱).
نیز امام بخاری رحمه الله نے اس حدیث پر خلوت بالاجنبیہ کی ممانعت کا باب قائم کیا ہے
"باب لا يخلون رجل إلا ذو محرم والدخول على المغيبة"
اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ خلوت بالاجنبیہ ناجائز ہے ۔
نیز امام مسلم رحمه الله نے اس حدیث کے بعد ایک حدیث بیان فرمائی ہے اس سے بھی پتا چلتا ہے خلوت اور تنہائی ممنوع ہے ۔
روي مسلم عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن نفراً من بني هاشم دخلوا على أسماء بنت عميس فدخل أبوبكر الصديق، وهي تحته يومئذٍ فرآهم، فكره ذلك، فذكر ذلك لرسول الله ﷺ وقال: لم أر إلا خيراً، فقال رسول الله ﷺ: إن الله قد برأها من ذلك، ثم قام رسول الله ﷺ على المنبر فقال: لا يدخلن رجل، بعد يومي هذا، على مغيبة، إلا ومعه رجل أو اثنان. (رقم: ۲۱۷۳).
قال في فتح الملهم: قال القرطبي: قوله: إلا ومعه رجل أو اثنان، سداً لذريعة التهمة، فإنهم إذا كانوا جماعة ارتفعت. وهذا في ذلك الزمان العامة والخاصة، وأما في الأزمنة الفاسدة، فلا تخلو مع الواحد، ولا مع الكثير لخوف الظنة، إلا أن تكثر الجماعة أو يكون فيهم صالحون فتزول الظنة. (تكملة فتح الملهم: ٤/۲۷۳).
اور عام طور پر گھروں میں بڑے حضرات موجود ہوتے ہیں تو فتنہ کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے ۔
عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنه قالت: تزوجني الزبير رضي الله عنه وما له في الأرض من مال ولا مملوك ولا شيء غير فرسه قالت: فكنت أعلف فرسه وأكفيه مؤنته
قالت: فجئت يوماً والنوي على رأسي فلقيت رسول الله ﷺ ومعه نفر من أصحابه فدعاني ثم قال: إخ إخ ليحملني خلفه
الخ. (رواه مسلم، رقم: ۲۱۸۲).
اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان فتنہ کا احتمال کم ہے ۔
امام بخاری رحمه الله نے ایک باب قائم فرمایا
"باب ما يجوز أن يخلو الرجل بالمرأة عند الناس" اور
درجِ ذیل حدیث ذکر فرمائی ہے:
عن هشام قال: سمعت أنس بن مالك رضي الله عنه قال: جاء ت امرأة من الأنصار إلى النبي ﷺ فخلا بها فقال: والله إنكن لا حب الناس إلى. (رقم: ۵۲۳٤).
علامہ عینی رحمه الله اس باب کے تحت فرماتے ہیں:
أي هذا باب في بيان ما يجوز أن يخلو الرجل بالمرأة حاصله أن الرجل الأمين ليس عليه بأس إذا خلا بامرأة في ناحية من الناس لما تسأله عن بواطن أمرها في دينها وغير ذلك من أمورها وليس المراد من قوله أن يخلو الرجل أن يغيب عن أبصار الناس فلذلك قيده بقوله عند الناس وإنما يخلو بها حيث لا يسمع الذي بالحضرة كلامها ولا شكواها إليه
وفيه أن مفاوضة المرأة الأجنبية سراً لا يقدح في الدين عند أمن الفتنة
وفيه تعليم الأمة وكيفية الخلوة بالمرأة. (عمدة القاري: ۱٤/۲۰۹، دار الحديث، ملتان).
سئل شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله: عن رجل يدخل على امرأة أخيه وبنات عمه وبنات خاله هل يجوز له ذلك أم لا؟
فأجاب: لا يجوز له أن يخلو بهن ولكن إذا دخل مع غيره من غير خلوة ولا ريبة جاز له ذلك، والله أعلم. (مسئولية المرأة المسلمة لعبد الله بن جاره بن إبراهيم جار الله، ص ٦٦).
مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ خلوت بالاجنبیہ ممنوع ہے لیکن لوگوں کے سامنے خصوصاً گھر والوں کے سامنے خلوت نہیں ہے اور نہ فتنہ کا اندیشہ ہے ۔ لہذا سخت پردہ ضروری نہیں ۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
اس حدیث کا واضح مطلب یہ ہے کہ دیور سے موت کی طرح ڈرنا چاہیے، اس سے بے تکلفی کی بات نہ کی جائے، تنہائی میں اس کے پاس نہ بیٹھا جائے وغیرہ ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۹۵
، طبع جدید) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں: عورت پر چہرے کا ڈھانپنا گھر میں واجب نہیں، البتہ غیر محرم سے پردہ کرنا واجب ہے، ہاں! اگر فتنہ کا خطرہ نہ ہو تو عورت چہرہ کھول سکتی ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۷٦
، طبع جدید) ۔
اشکال (۲) : ترمذی شریف کی درجِ ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خوفِ فتنہ کے بغیر بھی دیکھنا بالکل ممنوع ہے ام سلمہ رضی الله عنه بیان کرتی ہیں کہ وہ اور میمونہ رضی الله عنه رسول اللہ ﷺ کے پاس تھیں اتنے میں حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم رضی الله عنه آ گئے یہ واقعہ حجاب کے نزول کے بعد تھا ۔
فقال رسول الله ﷺ: احتجبا منه فقلت: يا رسول الله! أليس هو أعمي لا يبصرنا ولا يعرفنا فقال رسول الله ﷺ: أفعمياوان أنتما ألستما تبصرانه
، یعنی اگر وہ اندھے ہیں تو تم تو اندھی نہیں ہو ۔
الجواب: یہ حدیث مسند احمد، ترمذی، ابو داود، سنن النسائی الکبری، شرح معانی الآثار، طبرانی المعجم الکبیر، بیہقی وغیرہ میں ہے ۔ امام ترمذی رحمه الله نے یہ حدیث باب ما جاء فی احتجاب النساء من الرجال کے تحت ذکر فرمائی ہے اور اس کو حسن صحیح فرمایا ہے ۔
لیکن اس کی سند میں نبہان مولی ام سلمہ رضی الله عنه مجہول ہیں، شیخ بشار عواد نے ترمذی کی تعلیقات میں امام ترمذی کے قول
"حسن صحيح" پر
یوں تبصرہ کیا :
هكذا اجتهد رحمه الله تعالى ككثير من صنيعه في تصحيح أحاديث بعض المجاهيل ونبهان مولي أم سلمة رضي الله عنه مجهول كما حررناه في تحرير أحكام التقريب، قال الإمام أحمد نبهان روي حديثين عجيبين يعني هذا الحديث وحديث إذا كان لا حداكن مكاتب فليحتجب منه. (تعليقات ترمذي: ٤/٤۸۲).
وللمزيد من البحث راجع: (تعليقات الشيخ شعيب على مسند الامام أحمد: ٤٤/۱۵۹. ۱٦۰).
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنه کا حبشیوں کے کھیل کی طرف دیکھنا صحیح حدیث سے ثابت ہے اور یہ ضعیف ہے ۔
نیز یہاں عبد اللہ بن ام مکتوم قریب تھے اور حبشیوں کے جہادی کرتب کا منظر دور تھا ۔
نیز اگر یہ روایت صحیح ہو تو پھر احتیاط پر مبنی ہے اور احتیاط سے کون انکار کر سکتا ہے، خصوصاً اس فتنہ و فساد کے زمانہ میں احتیاط ہی پر عمل کرنا چاہیے کیوں کہ ہر طرف فتنہ و فساد پھیلا ہوا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.