سونے کا دانت یا خول لگوایا ہو تو وضو اور غسل کا حکم:
Question
کسی نے سونے کا دانت بغیر ضرورت کے لگوا لیا یا دانت پر سونے کا خول بلا ضرورت چڑھوا لیا تو اس کا وضو اور غسل ہو گا یا نہیں؟
Answer
سونے کا دانت لگوانے میں چونکہ فقہاء کا اختلاف ہے تو جب تک کوئی واقعی ضرورت نہ ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیے، مگر جب لگوا ہی لیا اور بغیر مشقت کے نکال نہیں سکتا تو یہ بدن کے ایک جز کی طرح ہو گا، لہذا غسل سے مانع نہیں ہو گا ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
امام اعظم کے نزدیک چاندی کی میخ، پترہ، دانت لگوانا جائز ہے لیکن سونے کی میخ پترہ لگوانا جائز نہیں ہے۔ امام محمد کے نزدیک سونے کی میخ وغیرہ بھی درست ہے۔ سونے کی میخ سے اختلاف کی وجہ سے اجتناب احوط ہے۔ (فتاوی محمودیہ: ۵/ ۲۱۸)۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
قال محمد في الجامع الصغير: ولا يشد الأسنان بالذهب ويشدها بالفضة وهو قول أبي حنيفة وقال محمد: يشدها بالذهب أيضاً وذكر الحاكم في المنتقي لو تحركت سن رجل وخاف سقوطها فشدها بالذهب أو بالفضة لم يكن به بأس عند أبي حنيفة وأبي يوسف وروى الحسن عن أبي حنيفة أنه فرق بين السن والأنف. (الفتاوى الهندية: ۵/ ۳۳٦).
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
دانتوں کے اوپر سونا یا اس کے ہم شکل دھات سے بنائے ہوے کور چڑھانا جائز ہے اور ایسی حالت میں اس کا وضو اور غسل ہو جاتا ہے، جو چیز اس طرح پیوست ہو جائے کہ اس کا نکالنا ممکن نہ ر ہے، مثلاً دانتوں پر سونے چاندی کا خول اس طرح جما دیا جائے کہ وہ اتر نہ س کے تو اس کے ظاہر ی حصہ کو دانت کا حکم دیا جائے گا اور اس کو اتارے بغیر غسل جائز ہو گا۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۲/ ۵۲)۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
جبکہ بطور علاج دانت کے سوراخوں میں چاندی یا سونا ڈال کر انہیں بند اور پر کر دیا جاتا ہے تو وہ ڈالی ہوئی چیز بدن کا جز بن جاتی ہے اور غسل اور وضو میں اس چیز کو پانی پہنچانا کا فی ہو جاتا ہے۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/ ۱۰)۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولو کان سنه مجوفاً فبقي فيه أو بين أسنانه طعام أو درن رطب في أنفه تم غسله على الأصح کذا في الزاهدي. (الفتاوى الهندية: ۱/ ۱۳).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.