روزہ کی حالت میں خون دینے کا حکم:
Question
کسی مریض کو خون کی ضرورت ہے تو روزہ کی حالت میں خون دینے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟
Answer
روزہ کی حالت میں خون دینے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، ہاں ایسی کمزوری کا خطرہ ہے کہ روزہ کی طاقت باقی نہ رہے گی تو مکروہ ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما أن النبي ﷺ احتجم وهو محرم، واحتجم وهو صائم. وعن شعبة قال: سمعت ثابتاً البناني قال: سئل أنس بن مالك رضي الله تعالى عنه: أكنتم تكرهون الحجامة للصائم؟ قال: لا إلا من أجل الضعف. (بخاري شريف: ۱/۲٦۰/۱۸۹۷، ۱۸۹۸، باب الحجامة والقيء للصائم).
ہدایہ میں ہے:
ولو ادهن لم يفطر لعدم المنافي وكذا إذا احتجم لهذا، ولما روينا. (الهداية: ۱/۲۱۷، باب ما يوجب القضاء والكفارة).
تبیین الحقائق میں ہے:
قال رحمه الله تعالى: فإن أكل الصائم أو شرب أو جامع ناسياً أو احتلم أو أنزل بنظر أو ادهن أو احتجم
لم يفطر
وأما الاحتجام فلما روينا، ولعدم المنافي وهو قول جمهور العلماء
ولأن الحجامة ليس فيها إلا إخراج الدم فصارت كالافتصاد والجرح. (تبيين الحقائق: ۱/۲۲۳، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسد).
کتاب الفتاوی میں ہے:
روزہ ایسی چیزوں سے ٹوٹتا ہے جو جسم میں داخل ہو، نہ کہ ایسی چیزوں سے جو جسم سے خارج ہو اس سے صرف قے کی صورت مستثنیٰ ہے جس کی بعض صورتیں ناقض صوم ہیں، اس لیے خون دینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا رسول اللہ ﷺ سے خود روزہ کی حالت میں فصد لگوانا ثابت ہے، فصد ایک طبی عمل تھا جس کے ذریعہ جسم کا فاسد خون باہر نکالا جاتا تھا، اس لیے خون دینے میں کچھ حرج نہیں، خواہ ٹسٹ کے لیے، یا کسی مریض کے لیے البتہ اگر یہ اندیشہ ہو کہ خون دینے کی وجہ سے روزہ کو قائم نہیں رکھ س کے گا، اور اضطرار اور مجبوری کی حالت میں نہ ہو تو خون دینا مکروہ ہے، اسی احتیاط کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے روزہ کی حالت میں فصد لگوانے کو پسند نہیں فرمایا، اس لیے کہ تمام لوگوں میں اس کی قوتِ برداشت نہیں ہوتی، اور خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے روزہ کو قائم نہیں رکھ سکیں ۔ (کتاب الفتاوی: تیسرا حصہ، ص ٤۰۰، کتب خانہ نعیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.