روزہ کی حالت میں دانت نکلوانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #203Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب (۳): روزہ کے مفسدات و مکروہات کا بیان

Question

اگر کسی شخص کو دانت میں تکلیف ہو تو روزہ کی حالت میں نکلوانا درست ہے یا نہیں؟ اس سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اگر دانت میں شدید تکلیف ہے تو نکلوانا درست ہے، لیکن اس بات کا خیال رہے کہ خون حلق سے نیچے نہ اترنے پائے ۔ البتہ بغیر ضرورت کے روزہ کی حالت میں نکلوانا مکروہ ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

قلت: ومن هذا يعلم حكم من قلع ضرسه في رمضان ودخل الدم إلى جوفه في النهار ولو نائماً فيجب عليه القضاء إلا أن يفرق بعدم إمكان التحرز عنه فيكون كالقيء الذي عاد بنفسه فليراجع. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۳۹٦، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، سعيد).

النہر الفائق میں ہے:

ولو خرج دم من أسنانه فدخل حلقه فإن غلب الريق أفطره وكذا إن ساواه استحساناً وإلا لا، هذا ما عليه أكثر المشايخ، وفي السراج عن الوجيز: لو كان الدم غالباً لا يفطر وهو الصحيح إلحاقاً له بما بين الأسنان بجامع عدم الاحتراز عنه. (النهر الفائق: ۲/۱۸، باب ما يفسد الصوم، قديمي).

احسن الفتاوی میں ہے:
روزہ میں دانت نکلوانا یا اس پر دوا لگانا بوقتِ ضرورت شدید جائز ہے، اور بلا ضرورت مکروہ ہے، اگر دوا یا خون پیٹ کے اندر چلا جائے اور تھوک پر غالب ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کا مزہ محسوس ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ (احسن الفتاوی: ۴/۴۲۶) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
بذاتِ خود دانت نکالنے میں کچھ حرج نہیں، لیکن عام طور پر دانت نکالتے ہوئے، مسوڑھوں سے کافی خون آتا ہے، اور یہ بھی امکان رہتا ہے کہ خون حلق سے نیچے چلا جائے، اور ایسی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا، اس لیے اگر شدید مجبوری نہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ رمضان میں دانت نہ نکلوائے، شدید عذر کے بغیر رمضان میں دانت نکلوانا مکروہ ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ۳/ ٤۰۰، نعیمیہ ۔ و کذا فی ایضاح المسائل: ۸۷، نعیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.