انجیکشن لگانے سے نکلنے والے خون کا حکم:

1 min readFatwa Vol 1 #252Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۲) نواقض وضو اور غسل کا بیان

Question

اگر مریض کو انجیکشن لگایا گیا اور اس سے تھوڑا سا خون نکلا تو وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

Answer

انجیکشن پر جسم کا تھوڑا سا خون لگ جاتا ہے اس مقدار میں خون کا باہر آنا ناقض وضو نہیں ہے اس لیے کہ وہ اتنی کم مقدار میں ہو تا ہے کہ بہتا نہیں ہے، چنانچہ فقہاء کے اقوال کے مطابق اگر جسم سے خون نکلے اور اسے پونچھ دیا جائے اور اس کی مقدار اتنی کم ہو کہ اگر نہ پونچھا جاتا تو بھی نہ بہتا تو وضو نہیں ٹوٹے گا ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

إذا خرج من الجرح دم قليل فمسحه ثم خرج أيضاً ومسحه فإن كان الدم بحال لو ترك ما قد مسح منه فسال انتقض وضوءه وإن كان لا يسيل لا ينقض. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۱).

یعنی جب زخم سے تھوڑا سا خون نکلے پھر اسے پونچھ ڈالے پھر دوبارہ خون نکلے اور اسے بھی پونچھ دے تو اگر مجموعی طور پر خون کی مقدار اتنی ہو کہ پونچھا ہوا خون چھوڑ دینے کی صورت میں بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.