ناخن پالش کی موجودگی میں وضو اور غسل کا حکم:

3 min readFatwa Vol 1 #230Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب ١: وضو اور غسل کا بیان

Question

ناخن پالش کے ہوتے ہوے وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟

Answer

بعض علماء کے نزدیک اگر اس کے ازالہ میں حرج ہو تو وضو ہو جائے گا لیکن مشکوک چیزوں کے لگانے سے اجتناب کرنا چاہیے اور زینت کے لیے مہندی وغیرہ کا فی ہے ۔ البتہ اکثر علماء فرماتے ہیں وضو اور غسل نہیں ہوگا ۔
الدر المختار میں ہے:

ويجب أي يفرض غسل كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة ولا يمنع ما على ظفر صباغ ولا طعام بين أسنانه أوفي سنه المجوف به يفتي. وقيل: إن صلبا منع وهو الأصح.

شامی میں ہے:

(قوله أن صلبا) أي إن كان ممضوغاً مضغاً متأكداً، بحيث تداخلت أجزاؤه وصار له لزوجة وعلاكة كالعجين شرح المنية. (قوله وهو الأصح) صرح به في شرح المنية وقال: لا متناع نفوذ الماء مع عدم الضرورة والحرج. (الدر المختار مع الشامي: ۱/۱۵۲/۱۵٤).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

والصرام والصباغ ما في ظفرهما يمنع تمام الاغتسال وقيل كل ذلك يجزيهم للحرج والضرورة ومواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع كذا في الظهيرية. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۳).

فتاوی حقانیہ میں ہے:
موجودہ دور کے نامور علماء ناخن پالش کے عدمِ جواز کے قائل ہیں، کیوں کہ ناخن پالش سے ناخن کا جسم مستور ہو کر وضو اور غسل میں اس کو پانی پہنچنا ممکن نہیں رہتا، اس لیے گوندھے ہوے آٹے کی طرح مانع وضو اور غسل ہے ۔ لیکن بعض دوسرے علماء کے نزدیک ناخن پالش اگر عورت کی زینت مان لی جائے تو پھر ایسی صورت میں اگر ازالہ میں دشواری نہ ہو تو وضو اور غسل کے لیے ازالہ ضروری ہوگا، اور اگر ازالہ میں حرج ہو لیکن اس کی تہہ نہ بنی ہو تو پھر اس کا حکم مہندی کی طرح ہو گا اور تہہ بن جانے کی صورت میں اس کے ازالہ میں حرج ہو تو موجبِ حرج ہو نے کی وجہ سے پا نی کا ایصال ضروری نہیں ۔ (فتاوی حقانیہ:
۲
/
۵۰۱
) ۔
فتاوی فریدیہ میں ہے:
اگر ناخن پالش چاقو وغیرہ آلات کے بغیر زائل نہیں ہوتا ہے تو پھر حرج کی وجہ سے وضو اور غسل سے مانع نہ ہوگا ۔ (فتاوی فریدیہ:
۲
/
۵۲
) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
احتیاط ازالہ میں ہے البتہ بقا کی صورت میں بھی گنجائش ہے ۔ (فتاوی فریدیہ:
۲
/
۵٤
) ۔
البتہ دوسرے علماء کے نزدیک ناخن پالش وضو اور غسل کے لیے مانع ہے ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی:
۲
/
۲٦
، و جدید فقہی مسائل:
۱
/
۸۷
) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.