(white gold) سفید سونے پر زکوٰۃ کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #240Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

سفید سونے کی کیا حقیقت ہے؟ کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟

Answer

یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ خالص سونا زیورات بنانے کے قابل نہیں ہوتا جب تک کہ اس میں کوئی اور دھات نہ ملائی جائے، عام طور پر زرد رنگ والے سونے میں تانبا اور چاندی ملاتے ہیں، لیکن سفید سونے میں پلاڈیم ملایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بجائے زرد رنگ کے سفید رنگ حاصل ہو جاتا ہے ورنہ اصل سونا ہی ہے، لہٰذا سونے کے احکام جاری ہوں گے ۔ چنانچہ وائٹ گولڈ میں بھی زکوٰۃ واجب ہو گی ۔
لیکن اگر دوسری دھات غالب ہوا اور وہ بآسانی الگ بھی ہو سکتی ہو تو سونے میں زکوٰۃ واجب ہو گی، ہاں اگر دوسری دھات کا الگ کرنا دشوار ہو یا نہ ہو سکتی ہو تو پھر مشہور اور عام کتبِ فقہ کی روشنی میں زکوٰۃ واجب نہیں، پھر بھی احتیاطاً ادا کر دینا بہتر ہے ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں مرقوم ہے:

وإن غلب الغش فليس كالفضة كالستوقة فينظر إن كانت رائجة أو نوى التجارة اعتبرت قيمتها فإن بلغت نصاباً من أدنى الدراهم التي تجب فيها الزكاة، وهي التي غلبت فضتها وجبت فيها الزكاة وإلا فلا، وإن لم تكن أثماناً رائجة، ولا منوية للتجارة فلا زكاة فيها إلا أن يكون ما فيها من الفضة يبلغ مائتي درهم بأن كانت كثيرة ويتخلص من الغش، لأن الصفر لا تجب الزكاة فيها إلا بنية التجارة، والفضة لا يشترط فيها نية التجارة فإن كان ما فيها لا يتخلص فلا شيء عليه؛ لأن الفضة فيه قد هلكت كذا في كثير من الكتب، وفي غاية البيان الظاهر أن خلوص الفضة من الدراهم ليس بشرط بل المعتبر أن تكون في الدراهم فضة بقدر النصاب. (البحر الرائق: ۲/۲۲۸).
وللمزيد راجع: (الجوهرة النيرة: ۱/۱٤۹، إمدادية ملتان، والفتاوى الهندية: ۳/۲۱۹، وبدائع الصنائع: ۲/۱۷، سعيد، وتبيين الحقائق: ۱/۲۷۹، وفتح القدير: ۷/۱۵۲، دار الفكر).

بہشتی زیور میں لکھا ہے:
سونا چاندی اگر کھرا نہ ہو بلکہ اس میں کچھ میل ہو مثلا ً چاندی میں رانگا ملا ہوا ہے تو دیکھو چاندی زیادہ ہے یا رانگا زیادہ ہے اگر چاندی زیادہ ہے تو اس کا وہی حکم ہے جو چاندی کا حکم ہے یعنی اگر اتنی مقدار ہو جو اوپر بیان ہوئی تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر رانگا زیادہ ہے تو اس کو چاندی نہ سمجھیں گے پس جو حکم پیتل، تانبے، لوہے، رانگے وغیرہ اسباب کا آگے آویگا وہی اس کا حکم ہے ۔ (بہشتی زیور، زکوٰۃ کا بیان، تیسرا حصہ: ۲۳۹، مسئلہ نمبر ۷، دار الاشاعت) ۔
عطر ہدایہ میں مرقوم ہے کہ سونا چاندی بآسانی الگ ہو سکتے ہیں ۔ عبارت ملاحظہ کیجیے:
سناروں، سادہ کاروں، نیاریوں بلکہ غیر کاریگروں تک کے مشاہدات و تجارب سے یہ امر ثابت و مشہور و معروف ہے کہ نئے روپیوں کو پگھلانے اور دوسری تدبیر عرفیہ و حیل اکسریہ کے عمل میں لانے سے ان کی چاندی میں جو میل گلٹ کا ہے اس سے یہ بالکل علیحدہ و جدا ہو جاتی ہے بہت سی کتبِ فقہیہ میں ان روپیوں کے مثل (دراہم غالبۃ الغش) سے ان کی چاندی کا علیحدہ ہو سکنا اور اس چاندی میں احکامِ زکوٰۃ و ربا و صرف کا اعتبار کیا جانا بضمن مسائل متعددہ مصرح ہے، ہاں حسبِ تصریح شیخ ابن ہمام و اقتضاء قواعد جن دراہم غالبۃ الغش میں ملمع کی طرح چاندی نہایت ہی قلیل ہونے سے جدا نہ ہوتی ہو، مل جاتی ہو اس کا بیشک اعتبار نہیں کیا جائے گا اور کتبِ شافعیہ میں تو بھاری ملمع میں بھی جو چاندی ہوتی ہے اس کا بھی علیحدہ ہو سکنے کی وجہ سے اعتبار کیا جانا مذکور ہے اور اس پر قواعد حنفیہ کے شاہد ہونے سے بعض مشائخ حنفیہ نے بھی ہلکے اور بھاری ملمع میں فرق کر کے فرمایا ہے کہ چاندی یا سونے کا ملمع اتنا زیادہ ہو کہ علیحدہ ہو سکے تو اس کا بھی اعتبار کرنا واجب ہے، چنانچہ رد المحتار (ص ۳۲۹) میں ہے:

ونقل الخير الرملي نحوه من المحيط ثم قال: وأقول: يجب تقليد المسألة بما إذا لم تكثر الفضة أو الذهب المموه أما إذا كثر بحيث يحصل منه شيء يدخل في الميزان بالعرض على النار يجب حينئذٍ اعتباره ولم أره لأصحابنا لكن رأيته للشافعية وقواعدنا شاهدة به فتأمل.

بہر حال ہلکے اور بھاری ملمع اور ان کے مانند دراہمِ مغشوشہ میں فرق کیا جائے یا نہ اکثر دراہم غالبۃ الغش کہ جن میں مثل نئے روپیوں کے بھاری ملمع سے بھی زیادہ چاندی ہے ان سے خالص چاندی کا علیحدہ ہو سکنا اور ان میں جو چاندی ہے اس کا اعتبار کیا جانا منصوص ہے کوئی روایت بھی اس کے خلاف نہیں ہے اور منصوص ہوتا تب بھی جب کہ مدار اعتبار علیحدہ ہو سکنے پر ہے (علیحدہ ہو سکنے سے گو حالاً اس چاندی سے منتفع نہ ہو سکیں لیکن آئندہ تو جب چاہیں پگھلا کے منتفع ہو سکتے ہیں جو کہ حسبِ تصریح فتح القدیر (۲/۲۱٤، دار الفکر)"
وإن لم يخلص فلا شيء عليه لأن الفضة هلكت فيه إذ لم ينتفع بها حالاً ولا مآلاً فبقي العبرة للغش "
اصل مناط عبرۃ نقدین ہے اور علیحدہ ہو سکنا مشاہدات اور تجارب سے ثابت اور مشہور و معروف ہے ۔ (عطر ہدایہ، جدید ص: ۳۵٤ ۔ ۳۵٦) ۔ (فتاوی دار العلوم زکریا: ۳/۱۰۹، ط: بمبئی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.