مسوڑھوں کا خون پیٹ میں جانے سے روزہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #202Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب (۳): روزہ کے مفسدات و مکروہات کا بیان

Question

اگر کسی کے مسوڑھوں سے خون نکلتا رہتا ہے اور غفلت یا نیند کی حالت میں تھوک کے ساتھ پیٹ میں اتر جاتا ہے تو روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟

Answer

مسوڑھوں سے خون نکل کر حلق میں داخل ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں: (۱) خون کی مقدار کم ہے اور تھوک غالب ہے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا ۔ (۲) خون کی مقدار زیادہ ہے یعنی تھوک پر غالب ہے تو روزہ فاسد ہو جائے گا ۔ لیکن علامہ شامی رحمہ الله فرماتے ہیں: کہ اگر خون نکلنے کی کیفیت ایسی ہو کہ اس سے بچنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں روزہ فاسد نہ ہوگا، جیسا کہ قیٔ خود بخود لوٹ جائے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

خرج الدم من بين أسنانه ودخل حلقه يعني ولم يصل إلى جوفه أما إذا وصل فإن غلب الدم أو تساويا فسد وإلا لا

وفي الشامي: قلت: ومن هذا يعلم حكم من قلع ضرسه في رمضان ودخل الدم إلى جوفه في النهار ولو نائماً فيجب عليه القضاء إلا أن يفرق بعدم إمكان التحرز عنه فيكون كالقيء الذي عاد بنفسه فليراجع. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۳۹٦، باب ما يفسد الصوم ومالا يفسده، سعيد).

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

وفي السراج عن الوجيز لو كان الدم غالباً لا يفطر وهو الصحيح إلحاقاً له بما بين الأسنان بجامع عدم الاحتراز عنه، نهر. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/٤۵۱، كوئته).

النہر الفائق میں ہے:

ولو خرج دم من أسنانه فدخل حلقه فإن غلب الريق أفطره وكذا إن ساواه استحساناً وإلا لا، هذا ما عليه أكثر المشايخ، وفي السراج عن الوجيز: لو كان الدم غالباً لا يفطر وهو الصحيح إلحاقاً له بما بين الأسنان بجامع عدم الاحتراز عنه. (النهر الفائق: ۲/۱۸، باب ما يفسد الصوم، قديمي).

خلاصہ: نہر کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ خون غالب ہو پھر بھی صحیح قول کے مطابق روزہ نہیں ٹوٹے گا اس لیے کہ اس سے بچنا مشکل ہے، ہاں اگر اس کو چوستا رہتا ہے تو روزہ فاسد ہو جائے گا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.