روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ (tooth paste) استعمال کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #208Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب (۳): روزہ کے مفسدات و مکروہات کا بیان

Question

روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ (tooth paste) استعمال کرنے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟

Answer

روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ (tooth paste) کا استعمال بلا ضرورتِ شدیدہ کراہت سے خالی نہیں، البتہ جب تک حلق سے نیچے نہ اترے روزہ فاسد نہیں ہوگا، بوقتِ ضرورت استعمال کی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

وكره له ذوق كل شيء وكذا مضغه بلا عذر

والظاهر أن الكراهة في هذه الأشياء تنزيهية. (الشامي: ۲/ ٤۱٦، سعيد).

آپ کے مسائل میں ہے:
ٹوتھ پیسٹ کا استعمال روزہ کی حالت میں مکروہ ہے تاہم اگر حلق میں نہ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/ ۱۹۱) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
پیسٹ میں ذائقہ ہوتا ہے اور روزہ کی حالت میں کسی بھی چیز کے ذائقہ کو چکھنا مکروہ ہے اس لیے روزہ کی حالت میں پیسٹ کرنے سے بچنا چاہیے، یہ کراہت سے خالی نہیں ہے ۔
كره ذوق شيء ومضغه بلا عذر. بحر: ۲/ ۲۷۹،
(کتاب الفتاوی: ۳/ ۳۹۹) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: اسلامی فقہ: ۱/ ۳۸۸، روزہ کے مکروہات ۔ و فتاوی دار العلوم: ٦/ ٤۰٤، مدلل و مکمل) ۔
لیکن چونکہ اس کا ذائقہ تر مسواک کی طرح دل اور پیٹ کے لیے مرغوب نہیں بلکہ دانتوں کی صفائی کا ذریعہ اور معاون ہے، لہذا اس کے استعمال پر زیادہ نکیر نہیں کرنی چاہیے، میرے خیال میں یہ مسواک کے ذائقے کی طرح ہے اور اس کو مکروہ کہنا قابل غور ہے ۔
ملاحظہ ہو
"فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء"
میں مرقوم ہے:

حكم استعمال معجون الأسنان للصائم:
س: هل يجوز للصائم أن يستعمل معجون الأسنان وهو صائم في نهار رمضان؟
ج: لا حرج في ذلك مع التحفظ عن ابتلاع شيء منه، كما يشرع استعمال السواك للصائم في أول النهار وآخره. (مأخوذ من "مجلة المجمع الفقهي الإسلامي": ۲۷۲، ۱٤۲٤؁ هـ).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.