وضو میں مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ کا حکم:

5 min readFatwa Vol 1 #247Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب ١: وضو اور غسل کا بیان

Question

اگر کوئی عورت یا مرد وضو کی ابتدا میں مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ استعمال کرے یا کوئی عورت مسواک کی جگہ دنداسہ یا کوئی اور چیز مثلاً گوند وغیرہ استعمال کرے اور مسواک کی نیت کرے تو مسواک کا ثواب ملے گا یا نہیں؟

Answer

مسواک سنتِ مؤکدہ ہے، اور آنحضرت ﷺ کی مسواک لکڑی کی ہوتی تھی، لہذا اصل سنت تو یہی ہے کہ کسی درخت کی لکڑی سے مسواک کرے اور اگر لکڑی بھول جائے یا میسر نہ ہو تو اس صورت میں انگشت استعمال کرنے سے بھی ثواب حاصل ہو جائے گا، لیکن لکڑی کی موجودگی میں انگشت استعمال کرنے پر ثواب نہیں ملے گا اکثر فقہاء نے یہی فرمایا ہے، ٹوتھ پیسٹ اسی کی نظیر ہے جب تک لکڑی میسر ہو اس وقت تک ثواب حاصل نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو امداد الفتاح میں ہے:

والسواك بكسر السين اسم الاستياك وللعود الذي يستاك به أيضاً وفضيلة السواك تحصل ولو كان الاستياك بالأصبع أو خرقة خشبة عند فقده أي السواك أو فقد أسنانه أو ضرر بفمه. (إمداد الفتاح، ص: ۷٤).

عالمگیری میں ہے:

ومنها السواك وينبغي أن يكون السواك من أشجار مرة لأنه يطيب نكهة الفم وشيد الأسنان ويقوي المعدة، ولكن رطباً في غلظ الخنصر وطول البشر ولا يقوم الأصبع مقام الخشبة فإن لم توجد الخشبة فحينئذٍ يقوم الأصبع من يمينه مقام الخشبة كذا في المحيط والظهيرية. (الفتاوى الهندية: ۱/۷).

البحر الرائق میں ہے:

والسواك أي استعماله لأنه اسم للخشبة يقوم الأصبع أو الخرقة الخشنة مقامه عند فقده أو عدم أسنانه في تحصيل الثواب لا عند وجوده. (البحر الرائق: ۱/۲۰، كوئته).

خیر الفتاوی میں ہے:
اگر اتفاقاً لکڑی کی مسواک نہ ہو تو برش سے دانت صاف کر لیے جائے اصل سنت لکڑی کی مسواک ہے بلا ضرورت برش سنت مسواک کے قائم مقام نہ ہوگا ۔ (خیر الفتاویٰ:
۲
/
۵۳
) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
مسواک درخت کی ہونا ضروری ہے اگر کسی وقت کسی درخت کی مسواک میسر نہ ہو تو انگلی سے دانت صاف کر کے منہ کی بو زائل کر دے اس طرح بھی سنت ادا ہو جاتی ہے اور نیز ہادی عالم ﷺ کا فرمان ہے: "
الأصابع تجري مجرى السواك إذا لم يكن سواك"
۔
[رواه الطبراني. قال ابن الملقن في "البدر المنير" (۲/۵۹): قلت: وكثير ضعيف وذكر الحافظ ضياء الدين المقدسي في كتابه "الأحكام" حديث أنس رضي الله عنه المتقدم بسند له، وقال: هذا إسناد لا أدري به بأساً. وقال الهيثمي في "المجمع" (۲/۲٦۸): رواه الطبراني في الأوسط وكثير ضعيف وقد حسن الترمذي حديثه. انظر: نصب الراية: ۱/۱۰]
اس سے ثابت ہوا کہ اصل سنت درخت کی مسواک ہے وہ میسر نہ ہو یا دانت نہ ہو یا دانت یا مسوڑھے کی خرابی کی وجہ سے مسواک سے تکلیف ہوتی ہو تو ضرورۃً ہاتھ کی انگلیوں یا موٹے کھردرے کپڑے یا منجن ٹوتھ پیسٹ یا برش سے مسواک کا کام لیا جا سکتا ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٤/۱۷) ۔
درس ترمذی میں ہے:
یہاں دو چیزیں الگ الگ ہیں ایک سنت السواک دوسرے استعمال المسواک المسنون، جہاں تک سنت السواک کا تعلق ہے فقہاء نے لکھا ہے کہ مسواک مسنون کی عدمِ موجودگی میں کپڑا منجن یا محض انگلی کی رگڑ سے بھی سنت سواک ادا ہو جاتی ہے اگر چہ استعمال المسواک المسنون کی سنت ادانہ ہوگی ۔ (درس ترمذی: ۱/۲۲٦) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (درس ترمذی: ۱/۲۲٦، و کتاب الفتاوی: ۲/۳۹، و کفایت المفتی ۲/۳۲۲، دار الاشاعت) ۔
(ب) عورت اگر مسواک کی جگہ دنداسہ یا کوئی اور چیز مثلاً گوند وغیرہ استعمال کرے اور نیت بھی کرے تو اس کو مسواک کا ثواب مل جائے گا ۔ لیکن علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مسواک کی سنیت میں مرد اور عورت دونوں یکساں ہیں، لہذا عورتوں کو بھی مسواک استعمال کرنا چاہیے، ہاں اگر کوئی امر مانع ہو تو پھر دوسری چیز کے استعمال کرنے سے بھی مسواک کا ثواب مل جائے گا ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

والعلك يقوم مقامه للمرأة لكون المواظبة عليه تضعف أسنانها فتستحب لها فعله. (البحر الرائق: ۱/۲۰).

فتاوی شامی میں ہے:

كما يقوم العلك مقامه للمرأة مع القدرة عليه أي في الثواب إذا وجدت النية وذلك أن المواظبة تضعف أسنانها فتستحب لها فعله. (فتاوى الشامي: ۱/۱۱٤، سعيد).
وللاستزادة انظر: (الفتاوى الهندية: ۱/۷، والبناية: ۱/۸۹، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ٦۸، قديمي).

السعایہ میں ہے:

قلت: ظاهر الأخبار استواء الرجال والنساء في استنان السواك إلا أن يخاف منه أمر فحينئذ يصار إلى الأصبع. (السعاية: ۱/۱۱۸، سهيل).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.