۹ /کیریٹ سونے پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
اگر کسی عورت کے پاس ۹/کیریٹ سونے کے زیورات ہیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ کیوں کہ سونا مغلوب ہے اور دوسری دھات غالب ہے ۔
Answer
متون اور عام کتبِ فقہ کی روشنی میں جب دوسری دھات غالب ہو تو زکوٰۃ لازم نہیں ہے، البتہ احتیاطاً زکوٰۃ ادا کر دینا بہتر ہے ۔ لیکن اگر گلانے سے دوسری دھاتیں بآسانی الگ ہو سکتی ہیں تو پھر سونے میں زکوٰۃ لازم ہو گی ۔ اور آسان صورت یہ ہے کہ سنوار کے پاس لے جاوے جو قیمت وہ بتلا دے اس کا چالیسواں حصہ دے دے ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
فإن غلب الغش فليس كالفضة كالستوقة فينظر إن كانت رائجة أو نوي التجارة اعتبرت قيمتها فإن بلغت نصاباً من أدني الدراهم التي تجب فيها الزكاة وهي التي غلبت فضتها وجبت فيها الزكاة وإلا فلا، وإن لم تكن أثماناً رائجة ولا منوية للتجارة فلا زكاة فيها، إلا أن يكون ما فيها من الفضة يبلغ مائتي درهم بأن كانت كثيرة ويتخلص من الغش، لأن الصفر لا تجب الزكاة فيها إلا بنية التجارة، والفضة لا يشترط فيها نية التجارة، فإن كان ما فيها لا يتخلص فلا شيء عليه، لأن الفضة فيه قد هلكت، كذا في كثير من الكتب، وفي غاية البيان: الظاهر أن خلوص الفضّة من الدراهم ليس بشرط بل المعتبر أن تكون في الدراهم فضة بقدر النصاب. (البحر الرائق: ۲/۲۲۸، باب زكاة المال، كوئته).
بہشتی زیور میں لکھا ہے:
سونا چاندی اگر کھرا نہ ہو بلکہ اس میں کچھ میل ہو مثلا چاندی میں رانگا ملا ہوا ہے تو دیکھو چاندی زیادہ ہے یا رانگا زیادہ ہے اگر چاندی زیادہ ہے تو اس کا وہی حکم ہے جو چاندی کا حکم ہے یعنی اگر اتنی مقدار ہو جو اوپر بیان ہوئی تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر رانگا زیادہ ہے تو اس کو چاندی نہ سمجھیں گے پس جو حکم پیتل، تانبے، لوہے، رانگے وغیرہ اسباب کا آگے آویگا وہی اس کا حکم ہے ۔ (بہشتی زیور، زکوٰۃ کا بیان، تیسرا حصہ: ۲۳۹، مسئلہ نمبر ۷) ۔
عطر ہدایہ میں مرقوم ہے کہ سونا چاندی بآسانی الگ ہو سکتے ہیں ۔ عبارت ملاحظہ کیجیے:
سناروں، سادہ کاروں، نیاریوں بلکہ غیر کاریگروں تک کے مشاہدات و تجارب سے یہ امر ثابت و مشہور و معروف ہے کہ نئے روپیوں کو پگھلانے اور دوسری تدبیر عرفیہ و حیل اکسریہ کے عمل میں لانے سے ان کی چاندی میں جو میل گلٹ کا ہے اس سے یہ بالکل علیحدہ و جدا ہو جاتی ہے بہت سی کتبِ فقہیہ میں ان روپیوں کے مثل (دراہم غالۃ الغش) سے ان کی چاندی کا علیحدہ ہو سکنا اور اس چاندی میں احکامِ زکوٰۃ و ربوا و صرف کا اعتبار کیا جانا بضمن مسائل متعددہ مصرح ہے، ہاں حسبِ تصریح شیخ ابن ہمام و اقتضاء قواعد جن دراہم غالبۃ الغش میں ملمع کی طرح چاندی نہایت ہی قلیل ہونے سے جدا نہ ہوتی ہو، مل جاتی ہو اس کا بیشک اعتبار نہیں کیا جائے گا اور کتبِ شافعیہ میں تو بھاری ملمع میں بھی جو چاندی ہوتی ہے اس کا بھی علیحدہ ہو سکنے کی وجہ سے اعتبار کیا جانا مذکور ہے اور اس پر قواعد حنفیہ کے شاہد ہونے سے بعض مشائخ حنفیہ نے بھی ہل کے اور بھاری ملمع میں فرق کر کے فرمایا ہے کہ چاندی یا سونے کا ملمع اتنا زیادہ ہو کہ علیحدہ ہو س کے تو اس کا بھی اعتبار کرنا واجب ہے، چنانچہ رد المحتار (ص ۳۲۹) میں ہے:
ونقل الخير الرملي نحوه من المحيط ثم قال: وأقول: يجب تقييد المسألة بما إذا لم تكثر الفضة أو الذهب المموه أما إذا كثر بحيث يحصل منه شيء يدخل في الميزان بالعرض على النار يجب حينئذٍ اعتباره ولم أره لا صحابنا لكن رأيته للشافعية وقواعدنا شاهدة به فتأمل.
بہرحال ہل کے اور بھاری ملمع اور ان کے مانند دراہمِ مغشوشہ میں فرق کیا جائے یا نہ اکثر دراہم غالبۃ الغش کہ جن میں مثل نئے روپیوں کے بھاری ملمع سے بھی زیادہ چاندی ہے ان سے خالص چاندی کا علیحدہ ہو سکنا اور ان میں جو چاندی ہے اس کا اعتبار کیا جانا منصوص ہے کوئی روایت بھی اس کے خلاف نہیں ہے اور منصوص ہوتا تب بھی جب کہ مدار اعتبار علیحدہ ہو سکنے پر ہے (علیحدہ ہو سکنے سے گو حالاً اس چاندی سے منتفع نہ ہو سکیں لیکن آئندہ تو جب چاہیں پگھلا کے منتفع ہو سکتے ہیں جو کہ حسبِ تصریح فتح القدیر (۱/۵۲۳) "
وإن لم يخلص فلا شيء عليه لأن الفضة هلكت فيه إذا لم ينتفع بها لا حالاً ولا مآلاً فبقي العبرة للغش أصل مناط"
عبرۃ نقدین ہے اور علیحدہ ہو سکنا مشاہدات اور تجارب سے ثابت اور مشہور و معروف ہے ۔ (عطر ہدایہ، جدید ص: ۳۵٤ ۔ ۳۵٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.