بذریعہ انجیکشن خون نکالنے پر نقضِ وضو کا حکم:
Question
اگر انجیکشن سے خون نکالا تو وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
Answer
اگر انجیکشن سے خون نکالنا اور کھینچنا مقصود ہو تو اس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا اور اس کی نظیر فقہ کا درجِ ذیل جزئیہ ہے ۔
القُراد إذا مص عضو إنسان فامتلأ دماً إن كان صغيراً لا ينقض وضوءه كما لو مصت الذباب أو بعوض وإن كان كبيراً ينقض، وكذا العلقة إذا مصت عضو إنسان حتى امتلأت من دمه انتقض وضوءه كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۱، وكذا في الدر المختار: ۱/۱۳۹، والمحيط البرهاني: ۱/٤۲، الفصل الثاني في بيان ما يوجب الوضوء).
یعنی چچڑی جب انسان کے کسی عضو کو چوس لیں پھر خون بھر جائے تو اگر وہ چھوٹی ہیں تو وضو نہیں ٹوٹے گا، جیسے: مکھی مچھر وغیرہ، اور اگر بڑی ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا، جیسے کہ: جونک جب انسان کے کسی عضو کو چوس لے یہاں تک کہ خون بھر جائے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: انجیکشن کے ذریعہ خون نکالتے ہیں اس سے وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
جواب: اگر نکالا ہوا خون بہہ پڑنے کی مقدار ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا ۔
کبیری میں ہے:
إذا فصد وخرج منه دم كثير ولم يتلطخ رأس الجرح فإنه ينقض. (شرح منية المصلي ص ۱۲۹).
پہلے زمانہ میں آلہ فصد سینگی تھی آج کے جدید دور میں انجیکشن اس آلہ فصد کی بدلی ہوئی صورت ہے، نیز جونک کے ذریعہ خون نکالا جاتا ہے اس کا بھی یہی حکم ہے ۔
وكذا ينقضه علقة الخ. (
فتاوی رحیمیہ: ٤/۲٦۷) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ انجیکشن سے نکالا ہوا خون اگر بہہ پڑنے کی مقدار ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.