روزہ دار کے منہ میں کھٹا پانی آنے سے روزہ کا حکم:
Question
ایک شخص صبح اٹھا منہ میں تھوڑا سا کھٹا پانی آیا، وہ شخص روزہ کی حالت میں اس پانی کو نگل گیا، لیکن منہ بھر کر نہیں تھا بلکہ تھوڑا سا تھا، کیا روزہ فاسد ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
صورتِ مسئولہ میں منہ میں پانی آنا قے کے حکم میں ہے، پھر یہ منہ بھر کر بھی نہیں تھا، بنا بریں روزہ میں کچھ خلل نہیں آیا ۔ قے کا حکم یہ ہے کہ فقط دو صورتوں میں روزہ فاسد ہوتا ہے ؛ ۱ ۔ خود بخود منہ بھر کر قے آ جائے اور قصداً روزہ یا د ہونے کی حالت میں نگل جائے ۔ ۲ ۔ جان بوجھ کر منہ بھر کر قے کرے ۔ ان دو صورتوں کے علاوہ میں روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "من ذرعه القيء وهو صائم فليس عليه قضاء ومن استقاء فليقض. قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده صحيح. (أخرجه ابن حبان في صحيحه: ۸/۲۸٤/۳۵۱۸).
فتاوی شامی میں منقول ہے:
قوله وإن ذرعه القيء، أي غلبه وسبقه، والمسألة تتفرع إلى أربع وعشرين صورة، لأنه إما أن يقئ أو يستقئ وفي كل إما أن يملأ الفم أو دونه، وكل من الأربعة إما أن خرج أو عاد أو أعاده، وكل إما ذاكر لصومه أو لا، ولا فطر في الكل علي الأصح إلا في الإعادة والاستقاء بشرط الملء مع التذكر، شرح الملتقى. قوله وإن أعاده أي أعاد ما قاء الذي هو ملء الفم، قوله أو قدر الحمصة منه فأكثر أشار أنه لا فرق بين إعادة كله أو بعضه إذا كان أصله ملء الفم. (فتاوى الشامي: ۲/ ٤۱٤، سعيد).
عمدۃ الفقہ میں مذکور ہے:
اور اگر کسی روزہ دار کو قے ہوئی تو اس کا روزہ صرف دو صورتوں میں فاسد ہوتا ہے، ایک یہ ہے کہ اس کو بلا ارادہ خود بخود منہ بھر کر قے آئی ہو پھر روزہ یا د ہوتے ہوے قصداً اس کو منہ کے اندر سے ہی واپس نگل گیا ہو، خواہ تمام کو نگلے یا اس میں سے بعض حصے کو نگلے جب کہ وہ چنے کی مقدار یا اس سے زیادہ نگلی ہو تو اس صورت میں بالاجماع اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا ۔ دوسرے یہ کہ روزہ یا د ہوتے ہوے خود اپنے ارادہ سے منہ بھر قے کی تو اس کا روزہ مطلقاً ہر حال میں فاسد ہو جائے گا بالاجماع ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۲۹۹) ۔
کتاب الفتاوی میں مذکور ہے:
سوال: اگر روزہ کی حالت میں قے یا منہ بھر کر پانی آ جائے، تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
جواب: اگر بلا ارادہ از خود منہ بھر کر قے آ جائے، یا پانی آ جائے جو قے ہی کی ایک صورت ہے، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، ہاں اگر انسان قصداً قے کو نگل جائے، یا جان بوجھ کر قے کرے اور وہ منہ بھر ہو، تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ (کتاب الفتاوی: ۳/۳۸۹) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (البحر الرائق: ۲/۲۷٤، ط: کوئٹہ، و حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص ٦٦۲، ط؛ بیروت، و النہر الفائق: ۲/۱۹، و تبیین الحقائق، و فتح القدیر، عمدۃ الفقہ: ۳/۲۹۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.