بالوں پر ایک خاص قسم کا مواد لگانے سے وضو اور غسل کا حکم:
Question
آج کل بالوں کو ٹھیک کرنے کے لیے ایک خاص قسم کا مواد استعمال کیا جاتا ہے، جو بالوں کو جما دیتا ہے جس کو انگریزی میں (Brasil Cacau Keratin) کہا جاتا ہے، اور عام طور پر یہ تین مہینے تک باقی رہتا ہے، اس کے ازالہ کا کوئی آسان طریقہ نہیں، اب جو لوگ استعمال کرتے ہیں ان کی طہارت، وضو، غسل اور نماز وغیرہ کی صحت کا کیا مسئلہ ہوگا؟ کیا اس کا استعمال جائز ہوگا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر اس مواد کی پلاسٹر کی طرح تہہ بن جاتی ہے تو مشہور قول کے موافق جمہور علماء کے نزدیک مانع وضو و غسل ہے لہٰذا اس کو زائل کیے بغیر وضو اور غسل درست نہیں ہوگا، جس کی وجہ سے نماز بھی درست نہیں ہو گی، ہاں بعض علماء کے نزدیک اس کے ازالہ میں حرج ہو تو وضو اور غسل ہو جائے گا، اس کا حکم ناخن پالش کی طرح ہے، لیکن اگر پلاسٹر کی طرح تہہ نہیں بنتی بلکہ مہندی کے رنگ کی طرح ہے تو پھر کسی کے نزدیک اس کا ازالہ ضروری نہیں ۔ تاہم ایسی مشکوک چیزوں کے استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ولا يمنع ما علي ظفر صباغ ولا طعام بين أسنانه أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل: إن صلبا منع وهو الأصح. وفي رد المحتار: قوله وإن صلبا، أي إن كان ممضوغاً مضغاً متأكداً بحيث تداخلت أجزاؤه وصار له لزوجة وعلاكة كالعجين شرح المنية، قوله وهو الأصح صرح به في شرح المنية وقال: لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورة والحرج. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۱۵٤، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
والدرن اليابس في الأنف يمنع تمام الغسل كذا في الزاهدي، والعجين في الظفر يمنع تمام الاغتسال والوسخ والدرن لا يمنع
والتراب والطين في الظفر لا يمنع والصرام والصباغ ما في ظفرهما يمنع تمام الاغتسال وقيل كل ذلك يجزيهم للحرج والضرورة ومواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع كذا في الظهيرية. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۳).
قال في البحر: ولو لصق بأصل ظفره طين يابس وبقي قدر رأس إبرة من موضع الغسل لم يجز. (البحر الرائق: ۱/۱٤، ط: دار المعرفة، وفتح القدير: ۱/۱٦، دار الفكر).
احسن الفتاوی میں ہے:
جو چیز بدن تک پانی پہنچنے سے مانع ہو اس کی موجود گی میں وضو اور غسل صحیح نہیں ہوتا اگر بال برابر بھی جگہ خشک رہ گئی تو وضو اور غسل نہ ہوگا، حضراتِ فقہاء رحمه الله نے گوندھے ہوئے خشک آٹے کو صحتِ وضو سے مانع قرار دیا ہے حالانکہ وہ ناخن پالش جتنا سخت نہیں اور اس کی ضرورت بھی ہے تو ناخن پالش کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے، جتنی بھی نمازیں ناخن پالش لگا کر پڑھی ہیں وہ واجب الاعادہ ہیں اور ساتھ ساتھ توبہ و استغفار بھی کرے ۔ (احسن الفتاوی: ۲/۲٦، ط: سعید) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
واقعی ضرورت کے بغیر ایسی چیز لگا لینا جو پانی کو جسم تک پہنچنے نہ دے وضو کے درست ہونے میں رکاوٹ ہے ۔ وضو اسی وقت صحیح ہوگا جب اس کو کھرچ دیا جائے اس قسم کے پینٹ جو خواتین لگایا کرتی ہیں ضرورت نہیں ہیں، محض زینت ہیں ۔ اس لیے وضو کرتے وقت ضروری ہوگا کہ ان کو کھرچ کر تہہ تک پانی پہنچایا جائے ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے:
أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز. (
جدید فقہی مسائل: ۱/۸۷، ط: نعیمیہ) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (کتاب المسائل: ۱/۱۷۷، ط: کتب خانہ نعیمیہ) ۔
بعض علماء کے نزدیک ازالہ میں حرج ہو تو مانع نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو : فتاوی حقانیہ میں ہے:
موجود ہ دور کے نامور علماء ناخن پالش کے عدمِ جواز کے قائل ہیں، کیوں کہ ناخن پالش سے ناخن کا جسم مستور ہو کر وضو اور غسل میں اس کو پانی پہنچنا ممکن نہیں رہتا، اس لیے گوندھے ہوئے آٹے کی طرح مانع وضو اور غسل ہے، لیکن بعض دوسرے علماء کے نزدیک ناخن پالش اگر عورت کی زینت مان لی جائے تو پھر ایسی صورت میں اگر ازالہ میں دشواری نہ ہو تو وضو اور غسل کے لیے ازالہ ضروری ہوگا اور اگر ازالہ میں حرج ہو لیکن اس کی تہہ نہ بنی ہو تو پھر اس کا حکم مہندی کی طرح ہوگا اور تہہ بن جانے کی صورت میں اس کے ازالہ میں حرج ہو تو موجبِ حرج ہونے کی وجہ سے پانی کا ایصال ضروری نہیں ۔ (فتاوی حقانیہ: ۲/۵۰۱) ۔
فتاوی فریدیہ میں مرقوم ہے:
اگر ناخن پالش چاقو وغیرہ آلات کے بغیر زائل نہیں ہوتا ہے تو پھر حرج کی وجہ سے وضو اور غسل سے مانع نہ ہوگا، دوسری جگہ مذکور ہے: احتیاط ازالہ میں ہے البتہ بقا کی صورت میں بھی گنجائش ہے ۔ (فتاوی فریدیہ: ۲/۵۲ و ۵٤) ۔
فتاوی دار العلوم کراچی میں بدرجہ مجبوری وضو اور غسل کی صحت کو تسلیم کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو :
ناخن پالش ایک سیال مادہ ہے جو ناخنوں پر لگانے کے بعد جم جاتا ہے اور پانی کے پہنچنے سے مانع ہوتا ہے لہٰذا وضو اور غسل میں اس کا چھڑانا ضروری ہے اس کی موجود گی میں وضو اور غسل نہیں ہوگا، آج کل ایسا کیمیکل بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے، جس سے ناخن پالش آسانی سے صاف ہو جاتا ہے، البتہ اگر ایسا کیمیکل بھی اس وقت موجود نہ ہو جس سے ناخن پالش صاف ہو سکتا ہو اور کوشش کے باوجود وہ رنگ نہ اتر رہا ہو اور دوسری طرف نماز کے فوت ہونے کا بھی خطرہ ہو اور فی الحال اُتارنا ممکن نہ ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں ناخن پالش کے باوجود مجبوری کی وجہ سے وضو اور غسل ہو جائے گا ۔ (فتاوی دار العلوم کراچی: ۱/۵۱۹) ۔
لیکن اکثر علمائے کرام کے نزدیک مانع وضو و غسل ہے، لہٰذا محتاط قول پر عمل کرنا چاہیے، تاکہ عبادت کا اہم فریضہ بالیقین ذمہ سے فارغ ہو ۔
قال العلامة السرخسي رحمه الله في المبسوط: وفي العبادات يؤخذ بالاحتياط. (۱/٤۵۲، ط: دار الفكر، و۳۰/۱۹٤).
وللاستزادة انظر: الفتاوى الهندية ۱/۱۲٤، والبحر الرائق: ۱/۳۲، دار المعرفة، واللباب في شرح الكتاب: ۱/۲۹، ط: دار الكتاب العربي، وفتاوى الشامي: ۲/۳٦٦، سعيد، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ۱۵۲، ط؛ مصر، والعناية شرح الهداية).
حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب رحمه الله رقم طراز ہیں:
امام اعظم رحمه الله کا مزاج یہ ہے کہ وہ عبادات کے باب میں اُس نص پر مسئلہ کا مدار رکھتے ہیں جس میں احتیاط ہوتی ہے اور یہاں احتیاط یہ ہے کہ جمہور کی رائے کے مطابق عمل کیا جائے ۔ (تحفۃ الالمعی: ۱/٤٤۰، ط: زمزم، بتغیر یسیر) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.