روزہ کی حالت میں پان منہ میں رکھنے سے فسادِ صوم کا حکم:
Question
اگر کسی نے تمباکو والا پان منہ میں رکھا اور اس کا پانی نہیں نگل رہا ہے تو اس سے روزہ ٹوٹ گیا یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اگر پان کا ذائقہ حلق میں محسوس ہوا اور حلق سے نیچے اتار لیا تو روزہ فاسد ہو گیا، لیکن اگر حلق تک پہونچ کر حلق سے نیچے نہیں اترا تو مفسد نہیں ہے، البتہ مکروہِ تحریمی ضرور ہے، لیکن عادۃً حلق سے نیچے جاتا ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
وكره مضغ علك أبيض ممضوغ ملتئم، وإلا فيفطر
قوله أبيض قيده بذلك لأن الأسود وغير الممضوغ وغير الملتئم، يصل منه شيء إلى الجوف، وأطلق محمد رحمه الله المسألة وحملها الكمال تبعاً للمتأخرين على ذلك قال للقطع بأنه معلل بعدم الوصول، فإن كان مما يصل عادة حكم بالفساد لأنه كالمتيقن. (الشامي: ۲/ ٤۱٦، مطلب فيما يكره للصائم، سعيد).
منہاج السنن میں ہے:
فائدة: استعمال سفوف التتن موجب للقضاء، فإنه يدخل الباطن بدليل وجود طعمه في الحلق كما يشير إليه كلام الدر المختار حيث قال: وأكل مثل سمسمة من خارج يفطر، يكفر في الأصح إذا مضغ بحيث تلاشت في فمه إلا أن يجد الطعم في حلقه، والعوام لو أفتوا بعدم الفساد عند عدم الوصول إلى الحلق والبطن لبلغوا إلى الآفاق أن النشوق غير مفسد كما هو عادة العوام في كل زمان. (منهاج السنن: ٤/ ٦۳).
شامی میں ہے:
وفي البزازية: قيد عدم الفساد في صورة غلبة البصاق بما إذا لم يجد طعمه وهو حسن. (الشامي: ۲/ ۳۹٦، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، سعيد).
جواہر الفتاوی میں ہے:
حقہ، پان، نسوار، ایسی چیز جو کسی مقصد سے منہ میں رکھی جاتی ہے اس کے اثرات حلق میں چلے جاتے ہیں، تو اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا، اور اگر اثر نہ جانے کا اہتمام کرے تو پھر بھی شک کی وجہ سے مکروہ (تحریمی) ہے ۔ (جواہر الفتاوی: ۱/ ۲۸) ۔
امداد الاحکام میں ہے:
روزہ کی حالت میں سفوفِ تمباکو منہ میں رکھنا:
قال في العالمكيرية: ولو مص الهليلج فدخل البزاق حلقه لم يفسد ما لم يدخل عينه كذا في الظهيرية. الفتاوى الهندية: ۱/ ۱۳۱.
اس سے معلوم ہوا کہ سفوفِ تمباکو مرکب کا اس طرح دانتوں میں استعمال کرنا کہ حلق سے نیچے یقیناً نہ اترے مفسد صوم نہیں، اور اگر ذرا سا بھی حلق سے نیچے اتر جائے گا تو روزہ فاسد ہے اور اس سفوف کا استعمال بحالتِ صوم بلا ضرورت مکروہ ہے، اور ضرورت بعد مغرب کے استعمال کرنے سے بھی رفع ہو سکتی ہے ۔ (امداد الاحکام: ۲/ ۱۲۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.