قے میں آنے والے خون کا حکم:

3 min readFatwa Vol 1 #253Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۲) نواقض وضو اور غسل کا بیان

Question

اگر قے میں خون آیا تو وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

Answer

اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ قے میں آنے والا خون اگر پتلا اور بہتا ہوا ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا، چاہے خون مقدار میں کم ہو یا زیادہ، منہ بھر ہو یا نہ ہو، اور اگر یہ خون جمے ہوے ٹکڑے ٹکڑے ہو اور منہ بھر ہو تب بھی وضو ٹوٹ جائے گا، اور اگر منہ بھر سے کم ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا ۔
ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:

(قوله أو علق الخ) العلق لغة: دم منعقد كما هو أحد معانيه، لكن المراد به هنا سوداء محترقة كما في الهداية وليس بدم حقيقة كما في الكافي ولهذا اعتبر فيه ملأ الفم وإلا فخروج الدم ناقض بلا تفصيل بين قليله وكثيره على المختار. (فتاوى الشامي: ۱/۱۳۷).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر قے میں خون آئے تو وہ خون یا سر سے اترا ہوگا یا معدے سے نکلا ہوگا اور وہ بہنے والا ہوگا، سر سے اترا ہے اور بہنے والا ہے تو بالاتفاق اس سے وضو ٹوٹ جائے گا، اور اگر وہ خون بستہ ہے تو اس سے وضو بالاتفاق نہیں ٹوٹے گا، بہنے والا خون ہونے کی صورت میں وہ نکسیر کی مانند ہے اس لیے وضو کے توڑنے میں اس کا بہنا اور تھوک پر غالب ہونا معتبر ہے، اور اگر تھوک اور خون برابر ہوں یعنی تھوک کا رنگ سرخی مائل زرد (نارنجی) ہو تب بھی احتیاطاً وضو ٹوٹ جائے گا اور تھوک غالب اور خون مغلوب ہو یعنی تھوک کا رنگ ہلکا زرد ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اور یہی حکم دانتوں سے خون نکلنے کا ہے ۔ اور بستہ خون نکلنے سے اس وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا کہ وہ خون ہونے کی صفت سے نکل چکا ہے ۔ اور اگر وہ خون معدے سے نکلا ہے اور بستہ ہے تو منہ بھر نہ ہونے کی صورت میں اس سے بھی بالاتفاق وضو نہیں ٹوٹتا، لیکن اگر منہ بھرکر ہوگا تو وضو ٹوٹ جائے گا، اور اگر معدے سے آنے والا خون بہتا ہوا ہے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے بموجب کسی دوسری جگہ سے خون نکلنے کے مانند وضو ٹوٹ جائے گا اگر چہ منہ بھر کر نہ ہو اس لیے کہ پیٹ کے زخم سے نکلا ہے کیونکہ معدہ خون کا محل نہیں ہے یہی مختار ہے اور اسی کو اکثر مشائخ نے صحیح کہا ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۱/۱۵۰) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.